Back to Articles
Youth with Zero Skills

لہجہ انگریزی، قابلیت زیرو؟

June 16, 20262 min read1 viewsBy Mohsin Moten

میں کئی سال سے مختلف کمپنیوں اور اداروں میں کام کرتا آ رہا ہوں، اور ایک چیز دیکھ کر دل کو بہت دکھ ہوتا ہے کہ جب انٹرویوز (Interviews) میں نوجوان ہمارے سامنے آتے ہیں تو ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔

ڈگریاں موجود ہوتی ہیں، وہ بھی بڑی بڑی جامعات (Universities) سے۔ سی وی (CV) خوبصورت انداز میں تیار کیا ہوا، اعتماد بھی بظاہر نمایاں… مگر جب عملی سوال کیا جائے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ نے میدانِ عمل میں کیا سیکھا ہے؟ تو جواب سطحی اور کمزور محسوس ہوتا ہے۔

افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ زیادہ توجہ انگریزی بولنے پر ہوتی ہے۔ انٹرویو کے دوران منہ گھول گھما کر، نئے نئے الفاظ استعمال کر کے، لہجے اور انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر جب کام کی نوعیت، ذمہ داری یا مسئلہ حل کرنے کی بات آئے تو سمجھ کی کمی واضح ہو جاتی ہے۔

مجھے حیرت بھی ہوتی ہے کہ ہماری جامعات آج کل بھاری فیسیں وصول کر رہی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ عملی طور پر کیا پیدا (Produce) کر رہی ہیں؟ کیا وہ ایسے نوجوان تیار کر رہی ہیں جو اداروں کے لیے حقیقی اثاثہ بن سکیں؟ یا صرف ڈگری ہولڈر (Degree Holder) تیار ہو رہے ہیں؟

تعلیمی اداروں کو طلبہ کی حقیقی تعلیمی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف نصاب مکمل کروا دینا کافی نہیں، بلکہ صلاحیت (Talent)، مہارت (Skill) اور عملی تجربہ (Experience) پیدا کرنا ضروری ہے۔

اور جب ایسے نوجوانوں کو ملازمت دے بھی دی جائے تو بعد میں بھی زیادہ زور پریزنٹیشنز (Presentations) اور انگریزی اندازِ گفتگو پر ہوتا ہے، جبکہ اصل کارکردگی (Performance) وہ معیار حاصل نہیں کر پاتی جس کی ادارے کو ضرورت ہوتی ہے۔

میرے نوجوان دوستو!

زبان ایک ذریعہ ہے، کامیابی کی ضمانت نہیں۔ انگریزی سیکھنا اچھی بات ہے، مگر صرف زبان پر انحصار کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

اب وقت بدل چکا ہے۔ ادارے لہجہ نہیں، نتیجہ دیکھتے ہیں۔ الفاظ نہیں، عمل دیکھتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو صرف انگریزی آتی ہو اور کام نہ آتا ہو تو ادارہ نقصان اٹھاتا ہے۔ اسی لیے آج سمجھدار کمپنیاں زبان سے زیادہ قابلیت کو ترجیح دیتی ہیں۔

میں دل سے گزارش کروں گا:

✔ اپنے ہنر کو پہچانیں۔

✔ اپنے شعبے میں مہارت پیدا کریں۔

✔ عملی میدان میں سیکھیں۔

✔ تعلیم کو گہرائی سے حاصل کریں۔

منہ گھول گھما کر اسٹائل سے انگریزی بولنے سے وقتی تاثر تو قائم ہو سکتا ہے، مگر دیرپا کامیابی صرف قابلیت، محنت اور سچائی سے حاصل ہوتی ہے۔

یاد رکھیں، زبان دروازہ دکھا سکتی ہے…

مگر اندر جگہ آپ کی مہارت ہی بناتی ہے۔

از قلم: محسن موٹن

youth-skills-gappractical-learning-importancejob-interview-challengesgraduate-unemployment-causesskill-based-educationprofessional-development-tipscareer-readiness-skillseducation-system-flawslack-of-experiencefresh-graduate-adviceemployability-skills-training

Mohsin Moten

Retail Business Expert · Motivational Speaker · Writer

Youth without Skills | Urdu blog By Mohsin Moten