یہ میری ذاتی رائے ہے، نہ میں کوئی فتویٰ دے رہا ہوں اور نہ ہی کسی پر اپنی بات مسلط کر رہا ہوں۔ میری ناقص رائے میں کم از کم یومِ عاشور کو انتہائی ادب، احترام اور سنجیدگی کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
محرم الحرام کے یہ ایام ہمیشہ سے احترام والے دن رہے ہیں۔ خصوصاً عاشورہ کا دن اسلام میں ایک عظیم نسبت اور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دن کے روزے کی بھی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"
(صحیح مسلم)
میری رائے میں یہ دن سیر و تفریح، پکنک اور غیر ضروری مشاغل میں گزارنے کے بجائے ادب، احترام، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، دعا اور عبادت کی طرف توجہ دینے کے ہیں۔
یہ دن شہدائے کربلا کی نسبت سے بھی انتہائی اہم ہیں۔ میدانِ کربلا میں امام حسینؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ تاریخِ انسانیت کے المناک واقعات میں سے ہے کہ نبی کریم ﷺ کے نواسے اور آپؐ کے اہلِ بیتؓ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ظلم کی مذمت ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔ جس کے دل میں ایمان اور محبتِ رسول ﷺ ہے، وہ اس سانحۂ عظیم پر یقیناً رنج و افسوس محسوس کرتا ہے۔
البتہ شہادتِ حسینؓ کا پیغام صرف غم ہی نہیں بلکہ حق پر ثابت قدمی، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، دین کی خاطر قربانی دینے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا بھی پیغام ہے۔ اسی لیے عاشورہ کا دن ہمیں اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنے تعلقِ الٰہی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔
میری ناقص رائے میں اگر ان تعطیلات میں کہیں وقت گزارنا ہی مقصود ہو تو پکنک، سیر و تفریح اور غیر ضروری مصروفیات کے بجائے دینی و تبلیغی اسفار میں وقت گزارنا زیادہ بہتر ہے، جہاں انسان اپنے دین کو سیکھے، اپنی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابۂ کرامؓ اور تمام صالحین کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر: محسن موٹن

Comments
Loading comments…