Wasiyat Na Karne ka Anjaam

Wasiyat Na Karne ka Anjaam

July 22, 20263 min read0 viewsBy Mohsin Moten

لیکن جیسے ہی ان کا انتقال ہوا، حالات بدل گئے….

میں ایک سوشل ورکر (Social Worker) ہوں، اور اکثر ایسے خاندان میرے پاس آتے ہیں جن کے وراثت، جائیداد اور گھریلو تنازعات ہم عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے صلح و محبت سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

کئی سال پہلے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی ایک بڑی سرمایہ کاری (Investment) اپنے گھر والوں سے بھی مخفی رکھی تھی۔ وہ رقم انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست کے پاس اعتماد کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ جب تک وہ زندہ رہے، دوست ایمانداری سے ان کا حساب دیتا رہا۔

لیکن جیسے ہی ان کا انتقال ہوا، حالات بدل گئے۔

دوست جانتا تھا کہ مرحوم کے اہلِ خانہ کو اس سرمایہ کاری کا کوئی علم نہیں، اس لیے اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ نہ اس نے خود بتایا، نہ وہ مال ورثاء تک پہنچایا۔

ادھر مرحوم کے گھر میں حالات دن بدن مشکل ہوتے گئے۔ ان کے بچے اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ والد کے سائے کے بغیر انہوں نے مالی تنگی میں زندگی گزاری، تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات برداشت کیں، اور بیوہ نے بے شمار آزمائشیں جھیلیں۔

پھر تقریباً پندرہ بیس سال بعد، اس دوست کی زندگی کے آخری ایام آئے۔ شاید ضمیر جاگ گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے اعتراف کیا کہ مرحوم کی اتنی رقم میرے پاس بطور سرمایہ کاری موجود تھی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ بات وقت پر معلوم ہو جاتی تو شاید ان بچوں کی زندگی مختلف ہوتی۔ وہ تعلیم، علاج اور زندگی کی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکتے تھے، کیونکہ وہ مال انہی کا حق تھا۔

یاد رکھیں، انسان کے انتقال کے بعد اس کا مال اس کی ملکیت نہیں رہتا بلکہ ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد، سرمایہ کاری، بینک اکاؤنٹس یا دیگر اثاثوں کی وضاحت کیے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ اپنے پیچھے صرف الجھنیں نہیں بلکہ بعض اوقات بہت بڑے گناہ بھی چھوڑ جاتا ہے۔ ورثاء اپنے حق سے محروم رہتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں، مقدمے بنتے ہیں، اور دلوں میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔

اس لیے ہر صاحبِ مال کو چاہیے کہ اپنی تمام جائیداد، سرمایہ کاری، بینک اکاؤنٹس، کاروباری شراکتیں اور قرض وغیرہ واضح طور پر تحریری شکل میں درج کرے، اور اپنے اہلِ خانہ کو ان سے آگاہ بھی کرے۔ یہ صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی امانت بھی ہے۔

یاد رکھیں!

مرنے کے بعد آپ کا مال آپ کا نہیں رہتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وارثوں کا حق بن جاتا ہے۔ اس حق کو چھپانا یا اس کے ضائع ہونے کا سبب بننا، آخرت میں جواب دہی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحریر: محسن موٹن

Mohsin Moten

Retail business Expert - Motivational Speaker - Writer

Comments

Loading comments…