بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنی زندگی میں باقاعدہ وصیت نہیں لکھتے، اور اچانک دنیا سے رخصت ہو کر ایک بڑی ذمہ داری اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ورثاء کے درمیان جھگڑے، بدگمانیاں اور حقوق کی پامالیاں جنم لیتی ہیں۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وصیت لکھنے کا مطلب صرف یہ لکھ دینا ہے کہ "میری جائیداد قرآن و سنت کے مطابق تقسیم کر دی جائے" یا "میرے مال کا ایک حصہ فلاں نیکی کے کام میں لگا دیا جائے، باقی شریعت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔" حالانکہ صرف اتنا لکھ دینا کافی نہیں۔
وصیت کا ایک نہایت اہم حصہ یہ ہے کہ انسان اپنے تمام مالی اثاثے واضح طور پر تحریر کرے۔ مثلاً بینک اکاؤنٹس، نقد رقم، سونا، جائیدادیں، کاروباری سرمایہ، گاڑیاں، شیئرز، سرمایہ کاری، قرضے (جو لینے یا دینے ہوں)، لاکرز، اور دیگر تمام مالی اثاثے اور ذمہ داریاں۔
افسوس کہ بہت سے مرد اور خواتین اپنے مالی معاملات حتیٰ کہ اپنی بیوی، بچوں اور قریبی گھر والوں سے بھی پوشیدہ رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مرحوم کے پاس کتنی دولت، کون سے اکاؤنٹس یا کون سے اثاثے موجود تھے۔ جب انسان وفات پا جاتا ہے تو وہ ان اموال کا مالک نہیں رہتا، بلکہ وہ مال شرعی طور پر ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ اگر مرحوم نے اپنے اثاثے واضح نہ کیے ہوں تو عین ممکن ہے کہ ورثاء اپنے جائز حق سے محروم رہ جائیں، اور بعض اوقات وہ مال ضائع ہو جائے یا دوسروں کے قبضے میں چلا جائے۔ اس طرح مرنے والا لوگوں کے حقوق کے معاملے میں جواب دہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ زندگی ہی میں اپنی وصیت مرتب کرے، اپنے تمام اثاثوں اور ذمہ داریوں کی مکمل فہرست لکھے، اور وقتاً فوقتاً اسے اپ ڈیٹ بھی کرتا رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
«"کسی مسلمان کے لیے، جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو، یہ مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔"»
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الوصایا، حدیث 2738؛ صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ، حدیث 1627۔
تحریر: محسن موٹن

Comments
Loading comments…