Ulma Aur Elite Class

Ulma Aur Elite Class

July 14, 20264 min read1 viewsBy Mohsin Moten

آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب معیار قائم ہو چکا ہے۔

اگر کسی کے پاس دولت ہو، وہ مہنگی گاڑی میں سفر کرتا ہو، اچھی انگریزی بول لیتا ہو، جدید لباس پہنتا ہو اور معاشرے کے ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتا ہو، تو اکثر وہ خود کو کامیاب اور دوسروں سے زیادہ سمجھدار تصور کرنے لگتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ علماء، مشائخ اور مدارس کو فرسودہ نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علماء کی باتیں صرف ماضی کی کہانیاں ہیں، جبکہ کامیابی صرف جدید دنیا کے بنائے ہوئے اصولوں میں ہے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ علماء آخر ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

کیا وہ اپنی ذاتی آراء پیش کرتے ہیں؟

ہرگز نہیں۔

علماء ہمیں اس اللہ کا کلام سناتے ہیں جس نے اس پوری کائنات کو پیدا فرمایا، جو انسان کے ظاہر و باطن، ماضی و مستقبل اور دنیا و آخرت کو ہم سب سے بہتر جانتا ہے۔ وہ ہمیں قرآن کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی کس میں ہے۔

اور جب وہ احادیثِ نبوی ﷺ بیان کرتے ہیں تو وہ کسی عام انسان کی بات نہیں، بلکہ اس عظیم ہستی کی تعلیمات پہنچا رہے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین ﷺ اور تمام انبیاء کے امام بنا کر بھیجا۔ جن کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا۔

کیا اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ غلط ہو سکتا ہے؟

کیا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات انسان کو ناکامی کی طرف لے جا سکتی ہیں؟

یقیناً نہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔ لیکن اسلام صرف آخرت کی کامیابی کی بات نہیں کرتا، بلکہ دنیا کی عزت، سکون، برکت، بہترین کاروبار، مضبوط خاندان، اعلیٰ کردار اور حقیقی کامیابی بھی قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ تھوڑا سا مال، چند انگریزی جملے اور جدید طرزِ زندگی اختیار کرکے خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں، اور قرآن و حدیث کی تعلیمات یا علماء کی رہنمائی کو پرانا اور غیر متعلقہ قرار دیتے ہیں۔

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

جب یہی ایلیٹ طبقہ تعصب چھوڑ کر علماء کی صحبت میں بیٹھتا ہے، دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور قرآن و سنت کو کھلے دل سے سنتا ہے، تو اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ علماء دنیا سے دور کرنے نہیں آئے، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ دکھانے آئے ہیں۔

اس کی ایک روشن مثال حضرت مولانا عبد الستار صاحب ہیں۔ تلہ گنگ کے ایک سادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس عالمِ دین نے کراچی کے ڈیفنس جیسے علاقے میں ہزاروں نوجوانوں، کاروباری شخصیات اور معاشرے کے بااثر افراد کی زندگیاں بدل دیں۔ ان کے قائم کردہ ادارے بیت السلام میں طلبہ صرف دینی علوم ہی حاصل نہیں کرتے بلکہ O Level، A Level، سائنس، روبوٹکس، کھیل اور دیگر میدانوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ وہاں سے نکلنے والے نوجوان دین اور دنیا دونوں میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

اسی طرح مولانا شاہزیب صاحب، جو LUMS سے فارغ التحصیل ہیں، Hikmah Institute کے ذریعے پروفیشنلز، کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ افراد، O Level اور A Level کے طلبہ اور معاشرے کے ایلیٹ طبقے تک قرآن و سنت کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ ان کی محنت سے بے شمار نوجوانوں کی سوچ اور زندگیاں بدل چکی ہیں۔ وہ اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دین اختیار کرنا دنیا کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزارنا ہے۔

اسی طرح مولانا اظہر اقبال صاحب، جو Hidayah Academy کے ذریعے پروفیشنلز، یونیورسٹی کے طلبہ، O Level اور A Level کے نوجوانوں کی تربیت کر رہے ہیں، اس حقیقت کی ایک اور روشن مثال ہیں کہ علماء معاشرے کو پیچھے نہیں لے جاتے بلکہ صحیح سمت عطا کرتے ہیں۔ ان کی صحبت میں آنے والے بے شمار افراد نے نہ صرف دین کو سمجھا بلکہ اپنی دنیاوی زندگی، کاروبار، کردار اور خاندانی معاملات میں بھی مثبت تبدیلی محسوس کی۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ علماء انسان کو دنیا سے کاٹنے نہیں آتے، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ دکھاتے ہیں۔

لہٰذا اگر ہم واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں علماء کے بارے میں سنی سنائی باتوں پر رائے قائم کرنے کے بجائے ان کی مجالس میں بیٹھنا چاہیے، ان کے اداروں کا دورہ کرنا چاہیے، ان سے سوال کرنے چاہئیں اور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ایک حقیقی عالمِ دین کون ہوتا ہے۔

ممکن ہے پھر ہمیں احساس ہو جائے کہ جنہیں ہم فرسودہ سمجھ رہے تھے، درحقیقت وہی ہمیں اس راستے کی طرف بلا رہے ہیں جس میں دنیا کی عزت بھی ہے، سکون بھی، کامیابی بھی، اور ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت بھی۔

از قلم: محسن موٹن

hazrat-umar-simplicityhazrat-ali-asceticismislamic-lectures-abroadpakistani-religious-eventsluxury-islamic-gatheringslessons-from-sahabaworldly-detachment-islamislamic-scholars-lifestylehazrat-fatima-patience5-star-hotel-bayanislamic-teachings-simplicityulma-aur-elite-classreligious-scholars-vs-modernityislamic-education-systemelite-class-mindsetmadrasa-education-importancemodernization-vs-religionrole-of-ulma-in-societysocial-status-and-wealthreligious-values-pakistantraditional-vs-modern-successrespect-for-scholars

Mohsin Moten

Retail business Expert - Motivational Speaker - Writer

Comments

Loading comments…

Ulma Aur Elite Class