Talaq ko Kese Roka | Real Urdu Story by Mohsin Moten

رات کے تقریباً دو بجے تھے۔ میرا فون مسلسل بج رہا تھا۔ نیند میں آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک بہت ہی قریبی ساتھی کی کال تھی۔

July 24, 20264 min read15 viewsBy Mohsin Moten

میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے غصے سے بھری آواز آئی:

"محسن بھائی! میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں۔ مجھے ابھی، اسی وقت آپ سے ملنا ہے۔ پلیز باہر آ جائیں۔"

میں فوراً سمجھ گیا کہ معاملہ معمولی نہیں۔ ایسے وقت میں کسی اپنے کو مشکل میں چھوڑ کر دوبارہ سونا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔

میں جلدی سے باہر آیا۔

وہ شدید غصے میں تھا۔ اس نے کہا:

"محسن بھائی! میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں آپ سے مشورہ کیا ہے، شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی۔ لیکن آج میں ایک فیصلہ کر چکا ہوں… میں ابھی جا کر اپنی دو ماہ کی دلہن کو طلاق دینے والا ہوں۔"

اس کی آنکھوں میں غصہ تھا، لہجہ سخت تھا، اور میں جانتا تھا کہ یہ وہ لمحہ نہیں جس میں لمبی نصیحت اثر کرے۔

میں نے صرف ایک سوال کیا:

"طلاق دے کر کیا ہوگا؟"

اس نے کہا:

"ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی، الگ ہو جائیں گے۔"

میں نے کہا:

"اگر صرف ایک دوسرے سے دور ہونا مقصد ہے، تو یہ کام طلاق دیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔"

وہ حیران ہو کر بولا:

"کیسے؟"

میں نے کہا:

"آج رات اپنی اہلیہ کو عزت کے ساتھ اس کے والدین کے گھر چھوڑ آؤ، لیکن طلاق مت دو۔ کچھ دن کا فاصلہ اختیار کرو۔"

اس نے فوراً پوچھا:

"میں ایسا کیوں کروں؟"

میں نے کہا:

"کیونکہ قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ طلاق آخری حل ہے، پہلا نہیں۔"

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔"

(سورۃ النساء: 35)

یعنی قرآن ہمیں پہلے اصلاح، مصالحت اور حالات کو سنبھالنے کے تمام راستے اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ غصے میں فوراً رشتہ ختم کرنے کی۔

میں نے اس سے کہا:

"غصے میں انسان وہ فیصلے کر لیتا ہے جن پر پوری زندگی پچھتاتا رہتا ہے۔ کچھ دن کی دوری سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرو، ان شاء اللہ برکت ہوگی۔"

شاید یہ میری بات نہیں، قرآن کی بات تھی جس نے اس کے دل کو نرم کر دیا۔

وہ واپس گیا، لیکن اپنی اہلیہ کو طلاق نہیں دی۔ احترام کے ساتھ اسے اس کے والدین کے گھر چھوڑ آیا۔

چند دن گزرے…

غصہ ٹھنڈا ہوا…

دونوں خاندان بیٹھے…

بات چیت ہوئی…

غلط فہمیاں دور ہوئیں…

اور اللہ کے فضل سے صلح ہو گئی۔

آج کئی سال گزر چکے ہیں۔

الحمدللہ، ان کے گھر بچے ہیں، دونوں میاں بیوی ساتھ حج بھی کر چکے ہیں، اور ایک خوشحال اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں…

اگر اس رات غصہ غالب آ جاتا، تو شاید آج ایک آباد گھر بکھر چکا ہوتا۔

شیطان ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ انسان غصے میں ایسا فیصلہ کر لے جس کی واپسی ممکن نہ رہے۔

اسی لیے طلاق سے پہلے سیکڑوں بار سوچیں، قرآن کے بتائے ہوئے تمام مراحل اختیار کریں، خاندان کے بڑوں اور اہلِ علم سے مشورہ کریں، اور صلح کی ہر ممکن کوشش کریں۔

اگر تمام کوششوں کے باوجود نباہ واقعی ممکن نہ رہے، تب بھی شریعت نے طلاق کو ایک منظم اور تدریجی طریقے سے دینے کا حکم دیا ہے، نہ کہ غصے میں ایک ساتھ تین طلاقیں دے کر ہمیشہ کی ندامت خرید لینے کا۔

اپنے غصے کے نہیں، قرآن کے فیصلے پر عمل کیجیے۔ یہی گھروں میں سکون اور زندگی میں برکت کا راستہ ہے۔

✍️ تحریر: محسن موٹن

Mohsin Moten

Retail business Expert - Motivational Speaker - Writer

Comments

Loading comments…

رات کے تقریباً دو بجے تھے۔ میرا فون مسلسل بج رہا تھا۔ نیند میں آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک بہت ہی قریبی ساتھی کی کال تھی۔