آن لائن کاروبار کے حوالے سے میرا پندرہ سالہ تجربہ ہے، اور میں مختلف برانڈز کے لیے ان کے ای کامرس آپریشنز کو لیڈ کر چکا ہوں۔ آج سے تقریباً پندرہ سال پہلے، جب پاکستان میں آن لائن کاروبار کا کوئی خاص تصور موجود نہیں تھا، اُس وقت پاکستان کے ایک بڑے بزنس مین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اُس وقت میں ایم بی اے مکمل کر چکا تھا اور وہ مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں ایک آن لائن کاروبار سیٹ اپ کرنا چاہتے ہیں۔ اُس وقت ہم نے سب سے پہلے ریسرچ (Research) سے آغاز کیا کہ پاکستان میں آن لائن کاروبار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب Daraz بھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھا۔
اپنے اس طویل تجربے کی بنیاد پر میں آج آپ کو ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں آج بھی آن لائن کاروبار مکمل طور پر میچور نہیں ہوا۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آن لائن میں بہت آسانی سے کام ہو جاتا ہے، بہت زیادہ منافع ہے، اور ہر برانڈ بہت زیادہ کمائی کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اگر آپ ایک مضبوط برانڈ بنا کر ایک پروفیشنل آن لائن کاروبار کھڑا کرنا چاہتے ہیں، اپنی پراپر ویب سائٹ لانچ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ای کامرس (E-commerce) کے اندر بے شمار پیچیدگیاں اور چیلنجز موجود ہیں۔ یہ کوئی ایسا کاروبار نہیں جو بغیر سرمایہ کاری کے شروع ہو جائے، بلکہ اس کے لیے بھاری انویسٹمنٹ (Investment)، مسلسل مارکیٹنگ (Marketing)، مضبوط ٹیم، اور بہت زیادہ ریسورسز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے بعد سب سے بڑا مسئلہ “ریٹرن” (Return) کا آتا ہے۔ بڑی محنت اور اخراجات کے بعد جب آرڈرز آنا شروع ہوتے ہیں، تو اُن میں سے ایک بڑی تعداد کسٹمر واپس ریٹرن کر دیتا ہے، جو ای کامرس کاروبار کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف آن لائن مارکیٹنگ (Online Marketing) بھی اب پہلے کی نسبت بہت زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔
لہٰذا جو لوگ آن لائن کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ صرف دوسروں کو دیکھ کر اس میدان میں نہ آئیں، بلکہ بہت سوچ سمجھ کر، مکمل تحقیق کے ساتھ، اور کسی تجربہ کار کنسلٹنٹ (Consultant) یا اچھی کنسلٹنسی (Consultancy) کی رہنمائی میں اس سفر کا آغاز کریں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ آن لائن کے تمام کاروبار نقصان میں ہیں، لیکن میں پورے یقین کے ساتھ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک پراپر برانڈیڈ ای کامرس کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو اس وقت تقریباً اسی فیصد ایسے کاروبار خسارے یا مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ صرف بیس فیصد لوگ ہی مضبوط ریسرچ، درست حکمتِ عملی، اور وسیع تجربے کی بنیاد پر کامیابی حاصل کر پاتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ جذبات یا وقتی رجحانات میں آ کر اپنا سرمایہ ضائع نہ کریں، بلکہ مکمل تیاری، صحیح پلاننگ (Planning)، اور درست رہنمائی کے ساتھ اس فیلڈ میں قدم رکھیں تاکہ بڑے نقصانات سے بچ سکیں۔
از قلم: محسن موٹن
#MohsinMoten #ecommerce #ecommercebusiness #EcommerceGrowth #onlinebusiness #onlineshop #ecommercetips #Pakistan
