میری یادداشت میں میرے والد صاحب کے حوالے سے کوئی یاد موجود نہیں، کیونکہ جب میں صرف تین سال کا تھا تو میرے والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ میں نے اپنے والد صاحب کو اپنی زندگی کے سفر میں نہیں دیکھا، بس تصویروں میں دیکھا ہے اور اپنی والدہ، بڑے بھائی بہنوں سے ان کے بارے میں سنا ہے۔
میں نے سنا ہے کہ میرے والد صاحب ایک بہت خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بہت ذمہ دار تھے، اپنی اولاد سے بہت محبت کرتے تھے اور اپنے خاندان کا بہت خیال رکھتے تھے۔
مجھے اپنے بچپن کی بہت سی باتیں یاد نہیں، لیکن گھر والوں سے سنا کہ وہ مجھ سے خاص محبت کرتے تھے، شاید اس لیے کہ میں گھر کا سب سے چھوٹا بچہ تھا، اپنے بہن بھائیوں میں سب سے آخر میں۔
آج میں خود بچوں کا باپ ہوں، اور عام طور پر انسان اپنے باپ کو دیکھ کر سیکھتا ہے کہ باپ کیسے بنتا ہے، بچوں سے کیسے محبت کرنی ہے اور ان کی تربیت کیسے کرنی ہے۔ لیکن میں نے یہ سب اپنے والد صاحب کو دیکھ کر نہیں سیکھا، بلکہ کتابوں سے، لوگوں کے تجربات سے اور دوسروں کے والدین کو دیکھ کر سمجھا کہ ایک باپ کی محبت کیا ہوتی ہے۔
کبھی کبھی دل میں ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ مجھے وہ لمحات یاد نہیں جو ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ گزارتا ہے، کیونکہ میں بہت چھوٹی عمر میں باپ کے سائے سے محروم ہو گیا تھا۔
لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ میرا رب جو قرآن میں بار بار یتیموں کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ جو اللہ دوسروں کو یتیموں کا سہارا بننے کا حکم دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے؟
میں نے ہمیشہ خود کو اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں میں گھرا ہوا پایا۔ شاید میرے بچپن کی کمی کو اللہ نے اپنی محبت سے پورا کیا۔
میری والدہ میرے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ وہی میری ماں بھی ہیں اور میرے لیے باپ کا سایہ بھی۔ انہوں نے ماں بن کر محبت دی اور باپ بن کر ہماری تربیت کی۔
اللہ میرے والد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور میری والدہ کو صحت، خوشیاں اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments
Loading comments…