Back to Articles
Kia Shaadi k Baad Beti Paraaye Hojati Hai?

"کیا شادی کے بعد بیٹی واقعی پرائی ہو جاتی ہے؟"

June 16, 20262 min readBy Mohsin Moten

ہمارے معاشرے میں ایک سوچ بڑی عام ہے کہ بیٹی جب رخصت ہو جائے تو وہ “پرائی” ہو جاتی ہے۔ جیسے اس کی اپنی پہچان، اس کا اپنا درد، اور اس کی اپنی آواز سب کچھ بدل جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے صاف لفظوں میں یہ بھی جتا دیا جاتا ہے کہ اب اس کا اصل تعلق صرف سسرال سے ہے، اور ماں باپ صرف رسم و رواج تک محدود رہ جاتے ہیں۔

یہ سوچ ایک طرف تو رشتوں کو خودمختاری دیتی ہے تاکہ ہر مسئلے میں مداخلت نہ ہو، لیکن دوسری طرف یہ ایک خطرناک حد تک بیٹی کو تنہا بھی کر دیتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شادی رشتہ بدلتی ہے، مگر رشتہ ختم نہیں کرتی۔

ایک بیٹی جب اپنے ماں باپ کے گھر سے جاتی ہے تو وہ صرف گھر نہیں چھوڑتی، وہ اپنا بچپن، اپنی یادیں اور اپنا سہارا پیچھے چھوڑتی ہے۔ ایسے میں اگر اسے یہ احساس بھی دے دیا جائے کہ اب وہ مکمل طور پر “پرائی” ہو گئی ہے تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بہت سی بیٹیاں خاموشی سے ظلم سہتی ہیں۔ سسرال میں مسائل ہوتے ہیں، تکلیفیں ہوتی ہیں، لیکن وہ اپنے ماں باپ کو اس لیے نہیں بتاتیں کہ کہیں انہیں یہ نہ سننا پڑے: “اب تم وہاں کی ہو، خود سنبھالو۔” یہی خاموشی بعض اوقات بڑے حادثات کا سبب بن جاتی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مسئلے میں بیٹی کے ساتھ اندھی حمایت بھی درست نہیں۔ اگر ہر بات پر اسے یہ یقین دیا جائے کہ ماں باپ ہر صورت اس کی طرف کھڑے ہوں گے، تو بعض اوقات وہ نادانستہ طور پر رشتوں کو بگاڑنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ رشتہ چلانے کے لیے حکمت، برداشت اور سمجھداری ضروری ہے۔

اصل ضرورت اعتدال کی ہے۔ بیٹی کو نہ تو اتنا کمزور بنایا جائے کہ وہ ظلم سہہ کر بھی خاموش رہے، اور نہ ہی اتنا آزاد کہ وہ گھر بسانے کے بجائے ہر مسئلے کو لڑائی میں بدل دے۔ اسے یہ سکھایا جائے کہ وہ اپنے گھر کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرے، مگر اپنی عزت اور اپنی آواز کو دبائے نہیں۔

بیٹی پرائی نہیں ہوتی… وہ صرف ایک نئے گھر کی امانت ہوتی ہے۔ اور امانت کا مطلب چھوڑ دینا نہیں، اس کی حفاظت اور رہنمائی جاری رکھنا ہوتا ہے۔

اگر معاشرہ یہ توازن سمجھ لے تو نہ بیٹیاں ٹوٹیں گی، نہ گھر بکھریں گے۔

از قلم: محسن موٹن

Focus keywordShadi k Baad Beti k Huqooq Urdu blog Mohsin Moten

shaadi-ke-baad-betibeti-parayi-kyundaughter-parent-relationshippost-marriage-family-dynamicsbeti-ki-rukhsatiwomen-rights-after-marriagesouth-asian-marriage-traditionsmaika-aur-sasuralemotional-support-for-daughtersbeti-ki-pehchandaughter-is-not-outsider

Mohsin Moten

Retail Business Expert · Motivational Speaker · Writer

Beti K Huqooq | Urdu blog By Mohsin Moten