Karbala Ka Pegam !! Blog by Mohsin Moten

کیا ہم بھی کسی یزید کو خوش کر رہے ہیں؟

June 26, 20262 min readBy Mohsin Moten

واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی داستان نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام اور ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر کربلا کو صرف دوسروں پر منطبق کرتے ہیں، دوسروں کو یزید اور شمر قرار دیتے ہیں، مگر کبھی اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے کہ کہیں ہم خود بھی کسی باطل قوت کو خوش کرنے کے لیے حق کا سودا تو نہیں کر رہے؟

شمر اور ابنِ زیاد نے یزید کی خوشنودی، اس کے اقتدار اور اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر تاریخ کا ایک ایسا جرم کیا جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی ایسا نہیں ہو رہا؟ کیا ہم اپنے عہدوں، نوکریوں، کاروباروں، شہرت، تعلقات یا دنیاوی فوائد کے لیے حق کو قربان نہیں کر دیتے؟ کیا ہم کبھی لوگوں کی تعریف، مالکان کی خوشنودی یا کسی بااثر شخصیت کی رضا حاصل کرنے کے لیے سچ کو چھپا نہیں لیتے؟

کربلا ہمیں دوسروں پر فتوے لگانے سے پہلے اپنا احتساب کرنا سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ باطل ہمیشہ تلوار لے کر سامنے نہیں آتا، بعض اوقات وہ مفاد، لالچ، خوف، عہدے اور دنیاوی فائدے کی صورت میں بھی آتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے یا مخلوق کی خوشنودی کو۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان کی پہلی وفاداری اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اپنے کاروبار میں، اپنی ملازمت میں، اپنے فیصلوں میں، اپنے تعلقات میں اور اپنی پوری زندگی میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کی رضا کس میں ہے۔ اگر کوئی حکم شریعت کے خلاف ہو، اگر کوئی مطالبہ حق کے خلاف ہو، تو اسے ماننا ضروری نہیں، چاہے وہ کسی طاقتور شخص کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔

کربلا کا پیغام یہ نہیں کہ صرف یزید کو برا کہا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حسینؓ کی طرح حق پر ثابت قدم رہا جائے۔ حق پر ڈٹے رہنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب باطل طاقتور ہو اور حق والے تعداد میں کم ہوں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کامیابی ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، خواہ وقتی طور پر باطل کتنا ہی غالب کیوں نہ نظر آئے۔

آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے: کیا ہم اللہ کی رضا کے لیے زندہ ہیں یا لوگوں کی رضا کے لیے؟ کیا ہم حق کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے مفادات کا؟ کیا ہم حسینؓ کے راستے پر ہیں یا کہیں انجانے میں کسی یزید کی خوشنودی کے لیے حق کو نظر انداز کر رہے ہیں؟

کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق پر ڈٹ جاؤ، چاہے قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو فرما دیتا ہے۔

از قلم: محسن موٹن

karbala-ka-paighammohsin-moten-bloglessons-of-karbalawaqia-e-karbala-lessonspiritual-self-reflectionmodern-day-yazidiyathussaini-ideals-todaybattle-of-karbala-meaningislamic-moral-ethicsstanding-for-justicekarbala-ka-sabaq

Mohsin Moten

Retail business Expert - Motivational Speaker - Writer

Comments

Loading comments…