یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان کی آزادی کی سالگرہ پر پوری قوم، تمام مکاتبِ فکر کے لوگ مل کر اتفاق کے ساتھ جشن مناتے ہیں۔ گھروں، بازاروں اور گلیوں کو جھنڈیوں اور روشنیوں سے سجایا جاتا ہے، بچوں کے دلوں میں وطن کی محبت پیدا کی جاتی ہے اور پاکستان سے اپنی یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس کی نسبت نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے ہے۔ آپ ﷺ کی آمد ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔ تو اگر اس مہینے میں ہم سیرتِ رسول ﷺ کی محافل منعقد کریں، بچوں کو اپنے نبی ﷺ کا تعارف کروائیں، آپ ﷺ کی سنتیں سکھائیں، آپ ﷺ کی تعلیمات بیان کریں اور لوگوں کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کو اجاگر کریں تو اس میں اختلاف کے بجائے اتفاق کی فضا ہونی چاہیے۔
البتہ جشنِ میلاد النبی ﷺ منانے کے طریقۂ کار پر فقہی اختلاف ہوسکتا ہے۔ ہر عمل حدودِ شریعت کے اندر ہونا چاہیے۔ ان محافل کو غیر ضروری رسومات، بدعات، مرد و خواتین کے اختلاط، خواتین کے بے پردہ ہو کر باہر نکلنے اور ایسی تقریبات سے محفوظ رکھنا چاہیے جو شریعت کے منافی ہوں۔
خود نبی کریم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ»
“یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔”
(صحیح مسلم)
اس لیے ربیع الاول میں خصوصاً پیر کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں، بلکہ استطاعت ہو تو پیر اور جمعرات کے نفلی روزوں کی سنت کو زندہ کریں۔
آئیے اس ربیع الاول کو صرف چراغاں اور ظاہری سجاوٹ تک محدود نہ کریں، بلکہ اسے سیرت، سنت اور محبتِ رسول ﷺ کا مہینہ بنائیں۔ زیادہ سے زیادہ سیرت کی محافل کریں، بچوں کو نبی کریم ﷺ کی زندگی سے روشناس کرائیں، آپ ﷺ کی سنتیں سیکھیں اور سکھائیں، اور اپنے دلوں میں یہ احساس تازہ کریں کہ ہمارے نبی ﷺ ہمارے آقا، ہمارے سردار ہیں؛ ہماری جان و مال، ہمارے ماں باپ اور ہماری اولاد سب آپ ﷺ پر قربان ہیں۔
محبتِ رسول ﷺ ضرور ہو، مگر سنت کے ساتھ؛ خوشی ضرور ہو، مگر حدودِ شریعت کے اندر!
از قلم: محسن موٹن

Comments
Loading comments…