آج کل بہت سی کمپنیوں میں ایک رجحان تیزی سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب کوئی ملازم کئی سال تک کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہے تو بعض اوقات مینجمنٹ یہ سوچنے لگتی ہے کہ اب یہ شخص اپنی صلاحیتوں کے مطابق جتنا دے سکتا تھا، دے چکا ہے، اور اب کمپنی کو آگے لے جانے کے لیے نئے دماغ، نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔
یہ سوچ بعض حالات میں درست بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، اور بعض اوقات نئی سوچ واقعی ادارے میں نئی جان ڈال دیتی ہے۔ لیکن ہر جگہ یہی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ ایک تجربہ کار شخص اپنی بصیرت، سمجھ بوجھ اور عملی تجربے کی بدولت کمپنی کو وہ فائدہ پہنچا سکتا ہے جو صرف نئی سوچ سے ممکن نہیں ہوتا۔
ٹاپ مینجمنٹ کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کمپنی جس مقام تک پہنچی ہے، وہاں تک پہنچانے میں انہی پرانے ملازمین کی برسوں کی محنت، وفاداری، قربانی اور لگن شامل ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی عزت اور قدر کرنا صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ثقافت کی بنیاد بھی ہے۔
اسی طرح ہر نئے آنے والے ملازم کی (Orientation) اس انداز میں ہونی چاہیے کہ اس کے دل میں پہلے سے موجود ملازمین کے لیے احترام پیدا ہو۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ آج جس کامیاب کمپنی کا حصہ بنا ہے، اس کامیابی کے پیچھے انہی لوگوں کی برسوں کی محنت شامل ہے۔ اگر وہ ان کے تجربے سے سیکھے گا تو خود بھی زیادہ تیزی سے ترقی کرے گا اور کمپنی بھی مزید آگے بڑھے گی۔
دوسری طرف پرانے ملازمین کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر نیا آنے والا شخص ان کا متبادل نہیں بلکہ ان کا معاون ہو سکتا ہے۔ اس کی آمد سے اپنے آپ کو غیر محفوظ (Insecure) محسوس کرنے کے بجائے اس کے لیے راستے آسان بنانے چاہییں، اس کی رہنمائی کرنی چاہیے اور اسے اپنی ٹیم کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
یاد رکھیں! کوئی انسان کسی دوسرے کا رزق نہیں کھا سکتا۔ رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ ہر شخص اپنا مقدر اور اپنا حصہ لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اس لیے نئے لوگوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو کمپنی کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
اسی طرح نئے ملازمین کو بھی یہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ "پہلے سب کچھ فرسودہ تھا، اب صرف ہم ہی سب کچھ بہتر کریں گے۔" ایسی سوچ احترام کے بجائے تکبر کو جنم دیتی ہے، اور یہی تکبر آہستہ آہستہ (Corporate Politics) کی بنیاد بن جاتا ہے۔
پھر کمپنی کے اندر دو گروہ بن جاتے ہیں؛ ایک طرف پرانے ملازمین، دوسری طرف نئے ملازمین۔ دونوں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگ جاتے ہیں، تنقید بڑھتی ہے، اعتماد ختم ہوتا ہے اور ادارے کا ماحول خراب ہونے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ ٹیم ورک باقی رہتا ہے اور نہ ہی ادارہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی کر پاتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے بڑا کردار ٹاپ مینجمنٹ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ نئے ملازمین کے ذہن میں یہ بات بٹھا دے کہ "پرانے لوگ ناکام تھے، انہی کی وجہ سے کمپنی آگے نہیں بڑھ سکی"، تو نیا ملازم پہلے دن سے ہی پرانے لوگوں میں خامیاں تلاش کرنا شروع کر دے گا۔ دوسری طرف پرانے ملازمین اپنے دفاع میں کھڑے ہو جائیں گے، اور یوں ایک غیر ضروری کشمکش جنم لے گی جس کا نقصان صرف اور صرف کمپنی کو ہوگا۔
ایک کامیاب ادارہ وہی ہوتا ہے جہاں تجربہ اور نئی سوچ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں۔ جہاں پرانے لوگ نئی نسل کی رہنمائی کریں، اور نئی نسل پرانوں کے تجربے کا احترام کرتے ہوئے اپنی جدت سے ادارے کو مزید آگے لے جائے۔
جب احترام، اعتماد اور تعاون کی ثقافت قائم ہو جائے تو نہ صرف (Corporate Politics) ختم ہوتی ہے بلکہ ایک مضبوط (Teamwork) جنم لیتا ہے، اور یہی کسی بھی کامیاب کمپنی کی اصل پہچان ہوتی ہے۔
از قلم: محسن موٹن

Comments
Loading comments…