Back to book
انمول تحریریںMOHSIN MOTEN

Preparing your book…

Loading Urdu fonts and arranging the original 99 writings.
صفحات تیار ہو رہے ہیں

اگلے صفحے کے لیے بائیں تیر اور پچھلے صفحے کے لیے دائیں تیر کا بٹن دبائیں۔ صفحہ پلٹنے کے لیے دائیں جانب سوائپ کریں۔

Reading View · Complete text

انمول تحریریں — محسن موٹن

تحریر 1

اللہ سے دوستی کرو، پھر دنیا کے سہاروں کی ضرورت نہیں رہے گی

اللہ سے دوستی کرو — اس تحریر کو آخر تک ضرور پڑھیں، یہ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے

ہم دنیا میں تعلقات بناتے ہیں۔

کسی بڑے آدمی سے تعلق ہو جائے تو خوش ہوتے ہیں، کسی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر یا بادشاہ سے شناسائی ہو جائے تو اسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں:

میرا فلاں بڑے آدمی سے تعلق ہے، میرا فلاں بااثر شخص سے رابطہ ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جس کا تعلق طاقتور لوگوں سے ہوگا، اس کے مسائل آسانی سے حل ہوں گے۔

مگر کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر بادشاہوں کے بادشاہ سے تعلق بن جائے تو؟

اگر اُس ذات سے دوستی ہو جائے جو پوری کائنات کی مالک ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں بادشاہتیں بھی ہیں، خزانے بھی، عزت بھی، ذلت بھی، زندگی بھی اور موت بھی۔

بس اللہ سے دوستی کر لو۔

جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے لیے مشکل راستوں میں بھی آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ اور جب بندہ اللہ سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے تو کبھی کبھی تمام ظاہری اسباب موجود ہونے کے باوجود وہ مشکلات، بے چینی اور پریشانی میں گھرا رہتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ مال آئے گا، بڑی گاڑی ہوگی، خوبصورت گھر ہوگا، کاروبار بڑھے گا، عہدہ ملے گا، شہرت آئے گی تو دل کو سکون مل جائے گا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکون چیزوں میں نہیں، اللہ کے تعلق میں ہے۔

دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال بھی ہے، دولت بھی ہے، عہدے بھی ہیں، اختیار بھی ہے، محلات بھی ہیں، بادشاہت بھی ہے، مگر دل بے چین ہے۔

اور کتنے اللہ والے ایسے گزرے ہیں جن کے پاس دنیا کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں تھا، مگر ان کے دل اللہ کی محبت سے آباد تھے۔

ذرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیے۔

وہ وقت آیا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ ظاہری اعتبار سے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے؟ آگ کے شعلے، انگارے اور موت سامنے کھڑی ہے۔

لیکن جب تعلق اللہ سے ہو تو آگ بھی اللہ کے حکم کی پابند ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾
ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔

(سورۃ الانبیاء: 69)

جس اللہ سے تعلق ہو، وہ آگ کے اندر بھی سکون عطا فرما سکتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھیے۔

کبھی بھائیوں کی طرف سے ظلم، کبھی کنویں کی تنہائی، کبھی غلام بنا کر فروخت کیے جانے کا مرحلہ، کبھی جیل کی قید۔

مگر اللہ سے تعلق قائم رہا تو یہی یوسف علیہ السلام آخرکار عزت، اقتدار اور کامیابی کے مقام تک پہنچے۔

اور دوسری طرف فرعون کو دیکھیے۔

مال بھی تھا، طاقت بھی تھی، اقتدار بھی تھا، بادشاہت بھی تھی، لشکر بھی تھے۔ مگر اللہ سے تعلق نہیں تھا بلکہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ جس بادشاہت پر اسے ناز تھا، وہ اسے نہ بچا سکی۔

دنیا کی تاریخ میں آج بھی فرعون کا نام آتا ہے تو عزت سے نہیں بلکہ عبرت، تکبر اور رسوائی کی علامت کے طور پر آتا ہے۔

اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھیے۔

دنیا کی نظر میں وہ ایک غلام تھے۔ نہ مال، نہ محل، نہ بادشاہت، نہ دنیوی اختیار۔

لیکن اللہ سے تعلق جڑ گیا، رسول اللہ ﷺ کی غلامی نصیب ہوئی، ایمان پر ثابت قدم رہے۔

وہی بلالؓ جنہیں دنیا کا کوئی بڑا عہدہ حاصل نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عزت عطا فرمائی کہ قیامت تک ان کا نام عزت سے لیا جائے گا۔

صحیح احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا کہ آپ کے جوتوں کی آہٹ جنت میں آپ کے آگے آگے سنائی دیتی ہے۔

بلالؓ کے پاس دنیوی اعتبار سے کچھ نہ تھا، مگر اللہ تھا۔

اور آج دنیا میں ہزاروں، لاکھوں مسلمان محبت سے اپنے بچوں کا نام بلال رکھتے ہیں۔

لیکن کیا کوئی مسلمان اپنے بیٹے کا نام فرعون رکھنا پسند کرے گا؟

فرق کیا تھا؟

بلالؓ کے پاس دنیا نہیں تھی، مگر اللہ تھا۔

فرعون کے پاس دنیا تھی، مگر اللہ نہیں تھا۔

یہی اصل فرق ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مال برا نہیں، چیزیں بری نہیں، عہدہ برا نہیں، کاروبار برا نہیں، بادشاہت بری نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ہمارے دل میں کہاں کھڑے ہیں؟

اگر مال ہاتھ میں ہے اور اللہ دل میں ہے تو مال نعمت ہے۔

لیکن اگر مال دل میں آ گیا اور اللہ دل سے نکل گیا تو وہی مال انسان کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔

ہم لوگوں سے تعلق بنانے میں بہت محنت کرتے ہیں۔

کسی ایم این اے سے تعلق ہو تو فخر کرتے ہیں۔

کسی ایم پی اے سے تعلق ہو تو بتاتے ہیں۔

کسی وزیر سے رابطہ ہو تو اسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔

کسی بادشاہ سے شناسائی ہو تو خوش ہوتے ہیں۔

مگر ذرا سوچیے...

اگر ہمارا تعلق اُس ذات سے بن جائے جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے تو؟

دنیا کا بادشاہ آج تخت پر ہوتا ہے، کل تخت سے اتر جاتا ہے۔

آج لوگ سلام کرتے ہیں، کل لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

آج عزت ہوتی ہے، کل رسوائی ہو سکتی ہے۔

مگر اللہ کی بادشاہت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

وہ الملک ہے۔

وہی عزت دینے والا ہے، وہی ذلت سے بچانے والا ہے۔

وہی مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔

وہی دلوں کو سکون دینے والا ہے۔

اسی لیے قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

(سورۃ الرعد: 28)

تو پھر کیوں نہ ہم اپنی سب سے بڑی دوستی اللہ سے کر لیں؟

اللہ سے دوستی کرو۔

اپنی نمازوں کے ذریعے۔

اپنے ذکر کے ذریعے۔

قرآن کے ذریعے۔

توبہ کے ذریعے۔

رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر چلنے کے ذریعے۔

اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے۔

اور اپنے دل کو اللہ کی محبت سے آباد کرکے۔

پھر دیکھو...

راستے وہی ہوں گے، مگر چلنے والا بدل جائے گا۔

آزمائشیں وہی ہوں گی، مگر دل کا حوصلہ بدل جائے گا۔

مصیبتیں آئیں گی، مگر یقین ہوگا کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔

دنیا کے سہارے چھوٹ سکتے ہیں، مگر اللہ کا سہارا کبھی نہیں چھوٹتا۔

دنیا کے دروازے بند ہو سکتے ہیں، مگر اللہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

دنیا کے بادشاہ بدل سکتے ہیں، مگر اللہ کی بادشاہت کبھی ختم نہیں ہوگی۔

اس لیے دنیا کے بڑے لوگوں سے تعلق بنانے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرو۔

کیونکہ جس کا تعلق اللہ سے بن جائے، اسے دنیا کے سہاروں کی محتاجی نہیں رہتی۔

مال میں کامیابی نہیں، اللہ کے تعلق میں کامیابی ہے۔

چیزوں میں سکون نہیں، اللہ کی یاد میں سکون ہے۔

عہدوں میں عزت نہیں، اللہ کی اطاعت میں عزت ہے۔

اور دنیا کی بادشاہت میں نجات نہیں، اللہ کی بندگی میں نجات ہے۔

اللہ سے دوستی کرو۔

پھر ممکن ہے کہ دنیا تمہیں کچھ نہ دے، مگر اللہ تمہیں وہ عطا فرما دے جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی:

دل کا سکون، زندگی کی برکت، آخرت کی کامیابی اور ہمیشہ کی عزت۔

تحریر 2

اللہ سے دوستی کیسے ہوگی؟ — قرآن و سنت کی روشنی میں عملی راستہ

اللہ سے دوستی کیسے ہوگی؟

حال ہی میں میں نے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا: “اللہ سے دوستی کرو”۔ اس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ سے دوستی انسان کی زندگی کو سکون، برکت اور آسانی عطا کرتی ہے۔

اس مضمون پر بہت سے احباب نے سوال کیا کہ آخر اللہ سے دوستی کیسے حاصل ہو؟ انہی سوالات کے جواب میں یہ تحریر پیشِ خدمت ہے۔

اللہ سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے قریب ہو جائے، اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے، اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارے۔ جب بندہ اللہ سے جڑ جاتا ہے تو مشکلات میں بھی راحت محسوس کرتا ہے، اور جب اللہ سے دور ہو جائے تو آسائشوں کے باوجود دل بے چین رہتا ہے۔ اس کا واضح راستہ قرآن و سنت میں موجود ہے۔

1) رسول اللہ ﷺ کی پیروی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(سورۃ آل عمران: 31)

ترجمہ:

کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت اور دوستی کا راستہ سنتِ رسول ﷺ کی پیروی ہے۔ جو شخص سچے دل سے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر چلتا ہے، وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

2) ایمان اور تقویٰ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

(سورۃ یونس: 62-63)

ترجمہ:

خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے دوست وہی بنتے ہیں جو سچا ایمان رکھتے ہیں اور زندگی بھر تقویٰ اختیار کرتے ہیں، یعنی ہر حال میں اللہ سے ڈرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں۔

3) ذکر اور نماز

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

(سورۃ الرعد: 28)

ترجمہ:

خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

نماز، دعا، تلاوتِ قرآن اور کثرتِ ذکر بندے کو اپنے رب کے قریب کر دیتے ہیں۔ جب دل اللہ کے ذکر سے آباد ہو جاتا ہے تو دنیا کی بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔

4) توبہ اور پاکیزگی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

(سورۃ البقرہ: 222)

ترجمہ:

بے شک اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے۔

انسان خطا کا پتلا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کو وہ بندہ محبوب ہے جو گناہ کے بعد فوراً رجوع کر لے، سچی توبہ کرے اور پاکیزگی اختیار کرے۔

5) اللہ پر مکمل بھروسہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

(سورۃ الطلاق: 3)

ترجمہ:

اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔

توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پوری کوشش کرے مگر دل کا سہارا صرف اللہ کو بنائے۔ جب بندہ اللہ پر مکمل اعتماد کر لیتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

اللہ سے دوستی کے بنیادی راستے یہ ہیں:

سنتِ رسول ﷺ کی پیروی

سچا ایمان اور تقویٰ

نماز اور ذکر کی پابندی

سچی توبہ اور پاکیزگی

اللہ پر مکمل بھروسہ

جو شخص ان اصولوں پر عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ پھر اس کی زندگی میں سکون، برکت اور اطمینان آ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا قرب اور اپنی محبت نصیب فرمائے۔

تحریر 3

اللہ کی دوستی اور قربت (ولایت)

....جب اللہ سے دوستی ہو جاتی ہے

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔

(حوالہ: قرآن مجید، سورۃ یونس 10:62-63)

یہی اصل کامیابی ہے، دوستو!

جس کے دل سے خوف اور غم نکل جائیں، اللہ اس کا محافظ بن جائے، اسے سکون اور اطمینان عطا کرے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔

(حوالہ: قرآن مجید، سورۃ البقرہ 2:186)

یعنی اللہ دور نہیں، وہ بہت قریب ہے۔ بس ہم دور ہو جاتے ہیں۔

حدیثِ قدسی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔

میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھے وہ فرض عبادات ہیں جو میں نے اس پر لازم کی ہیں۔

اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔

پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،

اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،

اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،

اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔

اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کرتا ہوں،

اور اگر وہ میری پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔

(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 6502)

دوستو!

یہی اللہ کی دوستی ہے۔

یہی اللہ کا قرب ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ کبھی تنہا نہیں رہتا، محروم نہیں رہتا۔

ایک سادہ حقیقت دل میں بسا لو:

جس نے اللہ کو پا لیا اس نے سب کچھ پا لیا،

اور جس نے اللہ کو کھو دیا اس نے سب کچھ کھو دیا۔

اگر اللہ مل گیا تو دل مطمئن ہو جائے گا،

اگر اللہ مل گیا تو اندھیری رات میں بھی روشنی ہوگی،

اگر اللہ مل گیا تو مشکلات بھی رحمت بن جائیں گی۔

دوستو!

اللہ کو پانے کا راستہ واضح ہے:

فرض کی پابندی،

نوافل کا اہتمام،

گناہوں سے سچی توبہ،

دل کی عاجزی۔

آج فیصلہ کر لو: ہمیں اللہ چاہیے

تحریر 4

اللہ کے ساتھ اپنا تعلق

اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کریں، کیونکہ جب اللہ آپ کا دوست بن جائے تو زندگی کی سخت ترین گھڑیاں بھی سکون بھری لگتی ہیں، اور اللہ سے دوری ہو تو آسان لمحے بھی بےچینی میں ڈوبے محسوس ہوتے ہیں۔

کبھی کبھی اپنے دل سے یہ سوال کریں، جیسے ہم اپنے فون کے سگنلز چیک کرتے ہیں: میرا رب کے ساتھ رشتہ کیسا ہے؟ اگر یہ رشتہ کمزور لگے تو فوراً اسے دل سے اور خلوص کے ساتھ مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔

جب آپ دل کی گہرائیوں سے اللہ سے بات کریں، جب آنسو خاموشی سے بہنے لگیں، جب تحجد میں اللہ کی موجودگی محسوس ہو—تب جان لیں کہ آپ کا دل اللہ کے قریب ہو رہا ہے، اور سگنلز آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس رمضان اپنے دل میں اللہ کی محبت اور روشنی جگائیں، تاکہ ہر دن آپ کو اللہ کے قریب لے آئے۔ اس رمضان بس ایک عزم کریں—

اللہ سے اللہ کی قربت مانگو اور اللہ کے دوست بنو!

تحریر 5

اپنا حالِ دل اللہ کو سنایا کرو

اپنا حالِ دل اللہ کو سنایا کرو۔

اللہ سے تنہائی میں بیٹھ کر خوب لمبی لمبی باتیں کیا کرو۔ اپنے پورے دن کے احوال سناؤ۔ صبح سے شام تک کیا ہوا، کس بات نے خوش کیا، کس بات نے دُکھ دیا، کس نے دل توڑا، کس نے عزت دی — سب کچھ اللہ کو بتاؤ۔

ہم لوگوں کو اپنی باتیں اور اپنی پریشانیاں بتاتے ہیں، لیکن وہ ہمیں کیا دوا دیں گے؟ وہ کیا حل کریں گے؟ اصل حل دینے والا تو اللہ ہے۔ وہی دلوں کو سکون دیتا ہے، وہی راستے کھولتا ہے، وہی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔

اللہ سے ایسا تعلق بناؤ کہ ہر ایک بات اللہ سے کرو۔

جوتا بھی ٹوٹ جائے نا تو اللہ سے کہو:

اللہ! میرا جوتا ٹوٹ گیا ہے، آپ مدد فرماؤ۔

گرمی لگ رہی ہو تو اللہ سے کہو:

اللہ! آج بہت گرمی ہے، مجھے گرمی نہ لگے۔

سردی ہو تو کہو:

اللہ! آج بہت سردی ہے، مجھے سردی نہ لگے۔

دھوپ تیز ہو تو عرض کرو:

اللہ! دھوپ بہت ہے، میرے لیے چھاؤں کا انتظام کر دے۔

پسینہ آئے تو کہو:

اللہ! ٹھنڈک عطا فرما۔

جیسے ہم دوستوں سے کہتے ہیں نا، "یار آج گرمی بہت ہے، یار آج سردی بہت ہے" — ویسے ہی اللہ سے کہو۔ بلکہ دوستوں سے زیادہ اللہ سے کہو۔ کیونکہ اللہ ہمارا سب سے سچا دوست ہے۔ وہ سن بھی رہا ہے، سمجھ بھی رہا ہے، اور جواب دینے پر بھی قادر ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حال یہی تھا کہ وہ اپنی ہر بات اللہ سے منواتے تھے، اللہ سے کہتے تھے، اللہ سے شیئر کرتے تھے۔ ان کا دل ہر لمحہ اللہ سے جڑا رہتا تھا۔

آپ بھی ہر ایک لمحے میں اللہ کے ساتھ کنیکٹ ہو جاؤ۔

کبھی ہاتھ اٹھا کر، کبھی دل ہی دل میں، کبھی تنہائی میں بیٹھ کر، اور کبھی لوگوں کے مجمع کے درمیان بھی دل میں اللہ سے جڑے رہو۔

یاد رکھو:

جتنا اللہ سے تعلق بنے گا، اتنی زندگی خوبصورت بن جائے گی۔

اور جتنا اللہ سے دور ہو گے، اتنی زندگی مشکل ہوتی جائے گی۔

زندگی کا اصل سکون اللہ سے بات کرنے میں ہے۔ جب بندہ اللہ کو اپنا رازدار بنا لیتا ہے، تو پھر اسے کسی اور کے سامنے دل ہلکا کرنے کی ضرورت ؟۔

اللہ کو اپنا بیسٹ فرینڈ بنا لو۔

ہر سانس کے ساتھ، ہر قدم کے ساتھ، ہر لمحے کے ساتھ — اللہ کو شامل کر لو۔

پھر دیکھنا، زندگی بدل جائے گی۔

تحریر 6

اللہ سے باتیں کرنا (دعاؤں کی حقیقت)

اللہ سے باتیں کیا کرو… ہاں، سادہ سی بات ہے مگر زندگی بدل دیتی ہے۔

جس سے ہم بات کرتے ہیں، اُسی سے تعلق بنتا ہے، اُسی سے دوستی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ سے ہمارا تعلق مضبوط ہو، تو پھر اُس سے باتیں بھی تو کرنی ہوں گی۔

ہم عموماً کیا کرتے ہیں؟

چند عربی دعائیں یاد ہیں، وہ پڑھ لیتے ہیں۔ کچھ اردو کی دعائیں یاد کر رکھی ہیں، وہ بھی دہرا لیتے ہیں۔ چند موٹی موٹی دعائیں مانگ لیتے ہیں:

یا اللہ لمبی زندگی دے دے
یا اللہ معاف کر دے

اور بس… دعا ختم۔

حالانکہ ہمیں صرف دعائیں پڑھنی نہیں ہیں، دعائیں مانگنی ہیں۔ اور دعا مانگنے کا مطلب ہے دل کھول کر بات کرنا۔

آج کل رمضان کا مبارک مہینہ ہے۔ سب سحری کے لیے اٹھتے ہیں، بعض لوگ تہجد بھی پڑھتے ہیں۔ تو کیوں نہ دس پندرہ منٹ خاص اللہ کے لیے نکال لیں؟ خاموشی میں بیٹھ جائیں… اور بس باتیں شروع کر دیں۔

یا اللہ! آج میں سحری میں اٹھا تھا۔

یا اللہ! آج میرا یہ ارادہ ہے۔

یا اللہ! فجر پڑھنی ہے، آسانی فرما دے۔

یا اللہ! میں آپ سے دوستی کرنے آیا ہوں۔

اللہ کو اپنی پوری دن کی کارگزاری سناؤ، حالانکہ وہ سب جانتا ہے۔

مگر بات کرنے سے تعلق بنتا ہے۔

کہو:

یا اللہ! یہ مسئلہ درپیش ہے۔

یا اللہ! فلاں شخص مجھے تنگ کرتا ہے، میری مدد فرما۔

یا اللہ! فلاں بندہ بہت اچھا ہے، مجھے اس سے اچھی باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں، اسے جزائے خیر عطا فرما۔

اپنے والدین کا ذکر کرو:

یا اللہ! میری ماں… میرے باپ… بچپن سے ان کے مجھ پر احسانات ہیں، ان پر رحم فرما، ان کے لیے آسانیاں پیدا فرما۔

اپنے بچوں کا نام لے لے کر مانگو۔

ہر بچے کے لیے الگ دعا کرو۔

لمبی لمبی باتیں کرو۔

دل کے سارے راز اللہ کو بتا دو۔

وہ تو پہلے ہی جانتا ہے، ہمارے دلوں کے حال بھی جانتا ہے، مگر جب بندہ خود اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہے تو ایک عجیب قرب نصیب ہوتا ہے۔

یاد رکھو!

جتنا اللہ سے تعلق مضبوط ہوگا، اتنی زندگی خوبصورت ہوگی۔

جتنا اللہ سے دور ہوں گے، اتنی ہی زندگی میں بے سکونی اور مشکلات بڑھیں گی۔

رمضان کا مہینہ صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں، یہ اللہ سے تعلق اور دوستی بنانے کا مہینہ ہے۔

آؤ!

آج سے ہم صرف دعائیں پڑھنے والے نہیں، اللہ سے باتیں کرنے والے بنیں۔

تحریر 7

پردہ لوگوں کے لیے نہیں، اللہ کی رضا کے لیے ہے

یہ تحریر اُن خواتین اور بہنوں کے لیے ہے جو پردہ کی زینت سے خود کو آراستہ کرتی ہیں، کیونکہ ایک مسلمان عورت کی اصل زینت اُس کے پردہ میں ہے۔

اس فتنے کے دور میں، جہاں رنگینی اور نمائش اپنے عروج پر ہے، شیطان بھی انہی چیزوں میں کشش پیدا کرتا ہے جو عورت کو اُس کے پردہ کے ساتھ مزین کرتی ہیں۔

اگر ایک عورت اپنے گھر سے پردہ اوڑھ کر نکلتی ہے تو اُس کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر و ثواب کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا ہمت بلند رکھیں اور شیطان کے دھوکوں میں نہ آئیں۔

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ پردہ شوہر، والدین یا معاشرے کے خوف کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی عورت صرف لوگوں کے ڈر سے پردہ کرے اور جب وہ خوف ختم ہو جائے تو پردہ بھی چھوڑ دے، تو پھر پردہ کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا۔

یہاں تک کہ اگر موبائل فون پر ویڈیو کال ہو اور سامنے والا غیر محرم ہو، تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

ہمیشہ اپنے دل میں یہ بات رکھیں کہ یہ پردہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔ اللہ کی خاطر اختیار کیا گیا یہ پردہ یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی محبت، قربت اور حفاظت عطا فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

سنو! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔

پس میری بہن! اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پردے پر قائم رہو۔ لوگوں کو یہ ایک معمولی بات لگ سکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری یہ جدوجہد بہت قیمتی ہے۔

پردہ قائم رکھو، حوصلہ بلند رکھو، اور ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ پردہ لوگوں کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی محبت، قربت اور حفاظت نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 8

صدقہ اور اللہ پر بھروسہ

کسی نے اپنی زندگی کی ایک سچی کہانی شیئر کی۔ میں نے سوچا اسے آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں، کیونکہ اس میں ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔

ان کی کہانی کچھ اس طرح ہے...

الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں 22 دن پہلے ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا۔

پیدائش کے چوتھے دن معلوم ہوا کہ اسے یرقان (Jaundice) ہے۔ شروع میں سب نے یہی کہا کہ نومولود بچوں میں یہ عام بات ہوتی ہے، اس لیے فکر نہ کریں۔ لیکن چند دن بعد اس کی حالت مزید خراب ہونے لگی۔ اس کا Bilirubin لیول 20 تک پہنچ گیا اور اسے فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔

تین دن علاج کے بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ اب خطرہ ٹل گیا ہے، لہٰذا اسے گھر لے جائیں۔ مگر صرف دو دن بعد ہم نے دیکھا کہ اس کے جسم کا زرد پن پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے اور راولپنڈی و اسلام آباد کے ایک معروف ڈاکٹر سے رجوع کیا۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔ اگر بروقت بہتری نہ آئی تو اس کے دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے، بلکہ خون تبدیل (Blood Exchange) کرنے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

وہ میری زندگی کے شاید سب سے مشکل دن تھے۔ دل خوف، پریشانی اور بے بسی سے بھرا ہوا تھا۔

گھر پہنچا تو میری والدہ نے صرف ایک جملہ کہا:

بیٹا! صدقہ دو۔

میں نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا، فوراً ایک بکری خریدی اور اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کر دی۔

اللہ کی شان دیکھیے...

صرف تین گھنٹے بعد جب دوبارہ ٹیسٹ ہوئے تو رپورٹ پہلے سے بہتر تھی۔ پھر جس ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی، وہ مسکرائے اور بولے:

فکر نہ کریں، ان شاء اللہ آپ کا بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔

اس رات میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے بہت آنسو بہائے۔

آج الحمدللہ میرا بیٹا پہلے سے بہتر ہے اور صحت یاب ہو رہا ہے۔

اس واقعے نے مجھے ایک سبق دیا کہ جب انسان ہر طرف سے بے بس ہو جائے، راستے بند نظر آئیں، تو اللہ تعالیٰ سے امید کبھی ختم نہیں کرنی چاہیے۔ دعا کرتے رہیں، علاج اور اسباب ضرور اختیار کریں، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھیں، اور اخلاص کے ساتھ صدقہ بھی کریں۔

وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے اپنے بستر کے پاس ایک چھوٹی سی رقم رکھنا معمول بنا لیا ہے۔ ہر صبح اس میں سے کچھ رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، اور الحمدللہ اپنی زندگی میں اس کی بے شمار برکتیں محسوس کی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام بچوں کی حفاظت فرمائے، ہماری دعاؤں اور صدقات کو قبول فرمائے، اور ہر پریشان حال انسان کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین۔

اس واقعے کو شیئر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں صدقہ کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں، ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

(سورۃ البقرہ: 261)

اور فرمایا:

اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔

(سورۃ التغابن: 17)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

صدقہ بلا کو ٹالتا ہے اور بری موت سے حفاظت کا سبب بنتا ہے۔

(جامع ترمذی: 664)

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

اپنے بیماروں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو۔

(الادب المفرد للإمام البخاری: 479)

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری مشکلات آسان فرمائے، ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں ہر حال میں اپنا شکر گزار بندہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

تحریر 9

حقیقی رازق صرف اللہ ہے

آج کا ایک تلخ مشاہدہ یہ ہے کہ ہم اپنے دنیاوی سیٹھ اور مینیجر کو خوش کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ وہ ہمارے سامنے آئے تو اس کی خوشی کا خیال رکھتے ہیں، اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں، اس کے غصے کو برداشت کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کے ہر اچھے برے وقت میں کھڑے رہتے ہیں، صرف اس امید پر کہ وہ ہم سے خوش ہو جائے، ہماری تنخواہ بڑھا دے، ہمیں ترقی دے دے یا ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے۔

یہ سب کچھ ہم اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری روزی کا ایک ذریعہ ہماری یہ ملازمت ہے۔

لیکن ذرا رک کر سوچیے…

جو ہمیں معمولی سی تنخواہ دیتا ہے، اسے خوش کرنے کے لیے ہم اتنی محنت کرتے ہیں، مگر جو ہمیں زندگی، صحت، عقل، آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سانس اور رزق عطا فرماتا ہے، اس کو راضی کرنے کے لیے ہم کتنی محنت کرتے ہیں؟

ایک سیٹھ کے سامنے چند گھنٹے کھڑے ہونا مشکل نہیں لگتا، لیکن اللہ رب العزت کے سامنے پانچ وقت چند منٹ کھڑے ہونا بعض اوقات ہمیں مشکل محسوس ہوتا ہے۔

ہم اپنے باس کی میٹنگ کے لیے وقت پر پہنچتے ہیں، مگر نماز کا وقت آ جائے تو کہتے ہیں:

ابھی کام بہت ہے… بعد میں پڑھ لیں گے۔

ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ سیٹھ ناراض نہ ہو جائے، لیکن یہ خوف کم ہو جاتا ہے کہ کہیں ہمارا رب ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔

ذرا تصور کیجیے…

اللہ نہ کرے، اگر ہماری آنکھیں دیکھنا چھوڑ دیں تو کیا ہمارا سیٹھ ہمیں ہمیشہ اسی طرح ملازمت پر رکھے گا؟

اللہ نہ کرے اگر ہمارے پاؤں چلنا چھوڑ دیں، ہمارے ہاتھ کام کرنا چھوڑ دیں یا ہماری صحت ہمارا ساتھ چھوڑ دے تو کیا ہماری کمپنی ہماری ذمہ داری ہمیشہ اٹھاتی رہے گی؟

شاید کچھ عرصہ علاج میں مدد کرے، کچھ مالی تعاون کرے، تعزیت کرے، ہمدردی کرے… لیکن ایک وقت کے بعد ملازمت کا تقاضا یہی ہوگا کہ کام کرنے والا کوئی اور شخص آ جائے۔

اور اگر اللہ نہ کرے انسان کی عقل، دماغ یا ذہنی صلاحیت ہی متاثر ہو جائے تو پھر دنیا کی ملازمت، عہدہ اور تنخواہ کس کام کی؟

مگر وہ اللہ…

وہ اللہ جو ہماری آنکھوں کے دیکھنے سے پہلے بھی ہمارے ساتھ تھا، ہمارے چلنے سے پہلے بھی ہمارا رازق تھا، ہماری ملازمت سے پہلے بھی ہمیں رزق دے رہا تھا اور ہماری ملازمت ختم ہونے کے بعد بھی ہمارے لیے رزق کے دروازے کھولنے پر قادر ہے۔

وہی حقیقی رازق ہے۔

لہٰذا دنیاوی اسباب اختیار ضرور کریں، اپنی ملازمت دیانت داری سے کریں، اپنے ادارے اور اپنے مالک کے حقوق ادا کریں، لیکن کسی انسان کو خوش کرنے کی کوشش میں اللہ کو ناراض نہ کریں۔

نماز کو کام کے بعد نہیں، کام کو نماز کے بعد رکھیں۔

کیونکہ جس اللہ کو آپ راضی کر لیں گے، وہی اللہ لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے محبت، عزت اور قبولیت پیدا کرنے پر قادر ہے۔

دنیا کے مالکوں کو خوش کرنے میں اپنی پوری زندگی نہ لگا دیں؛ اپنے حقیقی مالک کو راضی کرنے کی فکر کیجیے۔

کیونکہ سیٹھ رزق کا ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر رازق نہیں۔

حقیقی رازق صرف اللہ ہے۔

تحریر 10

نیکی سب کے ساتھ کرو، مگر امید صرف اللہ سے رکھو

اللہ کے سوا جس سے امید لگاؤ گے، ایک دن اسی کے سامنے رسوا ہو گے!

بندوں کے ساتھ اچھا سلوک اس نیت سے مت کرو کہ کل اس کا صلہ ملے گا، یہاں تک کہ اپنی اولاد سے بھی کسی صلے کی امید مت رکھو!

نیکی اللہ کی رضا کے لیے کرو، اجر اللہ سے مانگو، کیونکہ اللہ قدردان ہے، بندہ نہیں!

یاد رکھو! اللہ کے سوا جس سے امید لگاؤ گے، ایک دن اسی کے سامنے رسوا ہو گے!

اولاد کی تربیت اس نیت سے مت کرو کہ کل بڑا ہو کر میرا سہارا بنے گی، بلکہ اس نیت سے کرو کہ یہ اللہ کی امانت ہے اور اس کی اچھی تربیت کرنا میری ذمہ داری ہے۔ اسے خوب پڑھاؤ، محبت دو، اس کے لیے قربانیاں دو، مگر بدلہ اولاد سے نہیں، اللہ سے مانگو۔

ہم نے ایسے والدین بھی دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے قربان کر دی، مگر بڑھاپے میں وہی اولاد ان کے پاس بیٹھنے کے لیے وقت نہ نکال سکی۔ کوئی بیرونِ ملک اپنی دنیا بسا بیٹھا، تو کوئی اپنے ہی ملک میں رہ کر والدین سے دور ہو گیا۔

جن کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں، ضروری نہیں کہ کل وہ تمہاری خواہشات کا بھی خیال رکھیں!

یہی معاملہ بھائی بہنوں، دوستوں اور دوسرے رشتوں کا بھی ہے۔ جب انسان کسی سے حد سے زیادہ امیدیں باندھ لیتا ہے تو کبھی اسی کی بے رخی اسے توڑ دیتی ہے، اور کبھی اسی کے سامنے اپنی عزتِ نفس مجروح کروانی پڑتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ رشتے نہ نبھاؤ یا کسی سے محبت نہ کرو۔ محبت کرو، خدمت کرو، حقوق ادا کرو، مگر اپنی نیکی کا صلہ لوگوں سے مت مانگو۔

اولاد کو اللہ کی رضا کے لیے پالو، والدین کی خدمت اللہ کی رضا کے لیے کرو اور لوگوں کے ساتھ بھلائی بھی اللہ کی رضا کے لیے کرو۔

لوگ تمہاری قربانیاں بھول سکتے ہیں، تمہاری نیکیوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں، مگر اللہ تمہارے کسی نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا

ترجمہ: اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ (سورۃ مریم: 64)

نیکی سب کے ساتھ کرو، مگر امید صرف اللہ سے رکھو۔ محبت سب سے کرو، مگر اپنے دل کا سہارا اللہ کو بناؤ۔

کیونکہ جب تم لوگوں سے بدلے کی امید رکھتے ہو تو ان کے رویے تمہیں توڑ دیتے ہیں، لیکن جب تم اللہ کی رضا کے لیے جیتے ہو تو تمہاری نیکی لوگوں کی قدر دانی کی محتاج نہیں رہتی۔

اللہ کے سوا کسی سے کوئی امید نہ لگاؤ، کیونکہ بندہ بھول سکتا ہے، مگر اللہ قدردان ہے!

تحریر 11

محبتِ رسول ﷺ

یہ ایک عجیب بات ہے کہ پاکستان کے یومِ آزادی پر پورا ملک، ہر مکتبۂ فکر کے لوگ، اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ خوشی مناتے ہیں۔ گھروں، بازاروں اور گلیوں کو جھنڈیوں اور روشنیوں سے سجایا جاتا ہے، بچوں کے دلوں میں وطن کی محبت پیدا کی جاتی ہے اور پاکستان کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

اسی طرح ماہِ ربیع الاول ایک بابرکت مہینہ ہے جو رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت سے نسبت رکھتا ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لہٰذا اگر ہم سیرتِ طیبہ کے اجتماعات منعقد کریں، بچوں کو اپنے نبی کریم ﷺ سے متعارف کروائیں، انہیں سنتِ نبوی ﷺ سکھائیں، آپ ﷺ کی تعلیمات بیان کریں اور ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پیدا کریں تو اختلاف اور انتشار کے بجائے اتحاد اور محبت کا ماحول ہونا چاہیے۔

البتہ میلاد یا ولادتِ نبوی ﷺ کے اظہارِ مسرت کے طریقۂ کار میں شرعی اختلاف موجود ہو سکتا ہے۔ ہر عمل شریعت کی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ ایسے اجتماعات میں غیر شرعی امور، فضول رسومات، بدعات، مرد و زن کا اختلاط اور بے پردگی کے ساتھ عوامی اجتماعات سے اجتناب کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ شریعت کے خلاف ہیں۔

نبی کریم ﷺ سے جب پیر کے دن روزہ رکھنے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ

ترجمہ: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔

(صحیح مسلم)

لہٰذا پیر کے دن روزے رکھنے کا اہتمام کریں، اور اگر ممکن ہو تو پیر اور جمعرات کے نفلی روزوں کی سنت کو بھی زندہ کریں۔

آئیے اس بابرکت مہینے کو صرف چراغاں اور ظاہری سجاوٹ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے سیرت، سنت اور محبتِ رسول ﷺ کا مہینہ بنائیں۔ زیادہ سے زیادہ سیرت کے اجتماعات منعقد کریں، بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی سے روشناس کروائیں، سنتوں کو سیکھیں اور سکھائیں، اور اپنے دلوں میں یہ احساس تازہ کریں کہ ہمارے آقا ﷺ ہمارے سردار اور رہبر ہیں؛ ہماری جان و مال، ہمارے والدین اور ہماری اولاد سب ان ﷺ پر قربان ہیں۔

محبتِ رسول ﷺ ضروری ہے، لیکن سنت کے ساتھ؛ خوشی منانا ضروری ہے، لیکن شریعت کی حدود کے اندر!

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور شریعت پر استقامت نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 12

عشقِ رسول ﷺ، اہلِ بیت اور صحابہ کرامؓ سے محبت

ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہیں۔ ہمیں اپنے ماں باپ سے بڑھ کر، اپنی اولاد سے بڑھ کر، اپنی جان سے بڑھ کر حضور نبی کریم ﷺ سے محبت ہے۔ یہ محبت صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ ہمارے دل کی دھڑکنوں اور خون کی رگوں میں بسی ہوئی ہے۔

ہمیں اپنے آقا ﷺ کی ہر نسبت سے محبت ہے۔ ہمیں ان کے مبارک شہر سے محبت ہے، ان سے گزرنے والی ہواؤں سے محبت ہے، ان کے ذکر سے محبت ہے، ان کے نعلینِ مبارک سے محبت ہے، بلکہ ان نعلینِ مبارک سے مس ہونے والی مٹی سے بھی محبت ہے۔ ہمیں حضور ﷺ کے گھرانے سے محبت ہے، کیونکہ یہ وہ گھرانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عزت، طہارت اور برکت عطا فرمائی۔

جب ہمیں حضور ﷺ کے نعلینِ مبارک تک سے اتنی محبت ہے تو پھر ان کی آلِ پاک اور اہلِ بیتِ اطہار سے ہماری محبت کا عالم کیا ہوگا؟ ہمیں حضور ﷺ کی اولاد، ان کے اہلِ بیت اور ان کے مقدس گھرانے سے بے پناہ محبت ہے۔ ان کی محبت ہمارے خون کی رگوں میں دوڑتی ہے اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جس دل میں اہلِ بیتِ اطہار کی محبت نہ ہو، وہ دل محبتِ رسول ﷺ کی حقیقی مٹھاس سے محروم ہے۔

اہلِ بیتِ اطہار میں امہات المؤمنین بھی شامل ہیں، جو پوری امت کی مائیں ہیں۔ ہمیں تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے بے حد محبت ہے۔ ہم ان مقدس ہستیوں کا ادب و احترام اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کا حصہ اور امت کی مائیں ہیں۔

اور جس طرح ہمیں حضور ﷺ کی آلِ پاک سے محبت ہے، اسی طرح ہمیں حضور ﷺ کے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی بے حد محبت ہے۔ وہ خوش نصیب ہستیاں جو ہر لمحہ حضور ﷺ کے ساتھ رہیں، خوشی اور غمی میں ساتھ رہیں، مکہ کے سخت ترین حالات میں ساتھ رہیں، شعبِ ابی طالب کی آزمائشوں میں ساتھ رہیں، ہجرتِ مدینہ کے سفر میں ساتھ رہیں، غارِ ثور کے لمحات میں ساتھ رہیں، اور میدانِ جہاد میں اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔

ہمیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمان غنیؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت ہے۔ یہ وہ مقدس جماعت ہے جس نے دین کی خاطر ہر قربانی دی اور اپنے آقا ﷺ پر اپنی جان، مال اور سب کچھ قربان کر دیا۔

اسی لیے نہ ہم اپنے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کر سکتے ہیں، نہ اہلِ بیتِ اطہار کی شان میں کوئی بے ادبی سن سکتے ہیں، نہ امہات المؤمنین کے خلاف کوئی گستاخانہ کلمہ برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف کوئی گستاخانہ بات برداشت کر سکتے ہیں۔

ہمارا عقیدہ، ہماری محبت اور ہمارا راستہ یہی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں، اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کرتے ہیں، امہات المؤمنین سے محبت کرتے ہیں اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرتے ہیں۔ یہی اہلِ حق کا راستہ ہے، یہی اہلِ اسلام کا راستہ ہے اور یہی محبتِ رسول ﷺ کا راستہ ہے۔

تحریر 13

اسلام پر ڈٹ جاؤ: دنیا کے رنگ میں نہیں، محمد ﷺ کے رنگ میں رنگو

آج جو لوگ اسلام پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، جو دینی شعائر کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں لوگ یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ داڑھی، ٹوپی، پگڑی، پردہ اور نقاب بیکورڈنس ہیں، یہ پرانے خیالات ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ ماڈرن دنیا کے ساتھ خود کو بدل لو، اپنا لباس بدل لو، دنیا کے رنگ میں رنگ جاؤ۔ پھر انہیں اس کے راستے بھی بتائے جاتے ہیں اور دینی دلیلیں نکال نکال کر سمجھایا جاتا ہے کہ اس طرح بھی کر سکتے ہو اور ایسے بھی کر سکتے ہو۔

لیکن بات صرف اتنی ہے کہ اپنے اسلام پر ڈٹ جاؤ۔

ہمیں اپنے محمدی ہونے پر ناز ہو۔

ہمیں سر پر پگڑی سجانے پر ناز ہو۔

ہمیں سر پر ٹوپی پہننے پر ناز ہو۔

ہمیں چہرے پر داڑھی رکھنے پر ناز ہو۔

ہمیں اپنے پردے پر ناز ہو۔

ہمیں اپنے محمدی اخلاق پر ناز ہو۔

ہمیں اپنے محمدی کردار پر ناز ہو۔

حضور اکرم ﷺ کی ایک ایک سنت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں کسی کے درمیان حضور ﷺ کی سنت کو اپناتے ہوئے شرم نہیں آنی چاہیے۔ ہمیں کسی کے درمیان اسلامی لباس پہنتے ہوئے شرم نہیں آنی چاہیے۔

اسلام پر ڈٹ جاؤ!

شیطان ہمیں دنیا کی رنگینیاں دکھاتا ہے، ہمیں دنیا سے ڈراتا ہے، ہمیں دین سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ہمیں فقر و ناکامی کا خوف دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا﴾

ترجمہ: شیطان تمہیں تنگ دستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔

(سورۃ البقرۃ: 268)

یعنی شیطان تمہارے دل میں یہ خوف ڈالے گا کہ دین پر چلو گے تو پیچھے رہ جاؤ گے، سنت پر عمل کرو گے تو لوگ کیا کہیں گے، پردہ کرو گے تو ترقی رک جائے گی، حلال و حرام کا خیال رکھو گے تو دنیا میں ناکام ہو جاؤ گے۔

مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شیطان کے خوف میں نہ آؤ، میرے فضل اور میری رحمت پر یقین رکھو۔

اسلام پر چلنا پسماندگی نہیں، اسلام ہی اصل روشن خیالی ہے۔

اسلام کمزوری نہیں، اسلام ہی طاقت ہے۔

اسلام ناکامی نہیں، اسلام ہی کامیابی ہے۔

اس لیے دنیا کے طعنے، مذاق اور لوگوں کی باتوں سے مت گھبراؤ۔ اپنے اسلام پر ڈٹ جاؤ، اپنی سنت پر ڈٹ جاؤ، اپنے پردے پر ڈٹ جاؤ، اپنے محمدی لباس، محمدی اخلاق اور محمدی کردار پر ڈٹ جاؤ۔

ہمیں دنیا کے رنگ میں نہیں رنگنا، ہمیں اپنے نبی ﷺ کے رنگ میں رنگنا ہے

ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئے۔ اور جب آتے ہیں تو ایک بچہ پیدا ہوتے ہی رونے لگتا ہے، جیسے پوچھ رہا ہو کہ میں کہاں آ گیا؟

پھر زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ بچپن گزرتا ہے، جوانی آتی ہے، کیریئر بنتا ہے، خواہشیں بڑھتی ہیں، خواب سجتے ہیں۔ انسان ہر دن کسی نہ کسی جدوجہد میں مصروف ہوتا ہے، زندگی مشکلوں سے گزرتی ہے، ہر پل ایک سٹرگل ہوتی ہے، لیکن آہستہ آہستہ اسی دنیا میں دل لگنے لگتا ہے۔

پھر جب دل لگ جاتا ہے تو انسان اسی زندگی کو بچانے میں لگ جاتا ہے، اسے خوبصورت بنانے میں لگ جاتا ہے، اسے مزید لمبا کرنے اور سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔

حالانکہ بھیجنے والے نے دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی اعلان فرما دیا تھا:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔

ہمیں پیدا ہی ایک دن مرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں کیوں بھیجا؟ ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہمارا انجام کیا ہے؟ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی کتاب کے ذریعے اور اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے ہمیں سمجھا دیا۔ لیکن ہم دنیا کی رونقوں، خواہشوں اور مصروفیتوں میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ موت کی حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔

پھر اچانک...

جب دنیا میں دل پوری طرح لگ چکا ہوتا ہے، جب انسان ابھی مزید جینا چاہتا ہے، مزید خواب دیکھ رہا ہوتا ہے، مزید منصوبے بنا رہا ہوتا ہے، تو ایک پل میں موت آ جاتی ہے۔

موت بتا کر نہیں آتی۔

کوئی ایکسیڈنٹ میں چلا جاتا ہے، کوئی ناگہانی آفت کا شکار ہو جاتا ہے، کوئی بالکل صحت مند اور تندرست ہوتا ہے اور اچانک دل جواب دے جاتا ہے۔ کوئی سوتے ہوئے چلا جاتا ہے، کوئی چلتے پھرتے، کوئی بیماری کے ذریعے۔

موت کا کوئی مقرر وقت نہیں۔

کوئی بڑھاپے میں چلا جاتا ہے، کوئی جوانی میں، اور کوئی بچپن میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عقل مند وہ ہے جو موت سے پہلے موت کی تیاری کرے۔

اور موت کی تیاری کیا ہے؟

یہی کہ ہم اپنی زندگی اللہ کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزاریں۔ کیونکہ دنیا کی زندگی چند دنوں کا سفر ہے، جبکہ اصل زندگی ہمیشہ ہمیشہ کی ہے۔

یہ دنیا ہمارا امتحان ہے۔

یہی ہمارا ٹیسٹ ہے۔

اور موت...

موت ہماری زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

آج ہم یہاں ہیں، کل شاید صرف ہماری یاد باقی ہو۔

پھر ایک دن ہمارا بھی جنازہ اٹھے گا...

لوگ چند قدم ہمارے ساتھ چلیں گے...

کچھ آنسو بہیں گے...

پھر ہمیں مٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اور...

پھر ختم ہو گیا یہ سفر۔

تحریر 14

ہمیں اپنے محمدی ہونے پر ناز ہے — رہبر صرف محمد ﷺ

ہم کسی مغربی نظریے سے متاثر نہیں۔

ہم کسی گمراہ فلسفے سے متاثر نہیں۔

ہم کسی فیشن، کسی تہذیب، کسی نظام کے غلام نہیں۔

ہمارے لیے رہبر صرف محمد ﷺ ہیں۔

ہمیں اپنے محمدی ہونے پر ناز ہے

ہم مسلمان ہیں، ہم محمدی ہیں، اور ہمیں اپنے محمدی ہونے پر فخر ہے، ناز ہے اور اللہ کا شکر ہے۔

ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے امتی ہیں، ہم سچے عاشقِ رسول ﷺ ہیں، اور ہماری زندگی کا مقصد نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنا ہے۔

ہمیں ناز ہے کہ ہم اپنے سر پر ٹوپی رکھتے ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ ہم اپنے چہرے پر داڑھی سجاتے ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ ہم رسول ﷺ کی سنت کے مطابق لباس پہنتے ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ مرد اپنی شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھتے ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ ہماری بہنیں اور بیٹیاں پردے کی زینت ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ ہم حیا، غیرت اور ایمان کو اپنی پہچان بناتے ہیں۔

ہمیں ناز ہے کہ ہم اپنے اخلاق کو سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملات بھی رسول ﷺ کی سنت کے مطابق ہوں،

ہمارا لین دین بھی سنت کے مطابق ہو،

ہمارا بولنا، چلنا، ملنا جلنا سب کچھ نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ہو۔

ہم کسی مغربی نظریے سے متاثر نہیں۔

ہم کسی گمراہ فلسفے سے متاثر نہیں۔

ہم کسی فیشن، کسی تہذیب، کسی نظام کے غلام نہیں۔

ہمارے لیے رہبر صرف محمد ﷺ ہیں۔

ہمارے لیے قائد صرف رسول اللہ ﷺ ہیں۔

ہمارے لیے دستور صرف قرآن ہے۔

ہمارے لیے زندگی کا مکمل نظام سنتِ رسول ﷺ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

(سورۃ الاحزاب: 21)

ترجمہ:

بیشک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

یہی ہماری پہچان ہے، یہی ہمارا راستہ ہے، یہی ہماری کامیابی ہے۔

اب ہمیں کسی اور قائد کی ضرورت نہیں۔

اب ہمیں کسی اور رہبر کی ضرورت نہیں۔

اب ہمیں کسی اور نظریے کی تلاش نہیں۔

کیونکہ:

رسول اللہ ﷺ ہیں قائد بھی رہبر بھی ہمارے

اب ہم کسی اور قائد کی تمنا نہ کریں گے

مر جائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے

ہم اگر کالج جائیں، یونیورسٹی جائیں،

ہم اپنے ایمان پر قائم رہیں گے۔

ہم نبی ﷺ کی سنت پر چلنے پر ناز کریں گے۔

ہم رسول ﷺ کے سنتی لباس پر ناز کریں گے۔

ہم فیشن کے نام پر سنت کو نہیں چھوڑیں گے۔

ہم لوگوں کے طعنوں سے نہیں ڈریں گے۔

ہم اللہ اور رسول ﷺ کی رضا کو سب سے اوپر رکھیں گے۔

ہم اگر کسی ملک جائیں،

کسی شہر جائیں،

دنیا کے کسی بھی کونے میں جائیں،

تو محمدی بن کر جائیں گے۔

ہم محمدی اخلاق اپنائیں گے۔

ہم محمدی لباس اپنائیں گے۔

ہم محمدی کردار اپنائیں گے۔

ہم محمدی سوچ کے ساتھ جئیں گے۔

ہم اپنی پہچان کبھی نہیں بھولیں گے۔

ہم اپنی غیرتِ ایمانی کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

ہم نبی ﷺ کی سنت کو کبھی قربان نہیں کریں گے۔

انشاء اللہ۔

ہم دنیا کو بتا دیں گے انشاء اللہ۔

ہم مسلمان ہیں۔

ہم محمدی ہیں۔

ہمیں اپنے ایمان پر ناز ہے،

ہمیں رسول اکرم ﷺ کی سنت پر ناز ہے,

اللہ ہمیں سچا عاشقِ رسول ﷺ بنائے،

ہمیں سنت پر چلنے والا بنائے،

ہمیں اپنی زندگی حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

تحریر 15

ہاں! ہم انتہا پسند مسلمان ہیں — اور ہمیں اس پر فخر ہے

ہاں! ہم انتہا پسند مسلمان ہیں

اور ہمیں اس پر فخر ہے۔

ہم انتہا پسند ہیں اپنے نبی ﷺ کے عشق میں،

وہ عشق جو رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے،

وہ محبت جو ہمیں ہر باطل کے سامنے سینہ سپر ہونا سکھاتی ہے۔

ہم انتہا پسند ہیں قرآن کو فالو کرنے میں،

کیونکہ یہ کوئی عام کتاب نہیں،

یہ ربِ کائنات کا کلام ہے،

یہی ہمارا دستور ہے،

یہی ہماری زندگی کا راستہ ہے۔

ہمیں کسی اور فلسفے، کسی اور نظریے،

کسی اور گائیڈنس کی ضرورت نہیں۔

ہمارے لیے قرآن کافی ہے

اور ہمارے لیے محمد ﷺ کی سنت کافی ہے۔

ہم انتہا پسند ہیں اسلام پر چلنے میں،

کیونکہ اسلام ہمیں جھکنا نہیں،

سر اٹھا کر جینا سکھاتا ہے۔

یہ دین ہمیں عدل سکھاتا ہے،

سچ سکھاتا ہے،

وفا، حیا اور غیرت سکھاتا ہے۔

اگر اپنے دین پر ڈٹ جانا انتہا پسندی ہے

تو ہاں! ہم انتہا پسند ہیں۔

اگر باطل کے سامنے انکار کرنا جرم ہے

تو ہاں! ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔

ہم وہ لوگ نہیں جو وقت کے بتوں کے آگے جھک جائیں،

ہم وہ ہیں جو ایک اللہ کے سامنے جھکتے ہیں

اور ایک رسول ﷺ کی اطاعت پر جان نچھاور کرتے ہیں۔

ہم ایمان کا سودا نہیں کرتے،

ہم دین کو دنیا کے بدلے نہیں بیچتے،

ہم نے سیکھا ہے

کہ عزت صرف اسلام میں ہے

اور نجات صرف اتباعِ محمد ﷺ میں ہے۔

محمد ﷺ بھی قائد بھی، رہبر بھی ہمارے

اب ہم کسی اور قائد کی تمنا نہ کریں گے

مر جائیں گے، ایمان کا سودا نہ کریں گے

تحریر 16

محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے — سیرتِ نبوی ﷺ کا پیغام

محمد ﷺ ہمارے بَری شان والے

از قلم: محسن موٹن

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت انسانیت کی رہنمائی کے لیے بھیجا جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب کی سرزمین جہالت، ظلم، بے راہ روی، عورتوں کی بے حرمتی، غلامی اور بدپرستی کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ بچیوں کو زندہ دفن کرنا فخر کی بات سمجھی جاتی تھی، عورت کو وراثت تو کیا، انسان تک نہیں سمجھا جاتا تھا۔

اسی ماحول میں غلاموں کو جوتے کپڑے کی طرح خریدا بیچا جاتا، ان پر ظلم کیا جاتا، انہیں انسان کا درجہ تک نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف عورتوں کو عزت دی بلکہ غلاموں کو بھی انسان مانا، ان کے حقوق کی بات کی، ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی، حتیٰ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے غلام کو اذان کی عزت بخشی۔

جب باپ دادا کے طریقے ہی دین سمجھے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانِ توحید فرمایا، اور کہا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ آپ نے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں عورت کو عزت دی، اسے جینے کا حق دیا، وراثت میں حصہ دیا، اور ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے رشتوں کو مقام عطا کیا۔

آپ کی باتیں اہلِ مکہ کے مفادات کے خلاف گئیں، لہٰذا انہوں نے آپ اور آپ کے ماننے والوں کو شدید اذیتیں دیں۔ شبِ ابی طالب میں معاشی و سماجی بائیکاٹ ہوا، فاقے ہوئے، صحابہ کرام کو تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، بیٹیوں کو طلاقیں دلائی گئیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبر اور استقامت کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔

جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ کے حکم سے ہجرت مدینہ ہوئی، وہاں اسلامی ریاست قائم کی، تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر دفاع کے لیے بدر، احد، خندق جیسی جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میدان میں آ کر قیادت کی۔

بالآخر وہ دن بھی آیا جب مکہ فتح ہوا۔ لیکن بدلہ لینے کے بجائے نبی کریم نے سب کو معاف کر دیا۔ یہ آپ کی عظمت، رحم دلی، اور اللہ کے دین سے سچی وفاداری کا مظہر ہے۔ آپ کی زندگی صبر، قربانی، اخلاق، قیادت، اور اللہ سے تعلق کی کامل مثال ہے۔

آپ نے غلاموں، عورتوں، یتیموں، کمزوروں سب کو عزت دی، ان کے لیے انصاف کی بات کی۔ آپ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچائی، صبر، اخلاص، اور مسلسل محنت کے ذریعے دین کو دنیا میں غالب کیا جا سکتا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئی، تو مکہ فتح ہوا، وہی شہر جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا، اذیتیں دیں، انکار کیا—اسی شہر میں آپ فاتح بن کر داخل ہوئے، لیکن غرور و انتقام کی بجائے معافی، عاجزی اور رحمت کا پیکر بنے۔

فتح مکہ کے بعد اسلام کا پیغام عرب کے کونے کونے میں پہنچنے لگا، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج ادا فرمایا، جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس موقع پر آپ نے عرفات کے میدان میں ایک ایسا خطبہ دیا جو قیامت تک انسانیت کے لیے منشور ہے۔

آپ نے فرمایا:

- تمام انسان برابر ہیں، کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔
- عورتوں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیا۔
- سود کو حرام قرار دیا۔
- خونریزی، نسلی تعصب، اور جاہلیت کی تمام رسومات کو ختم کرنے کا اعلان فرمایا۔
- امانت داری، بھائی چارہ، اور انسانیت کی فلاح کا درس دیا۔

یہ خطبہ انسانی حقوق، سماجی عدل، اور اخلاقی اقدار کا کامل دستور ہے۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس تشریف لے گئے۔ کچھ ہی وقت بعد وہ وقت آ گیا جب آپ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ دنیا تاریک ہو گئی، صحابہؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام زندہ رہ گیا، آپ کا لایا ہوا دین زندہ ہے۔

آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب اس امت کی ذمہ داری ہے کہ اس عظیم دین کو، اس روشنی کو، اس ہدایت کو، جو رسول اللہ لے کر آئے، اسے پوری دنیا تک پہنچائے۔

یہ دین رہتی دنیا تک باقی رہے گا، اور اس دین کی محنت، دعوت، تبلیغ، اور سچائی کے لیے جدوجہد امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، یہی آپ کا مشن، یہی انسانیت کی نجات کا واحد راستہ ہے۔

تحریر 17

زمانے کے مطابق نہیں، سنت کے مطابق جیو

آج کل بہت سے لوگ دوسروں کو مشورہ (Advice) دیتے ہیں کہ اپنی شخصیت (Personality) بدل لو، اپنا مزاج (Nature) بدل لو، اتنے سادہ نہ بنو، زمانے کے ساتھ چلو اور خود کو لوگوں کے مطابق بنا لو۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک الگ شخصیت (Personality)، الگ مزاج (Nature) اور الگ صلاحیتوں (Abilities) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے، اسی لیے صرف لوگوں کے کہنے پر خود کو بدل دینا ضروری نہیں ہوتا۔

اگر کوئی آپ کو کہے کہ اپنی شخصیت (Personality) میں تبدیلی لاؤ تو فوراً اس کی بات مان لینے کے بجائے اپنا جائزہ (Self-Assessment) لیں۔ خود سے سوال کریں کہ میرا چلنا پھرنا، میرا اٹھنا بیٹھنا، میرا لوگوں کے ساتھ رویہ (Behavior) اور میری زندگی کا انداز کیا رسول اللہ ﷺ کی سنت (Sunnah) کے مطابق ہے یا نہیں؟

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ (Best Example) موجود ہے۔

(سورۃ الاحزاب: 21)

جب خود اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو ہمارے لیے اسوۂ حسنہ (Best Role Model) قرار دے رہا ہے، تو پھر ہمیں کسی اور معیار (Standard) کی ضرورت نہیں رہتی۔ حضور ﷺ کا ہر لمحہ، ہر عمل، ہر عادت اور ہر رویہ ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ جس شخصیت کی تعریف خود اللہ تعالیٰ فرمائے، اس سے بہتر شخصیت اور نمونہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

اس لیے ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ لوگ ہمیں کیسا بنانا چاہتے ہیں، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کی زندگی اور آپ کا کردار (Character) سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہے تو پھر صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لیے خود کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کی پسند اور ناپسند بدلتی رہتی ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہمیشہ کامل اور بہترین رہتی ہیں۔

البتہ اگر ہمارے اندر کوئی ایسی عادت (Habit)، رویہ (Behavior) یا سوچ موجود ہے جو سنت کے خلاف ہے، تو پھر خود کو بدلنا چاہیے۔ لیکن یہ تبدیلی (Change) لوگوں کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی (Following) کے لیے ہونی چاہیے۔

ہمیں ہر وقت اس فکر میں نہیں رہنا چاہیے کہ لوگ کیا کہیں گے، کیا سوچیں گے یا ہمارے بارے میں کیا رائے (Opinion) رکھیں گے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ جو میں کر رہا ہوں، کیا اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اور کیا میں رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چل رہا ہوں؟

کیونکہ کامیابی (Success) اللہ دیتا ہے، عزت (Respect) اللہ دیتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں محبت (Love) بھی اللہ ہی ڈالتا ہے۔ جب انسان کی زندگی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہو جاتی ہے تو سنت میں اللہ نے عزت رکھی ہے، سنت میں اللہ نے لوگوں کے دلوں کی محبت رکھی ہے، اور سنت میں ہی حقیقی کامیابی رکھی ہے۔

یاد رکھیں!

زمانے کے مطابق بدلنے والے بہت مل جائیں گے، لیکن کامیاب وہی ہے جو اپنی زندگی کو سنتِ رسول ﷺ کے مطابق سنوار لے۔

تحریر 18

زمانہ بدلتا رہے، ہمارا تعلق محمد رسول اللہ ﷺ سے نہ بدلے

لوگ کہتے ہیں کہ زمانے کے ساتھ چلو، زمانہ بدل گیا ہے، اس لیے اپنے لباس، اپنے رجحانات (Trends)، اپنی روایات (Traditions)، اپنے کلچر، اپنے اخلاق اور اپنے کردار کو بھی زمانے کے مطابق بدلتے رہنا چاہیے۔

بات اپنی جگہ درست ہے کہ دنیا کی وہ چیزیں جو شریعت کے خلاف نہ ہوں، ان میں زمانے کے ساتھ تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن ایک مسلمان کے لیے ایک بنیادی حقیقت کبھی نہیں بدل سکتی:

جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں تشریف لے آئے تو ہمارے لیے قیادت، رہنمائی اور زندگی کا معیار متعین ہوگیا۔

وہ ہمارے نبی ہیں، ہمارے رہبر ہیں

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے۔

(سورۃ الأحزاب: 21)

اب زمانہ کوئی بھی ہو، حالات جیسے بھی ہوں، دنیا کے Trends کتنے ہی بدل جائیں، مسلمان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ زمانے کے ساتھ کس حد تک بہہ گیا؛ بلکہ اصل پہچان یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر کس قدر قائم رہا۔

اگر زمانے کا کوئی Trend، Tradition یا Culture قرآن و سنت کے خلاف ہے تو مسلمان اسے صرف اس لیے قبول نہیں کرے گا کہ "سب ایسا کر رہے ہیں۔"

ہمیں زمانے کی ہر ہوا کے ساتھ رخ نہیں بدلنا۔

ہمیں اپنے ایمان کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف رکھنا ہے۔

دنیا ہمیں پرانا کہے، قدامت پسند کہے یا زمانے سے پیچھے رہ جانے والا کہے، ہمیں اس کی فکر نہیں؛ کیونکہ ہمارے لیے اصل ترقی وہ ہے جو اللہ کے نزدیک ترقی ہے، اور اصل کامیابی وہ ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے پر چلنے سے حاصل ہو۔

رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہمارے لیے صرف تاریخ کا ایک دور نہیں؛ وہ ہماری رہنمائی کا معیار ہے۔

دنیا جتنی آگے چلی جائے، اگر وہ اللہ سے دور ہو جائے تو وہ حقیقی ترقی نہیں۔

اور انسان دنیا کے اعتبار سے کتنا ہی آگے نکل جائے، اگر وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے دور ہوگیا تو اس نے اپنی اصل منزل کھو دی۔

یاد رکھو!

کامیابی زمانہ نہیں دیتا، کامیابی اللہ دیتا ہے۔

اور اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی اطاعت میں کامیابی رکھی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ بڑی کامیابی حاصل کر چکا۔

(سورۃ الأحزاب: 71)

اس لیے اپنے ایمان کو مضبوط کرو۔

زمانے کو دیکھ کر اپنا دین مت بدلو۔

ہوا جس طرف چلے، مسلمان اسی طرف نہیں چلتا۔

مسلمان کی اپنی سمت ہوتی ہے۔

وہ سمت جو قرآن بتاتا ہے، وہ راستہ جو رسول اللہ ﷺ نے دکھایا، اور وہ منزل جو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔

زمانہ بدلتا رہے، دنیا بدلتی رہے، Trends بدلتے رہیں، Cultures بدلتے رہیں؛

لیکن ہمارا تعلق محمد رسول اللہ ﷺ سے نہیں بدلنا چاہیے۔

ہم زمانے کے نہیں،

محمد ﷺ کے غلام ہیں۔

اور مسلمان کی شان یہی ہے کہ دنیا اسے جدھر بھی لے جانے کی کوشش کرے، وہ اپنے نبی ﷺ کے نقشِ قدم کو دیکھ کر کہے:

مجھے ادھر نہیں جانا جہاں زمانہ جا رہا ہے؛

مجھے وہاں جانا ہے جہاں میرے رسول اللہ ﷺ نے چلنا سکھایا ہے۔

تحریر 19

سنتِ نبوی ﷺ اور دنیاوی کامیابی

کل ہمارے انتہائی محترم دوست سعد آفریدی صاحب (Owner, Scents N Stories Pakistan) کی دعوت میں شرکت کا موقع ملا۔ اس محفل میں پاکستان کے مایہ ناز اور کامیاب بزنس مین شریک تھے۔ گفتگو انتہائی خوبصورت اور فکر انگیز تھی، مگر اس کا نچوڑ ایک ہی تھا:

زندگی کا مقصد صرف مال کمانا نہیں، بلکہ اللہ کی مخلوق کی خدمت، اسلام کی سربلندی کی کوشش، اور اپنے اپنے شعبے میں رہتے ہوئے دین کی نمائندگی کرنا ہونا چاہیے۔

مجھے وہ زمانہ آج بھی یاد ہے جب سعد بھائی (IBA) میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ہم (MBA) کراچی یونیورسٹی سے کر رہے تھے۔ ان دنوں اکثر تبلیغی نشستوں میں IBA جانا ہوتا تھا۔ اسی طالبِ علمی کے دور میں ہم نے ایک حقیقت سمجھ لی تھی کہ داڑھی، ٹوپی اور سنت کا لباس کبھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص اللہ کے محبوب ﷺ کی سنتوں پر چلے، وہ حقیقی معنوں میں ناکام ہو جائے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کامیابی کی معراج ہی سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے میں ہے۔

آج آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ملک کی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان، کامیاب بزنس مین، صنعت کار اور مختلف شعبوں کے نمایاں افراد میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو داڑھی، ٹوپی اور سنت کے ظاہری شعار کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی طالبِ علم یہ سمجھتا ہے کہ سنت پر عمل کرنے سے وہ جدید دنیا میں پیچھے رہ جائے گا، تو یہ حقیقت نہیں بلکہ شیطان کا دھوکہ ہے۔

یاد رکھیں! دنیا کی حقیقی عزت بھی سنتِ رسول ﷺ میں ہے اور آخرت کی دائمی کامیابی بھی۔

تحریر 20

کامیاب CEO بننے کا راستہ — نبی کریم ﷺ کی سیرت اور اسلامی اصولِ قیادت

کامیاب CEO بننے کا راستہ

میرے ایک عزیز دوست کو اُن کی اہلیہ نے سالگرہ کے موقع پر ایک کتاب تحفے میں دی، جس کا عنوان تھا "CEO Excellence"۔ یہ کتاب ایک معروف مصنف وکرم ملوترا کی لکھی ہوئی ہے، جو دنیاوی معیار کے مطابق بزنس اور قیادت کے اصولوں کو بیان کرتی ہے۔

جب انہوں نے یہ کتاب دکھائی، تو میں نے نہایت ادب و محبت سے ان سے عرض کیا:

یہ کتاب اپنی جگہ یقینا قابلِ مطالعہ ہوگی، لیکن بطور مسلمان ہمیں اپنی اصل رہنمائی کے لیے صرف دنیاوی مثالوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔

میں نے انہیں کہا کہ:

ہمارا دین مکمل ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ مثالی تاجر، کامیاب رہنما، بہترین منتظم، رحمدل سربراہ اور عدل و انصاف پر قائم CEO کی اعلیٰ ترین مثال تھے۔

اسلام ہمیں صرف نماز، روزے، حج، زکوٰۃ ہی نہیں سکھاتا — بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ:

- ایک لیڈر کیسا ہو
- ایک کاروباری شخص کیسا ہو
- ایک مالک اپنے ملازم سے کیسے پیش آئے
- اور ایک ذمہ دار شخص کیسے وعدہ نبھائے، عدل کرے، مشورہ لے، اور فلاحِ عامہ کی سوچ رکھے

میں نے ان سے کہا:

کتابیں ضرور پڑھیں، سیکھیں، مگر اصل رہنمائی کے لیے اپنے نبی ﷺ کی سیرت اور اسلامی اصولِ قیادت کو بنیاد بنائیں۔

دنیا کے CEO لاکھ کامیاب ہو جائیں، مگر اگر اخلاق، عدل، دیانت، خدمتِ خلق، اور اللہ کا خوف نہ ہو — تو وہ صرف دنیا میں کامیاب ہیں، آخرت میں نہیں۔

آخر میں صرف ایک بات:

اگر مسلمان کو کامیاب لیڈر بننا ہے، تو پہلے نبی کریم ﷺ کا پیروکار اور عاشق بننا ہوگا۔

اسلام میں قیادت عبادت ہے — اور بہترین قیادت وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کے قریب کر دے، اور ان کی دنیا و آخرت سنوار دے۔

تحریر 21

قلبِ صبور — صبر کرنے والا دل اور اس کی خصوصیات

قلبِ صبور کا لفظی مطلب ہے "صبر کرنے والا دل"۔ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے: 'قلب' یعنی دل اور 'صبور' یعنی بہت زیادہ صبر کرنے والا۔

اسلامی اخلاقیات میں اس سے مراد وہ دل ہے جو زندگی کی تلخیوں، مصائب اور آزمائشوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر خندہ پیشانی سے قبول کرے۔

قلبِ صبور کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

۱. رضائے الٰہی پر یقین

قلبِ صبور رکھنے والا شخص اس بات پر کامل یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اسے پہنچا ہے وہ اللہ کی مشیت سے ہے، اس لیے وہ شکوہ و شکایت کے بجائے خاموشی اور وقار کو ترجیح دیتا ہے۔

۲. استقامت اور پختگی

ایسا دل حالات کی سختی سے گھبراتا نہیں اور نہ ہی جلد بازی میں اپنے اصولوں یا ایمان کا سودا کرتا ہے۔ یہ مصیبت کے وقت ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہوتا ہے۔

۳. ضبطِ نفس (Self-Control)

قلبِ صبور کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو دکھ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات، غصے اور بے چینی پر قابو پا لیتا ہے اور زبان سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکالتا جو ناشکری کے زمرے میں آئے۔

۴. شکر کے ساتھ صبر

حقیقی قلبِ صبور وہ ہے جو صرف خاموش نہ رہے بلکہ اس حال میں بھی اللہ کا شکر ادا کرے، جیسا کہ کہا جاتا ہے"صبر کی انتہا یہ ہے کہ تم تکلیف میں بھی ویسے ہی مسکراؤ جیسے تم نعمتوں میں مسکراتے تھے۔

مختصر یہ کہ: قلبِ صبور وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو ذہنی سکون اور روحانی طاقت عطا کرتی ہے،

تحریر 22

اسلام اور جدیدیت: حقیقی روشن خیالی کیا ہے؟

آج یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ دین، قرآن اور سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرنا پسماندگی (Backwardness) ہے، جبکہ اسلام سے دوری، مغربی تہذیب (Western Culture) کی اندھی تقلید اور غیر اسلامی طرزِ زندگی (Lifestyle) اختیار کرنا جدیدیت (Modernism) اور روشن خیالی (Enlightenment) ہے۔

حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

روشن خیالی وہ ہے جو انسان کو روشنی، ہدایت، کردار، سکون اور دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرے، اور یہ صرف اسلام کے پاس ہے۔

رسول اللہ ﷺ انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لانے کے لیے تشریف لائے۔ اسلام کوئی فرسودہ نظام نہیں، بلکہ قیامت تک کے لیے مکمل ضابطۂ حیات (Complete Code of Life) ہے۔

دین کو چھوڑ دینا ترقی نہیں، گمراہی ہے۔ سنت کو چھوڑ دینا جدیدیت نہیں، بلکہ فکری غلامی (Intellectual Slavery) ہے۔

حقیقی روشن خیالی اسلام ہے، اور حقیقی کامیابی سنتِ رسول ﷺ میں ہے۔

تحریر 23

فیشن کے نام پر اپنی فطری شناخت مت کھوئیے

آج کل ایک افسوسناک رجحان ہماری نوجوان نسل میں تیزی سے نظر آ رہا ہے، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں مرد اور خواتین کا اختلاط بہت زیادہ ہو۔ یونیورسٹیوں، کالجز، میڈیا اور شوبز کے بعض حلقوں میں بعض نوجوانوں کے لباس، اندازِ گفتگو، چال ڈھال اور ظاہری وضع قطع میں ایسی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو مردانہ وقار اور اسلامی فطرت کے تصور سے مختلف محسوس ہوتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان اس انداز کو فیشن، ماڈرنائزیشن اور جدید دور کی علامت سمجھنے لگے ہیں۔ ایسا لباس پہننا، ایسا انداز اختیار کرنا، گفتگو میں ایسی نزاکت پیدا کرنا اور ایسی نرم مزاجی اختیار کرنا جو عورتوں کے انداز سے مشابہ ہو، انہیں جدید اور اسٹائلش ہونے کی علامت محسوس ہوتی ہے۔

حالانکہ مرد کی اپنی ایک مردانہ شان، وقار، مضبوطی اور شخصیت ہوتی ہے۔ مرد کو اپنی اس مردانہ شناخت اور وقار پر قائم رہنا چاہیے۔ مرد کی نرمی اور حسنِ اخلاق اپنی جگہ بہت خوبصورت صفات ہیں، لیکن نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی فطری مردانہ شناخت اور وقار ہی کھو دے۔

مجھے ایک حکایت کی کتاب میں ایک بزرگ کی بات پڑھنے کو ملی تھی کہ جب نامحرم مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور ساتھ اٹھنا بیٹھنا حد سے بڑھ جاتا ہے تو رفتہ رفتہ ان کے درمیان ایسی قربت اور اثرپذیری پیدا ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کی صفات، عادات اور کیفیات بھی اثر انداز ہونے لگتی ہیں؛ عورتوں میں مردانہ انداز اور مردوں میں نسوانی انداز نمایاں ہونے لگتا ہے۔

جس ماحول میں انسان مسلسل رہے، وہاں کے لباس، گفتگو، انداز اور رویوں کا اثر اس کی شخصیت پر پڑ سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
رسول اللہ ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔

(صحیح البخاری، 5885)

لہٰذا مسئلہ صرف لباس یا ظاہری انداز کا نہیں، بلکہ ماحول، صحبت، نگاہ، حیا اور تربیت کا بھی ہے۔

آج کا نوجوان سوشل میڈیا، ڈراموں، فلموں، فیشن اور مخلوط ماحول سے بہت کچھ سیکھ رہا ہے۔ جو چیز بار بار آنکھوں کے سامنے آئے، انسان آہستہ آہستہ اسے معمول اور پھر خوبصورتی سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے اپنے ماحول اور صحبت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔

مرد کی اپنی شان ہے، اپنی ذمہ داریاں ہیں، اپنا وقار ہے اور اپنی مردانہ شناخت ہے۔

فیشن کے نام پر اپنی فطری شناخت مت کھوئیے۔

مرد کو مردانہ شان کے ساتھ، اور عورت کو نسوانی وقار و حیا کے ساتھ اپنی فطرت پر قائم رہنا چاہیے۔

تحریر 24

اعتکاف کی اہمیت، روح اور فضیلت

اعتکاف کے مبارک دن قریب آ رہے ہیں۔ یہ وہ بابرکت لمحات ہیں جب بندہ دنیا کی مصروفیات، شور و ہنگامہ اور فکروں کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کے گھر میں جا بیٹھتا ہے، صرف اپنے رب کی رضا کے لیے۔ اعتکاف دراصل اللہ سے دوستی کو تازہ کرنے، اپنے دل کو صاف کرنے اور اپنی زندگی کا رخ درست کرنے کا نام ہے۔

اعتکاف وہ عظیم عبادت ہے جسے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا، پھر آپ ﷺ کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔

(صحیح بخاری: 2026، صحیح مسلم: 1172)

اعلانِ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ خلوت اختیار فرمایا کرتے تھے۔ آپ غارِ حرا میں جا کر اللہ کی عبادت اور غور و فکر میں مشغول رہتے تھے۔ یہی وہ مبارک مقام ہے جہاں پہلی وحی نازل ہوئی، اور قرآنِ کریم کا نزول شروع ہوا۔ گویا خلوت، یکسوئی اور اللہ سے تعلق — یہی وہ کیفیت ہے جو اعتکاف کی روح ہے۔

قرآنِ کریم میں اعتکاف

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، ان کے قریب نہ جاؤ۔

(سورۃ البقرہ: 187)

یہ آیت واضح طور پر اعتکاف کی مشروعیت اور اس کے آداب کو بیان کرتی ہے۔

اعتکاف کے فضائل

یہ سنتِ نبوی ﷺ ہے۔

لیلۃ القدر کی تلاش کا بہترین ذریعہ ہے۔

گناہوں سے حفاظت اور دل کی اصلاح کا سبب ہے۔

اللہ سے قربت حاصل کرنے کا خاص موقع ہے۔

حضرت نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور لیلۃ القدر کی تلاش میں عبادت میں مشغول رہتے تھے۔

(صحیح مسلم: 1167)

میرے عزیز دوستو!

آج ہی اعتکاف کا ارادہ کریں۔ اپنے قریبی مسجد میں جا کر اعتکاف کا فارم بھریں۔ اللہ پر توکل کریں، یقین کریں کہ جب بندہ اللہ کے لیے قدم اٹھاتا ہے تو اللہ اس کے لیے راستے آسان فرما دیتا ہے۔

دو رکعت نفل ادا کریں اور عاجزی سے دعا کریں:

یا اللہ! مجھے اعتکاف جیسی خوبصورت عبادت کے لیے قبول فرما لے، میرے لیے آسانی کے دروازے کھول دے۔

یقین رکھیں،

بیوی بچوں کی ترتیب بھی اللہ بنائے گا۔

رزق اور معاشی معاملات کی ذمہ داری بھی اللہ سنبھال لے گا۔

خود کو اللہ کے حوالے کر دیں۔

اگر آپ کسی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں تو آج ہی چھٹی کی درخواست دے دیں کہ میں اعتکاف میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔

اگر اپنا کاروبار ہے تو ابھی سے ترتیب بنا لیں۔

جیسے آپ دنیا کے کام کے لیے اپلیکیشن دیتے ہیں، ویسے ہی اللہ کو بھی اپنی اپلیکیشن دیں:

یا اللہ! میں تیرے گھر میں بیٹھنا چاہتا ہوں، مجھے قبول فرما لے۔

جب نیت سچی ہو اور قدم اللہ کے لیے اٹھے تو اللہ سارے راستے آسان فرما دیتا ہے۔

اللہ ہمیں اعتکاف کی توفیق دے اور اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔

تحریر 25

دل کے سکون کے لیے 40 دن کا روحانی کورس

ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے دل کو نور ملے اور اسے دلی سکون نصیب ہو۔

ہم نے اپنی زندگی کے نہ جانے کتنے سال گزار دیے، بلکہ ہزاروں دن دنیا کے کاموں میں لگا دیے۔ تو کیوں نہ صرف ایک چالیس دن ہم اپنی زندگی کے نکالیں… ایک ایسا چالیس دن، جو ہم اس روحانی کورس کو دیں، جو میں آپ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں تجویز کر رہا ہوں۔

یقین رکھیں، اگر آپ نے اخلاص اور پابندی کے ساتھ یہ چالیس دن مکمل کر لیے، تو اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو نور اور زندگی کو حقیقی سکون عطا فرمائے گا، اِن شاء اللہ۔

اگر آپ کسی بھی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہیں

چاہے وہ مالی ہو، صحت کی ہو، گھریلو معاملات ہوں، اولاد کا مسئلہ ہو یا ازدواجی زندگی کی الجھنیں ہوں، تو یہ 40 دن کا روحانی کورس آپ کے لیے ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔

سب سے پہلے:

پانچ وقت کی نمازوں کی مکمل پابندی کریں، اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔

تہجد کے وقت:

نمازِ تہجد ادا کریں اور عاجزی کے ساتھ اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھیں۔

فجر کے بعد:

سورۃ یٰسین کی تلاوت کریں۔

روزانہ:

حسبِ توفیق صدقہ ضرور نکالیں، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

یاد رکھیں، صدقہ اللہ کے حکم سے بلاؤں کو ٹالتا اور دل میں نرمی پیدا کرتا ہے۔

قرآن سے تعلق:

روز کم از کم ایک رکوع قرآنِ مجید ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں، تاکہ دل کو ہدایت، نور اور قرآن سے حقیقی تعلق نصیب ہو۔

عصر کے بعد:

1000 مرتبہ "استغفراللہ" پڑھیں۔

مغرب کے بعد:

سورۃ الواقعہ کی تلاوت کریں۔

پورے دن میں:

کم از کم 1200 مرتبہ درودِ شریف پڑھیں۔

ان چالیس دنوں کے اندر:

اگر ممکن ہو تو ہر پیر اور جمعرات کے دن نفلی روزہ ضرور رکھیں۔

سونے سے پہلے:

7 مرتبہ سورۃ الفاتحہ اور 3 مرتبہ آخری تین قل پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں، اور اپنے گھر والوں پر بھی دم کریں۔

اہم ہدایت:

ان تمام اعمال کو 40 دن تک مسلسل پابندی، اخلاص اور یقین کے ساتھ جاری رکھیں۔

اختتامیہ:

اِن شاء اللہ، ان اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو ایک خاص نور، زندگی کو سکون، اور گھر میں خیر و برکت عطا فرمائے گا۔

اور یاد رکھیں:

﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾
سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

(سورۃ الرعد: 28)

مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

تحریر 26

ڈپریشن، اینزائٹی اور زیادہ سوچنے کا یقینی علاج

(Depression, Anxiety & Overthinking Ka Yaqeeni Ilaaj)

40 دن کا روحانی کورس

(40 Days Roohani Course)

آج کے دور میں ڈپریشن، اینزائٹی اور Overthinking بہت عام ہو چکے ہیں۔ انسان مستقبل کے خوف، ماضی کی باتوں اور مختلف پریشانیوں کو بار بار سوچتے سوچتے ذہنی تھکن، بے خوابی اور بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! سکون زیادہ سوچنے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر یقین، دعا اور توکل میں ہے۔

﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾
سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

(سورۃ الرعد: 28)

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ﴾
اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔

(سورۃ الطلاق: 3)

اگر آپ ذہنی دباؤ، گھریلو مسائل، مالی پریشانی یا دل کی بے چینی کا شکار ہیں تو یہ 40 دن کا روحانی کورس اِن شاء اللہ آپ کے لیے سکون اور خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

40 دن کا روحانی کورس

پانچ وقت کی نماز کی مکمل پابندی کریں۔

تہجد کے وقت اللہ سے عاجزی کے ساتھ دعا کریں۔

فجر کے بعد سورۃ یٰسین کی تلاوت کریں۔

روزانہ حسبِ توفیق صدقہ کریں۔

روز کم از کم ایک رکوع قرآنِ مجید ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔

عصر کے بعد 1000 مرتبہ “استغفراللہ” پڑھیں۔

مغرب کے بعد سورۃ الواقعہ کی تلاوت کریں۔

پورے دن میں کم از کم 1200 مرتبہ درودِ شریف پڑھیں۔

اگر ممکن ہو تو ہر پیر اور جمعرات کو نفلی روزہ رکھیں۔

سونے سے پہلے سورۃ الفاتحہ اور آخری تین قل پڑھ کر دم کریں۔

جب بھی دل میں خوف یا پریشانی آئے تو یہ پڑھیں:

حسبن اللہ ونعم الوکیل

(اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)

پھر دل سے اللہ سے کہیں:

یا اللہ! یہ معاملہ میں نے آپ کے حوالے کیا۔

یاد رکھیں!

زیادہ سوچنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر اللہ پر سچا توکل دل کو سکون دے دیتا ہے۔ اگر یہ اعمال 40 دن اخلاص اور پابندی کے ساتھ کیے جائیں تو اِن شاء اللہ دل کو نور، زندگی کو سکون اور گھر میں خیر و برکت نصیب ہوگی

تحریر 27

عمرہ عبادت ہے یا اسٹیٹس؟ اصل کامیابی ہوٹل نہیں، اللہ سے تعلق ہے

آج کل ایک عجیب رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب کوئی عمرہ کر کے واپس آتا ہے تو اس کی گفتگو کا مرکز عبادت نہیں بلکہ ہوٹل بن جاتا ہے۔ وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ہمارا ہوٹل کتنا قریب تھا، کمرے سے حرم نظر آتا تھا، لفٹ کتنی تیز تھی، ناشتے میں کیا کیا ملتا تھا، اور کمرہ کتنا مہنگا تھا۔ گویا اصل کامیابی یہ تھی کہ ہوٹل کتنا “لگژری” تھا، نہ کہ عمرہ کتنا خلوص کے ساتھ ادا کیا گیا

اگر کوئی سننے والا ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ عمرہ کرنے نہیں بلکہ ہوٹل کا ریویو دینے گیا تھا۔ “ہم تو بس نیچے اترے اور حرم سامنے تھا”، “ہم نے اتنی مہنگی بکنگ کروائی تھی”، “ہمیں ویو والا کمرہ ملا تھا”—یہ سب باتیں بڑے شوق سے سنائی جاتی ہیں۔ مگر افسوس! یہ کوئی نہیں بتاتا کہ دل میں کتنی تبدیلی آئی؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حرم کی کارگزاری سنائی جاتی۔ یہ بتایا جاتا کہ وہاں جا کر دل کیسے نرم ہوا، اللہ سے تعلق کیسے مضبوط ہوا . یہ بھی بتایا جاتا کہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی، ان سے دین کی بات ہوئی، ایمان کی روشنی کیسے پھیلی۔ وہ موقع جب پوری امت ایک جگہ جمع ہوتی ہے، وہ تو دعوت، اخوت اور ایمان کو بڑھانے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔

پہلے لوگ جب واپس آتے تھے تو ان کی باتوں میں روحانیت ہوتی تھی۔ وہ حرم کی کیفیت سناتے تھے، اللہ کے گھر کی عظمت بیان کرتے تھے، ایمان تازہ کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ مگر آج کل افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عمرہ عبادت سے زیادہ ایک “اسٹیٹس” بن گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے فیشن بنا چکے ہیں—جیسے یہ بتانا ہو کہ ہم کتنے خوشحال ہیں، ہم نے رمضان میں مہنگی ٹکٹ لی، ہم نے فلاں ہوٹل میں قیام کیا۔

یہ سب کچھ سن کر دل دکھتا ہے کہ کہیں ہم نے عبادت کی روح کو تو نہیں کھو دیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے لوگوں کو متاثر کرنے نکل پڑے ہیں؟

عمرہ دکھاوے کے لیے نہیں، دل کو بدلنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اللہ سے دوستی کا سفر ہے، نہ کہ دنیا کو اپنی حیثیت دکھانے کا ذریعہ۔

تحریر 28

ایامِ حج — ایک شاعرانہ اظہار

بھیگ جاتی ہے آنکھیں اکثر ایامِ حج میں

وطن میرا اجنبی سا لگتا ہے ایامِ حج میں

یاد آتی ہے حرمین کی فضا ایامِ حج میں

دھرکنوں میں ہے لبیک کی صدا ایامِ حج میں

یا رب اب کی بار محسن کو بلالے ایامِ حج میں

کبھی مناِ سے عرفات

کبھی عرفات سے مزدلفہ

دیوانوں کی طرح میں بھی گھوموں ایامِ حج میں

وہ راتوں کا قیام وہ دھوپ میں پگلنہ

دیوانگی کی انتہا کو میں بھی پونچھوں ایامِ حج میں

وہ اشکوں کی بہاریں, عشق کی ہو انتہا

ایمان کی عروج پر میں بھی پونچھوں ایامِ حج میں

پھر طواف زیارت کو جب قافلے چلے ہمسفر میں بھی ہوں ان کا ایامِ حج میں

وہ کعبے کے چکر وہ وہ سعی میں دوڑنا

جنون عشق میں بھی دیکھوں ایامِ حج میں

تحریر 29

قربانی… اخلاص یا نمائش؟

عید الاضحی قریب آتے ہی ایک عجیب مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔

کوئی پچیس لاکھ کا جانور لا رہا ہے، کوئی پچاس لاکھ کا، اور کہیں کہیں تو ایک کروڑ تک کے جانوروں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ بڑے بڑے، بھاری بھرکم، دیکھنے میں خوبصورت جانور… مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصل قربانی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ آج کل بہت سے جانور غیر فطری طریقوں سے موٹے کیے جاتے ہیں۔ مختلف انجیکشنز اور مصنوعی خوراک کے ذریعے ان کا وزن بڑھایا جاتا ہے۔ بظاہر وہ بہت قیمتی اور وزنی نظر آتے ہیں، لیکن جب ذبح کیے جاتے ہیں تو اکثر ان میں چربی زیادہ نکلتی ہے، جبکہ گوشت نہ اتنا ذائقے دار ہوتا ہے اور نہ آسانی سے گلتا ہے۔

اس کے برعکس ایک سادہ، صحت مند اور مناسب عمر کا جانور—مثلاً دو دانت کا درمیانے سائز کا جانور—نہ صرف بہتر اور لذیذ گوشت دیتا ہے بلکہ کھانے والوں کو بھی حقیقی خوشی دیتا ہے۔ جب یہی گوشت غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے تو وہ بھی اسے شوق سے استعمال کرتے ہیں، نہ کہ صرف چربی الگ کرتے رہ جائیں۔

اس شہر میں ایک اور افسوسناک منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بعض گھروں کے باہر لاکھوں روپے کے مہنگے جانور سجا کر کھڑے کیے جاتے ہیں، مگر دوسری طرف انہی لوگوں کے قرض خواہ دروازوں پر موجود ہوتے ہیں۔ جن سے ادھار لیا گیا ہوتا ہے، جن کے پیسے دینے ہوتے ہیں، وہ بھی بعض اوقات لائنوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح غریب ملازمین کم تنخواہوں میں سخت محنت کر رہے ہوتے ہیں، مگر گھر کے باہر مہنگے جانوروں کی نمائش جاری ہوتی ہے۔

یقیناً قربانی عبادت ہے، مگر اگر ہمارے معاملات، قرض، ملازمین کے حقوق اور لوگوں کی حق تلفی نظر انداز ہو رہی ہو تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ یقیناً ہر شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہی قربانی کرتا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس پچاس لاکھ روپے موجود ہیں تو کیا بہتر نہیں کہ ایک انتہائی مہنگا جانور لینے کے بجائے کئی صحت مند اور مناسب جانور خرید کر زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے؟

ایک اور افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ قربانی کی تیاریوں اور جانوروں کی نمائش میں تو بہت وقت لگاتے ہیں، مگر نمازوں کی فکر کم ہو جاتی ہے۔ قربانی والے دن اکثر لوگ گوشت، تقسیم اور دیگر مصروفیات میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ نہ فجر کی نماز کا خیال رہتا ہے اور نہ باقی نمازوں کا۔ حالانکہ قربانی ایک عظیم عبادت ضرور ہے، مگر نماز تو اسلام کا بنیادی ستون ہے۔

افسوس یہ ہے کہ بعض اوقات جانوروں کی دیکھ بھال، ویڈیوز، تصویریں اور نمائش کا اہتمام تو بہت ہوتا ہے، مگر نمازوں کی پابندی اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی طرف وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دینی چاہیے۔

قرآنِ کریم ہمیں قربانی کی اصل روح کی طرف متوجہ کرتا ہے:

ہرگز اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

(سورۃ الحج: 37)

لہٰذا قربانی اخلاص، عاجزی اور سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو ضرور خرچ کریں، دل کھول کر خرچ کریں، مگر اعتدال کے ساتھ۔ ایسا نہ ہو کہ یہ عظیم عبادت آہستہ آہستہ دکھاوے اور شہرت کا ذریعہ بن جائے۔

آج کل بعض مقامات پر قربانی ایک میلے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے؛ کہیں غیر ضروری لائٹنگ، کہیں ہجوم، کہیں شور و غل، اور کہیں بے پردگی کا ماحول۔ حالانکہ یہ ایک خالص دینی عبادت ہے، جس میں سادگی، ادب، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی رضا پیشِ نظر ہونی چاہیے، نہ کہ نمائش اور لوگوں کی واہ واہ۔

اصل خوبصورتی قربانی کی قیمت میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاص، سنت کی پیروی، اور یہ عبادت اپنے اصل مقصد کے مطابق ادا ہو۔

تحریر 30

قربانی کے ساتھ نماز کی اہمیت

قربانی اللہ تعالیٰ کا عظیم حکم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی واجب ہے اور اس کا اہتمام کرنا یقیناً نیکی اور اجر کا باعث ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس دین نے قربانی کا حکم دیا، اسی دین نے سب سے پہلے نماز کا حکم دیا، اور قرآنِ کریم میں بار بار نماز قائم کرنے کی تاکید فرمائی۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی جانوروں کی خریداری، مہنگے سے مہنگا جانور لینے، دوستوں اور رشتہ داروں کو دکھانے، قربانی کے انتظامات، گوشت کی تقسیم، دعوتوں اور باربی کیو پارٹیوں میں تو غیر معمولی جوش و جذبہ دکھائی دیتا ہے، مگر افسوس کہ اسی دوران بہت سے لوگوں کی فرض نمازیں قضا ہو جاتی ہیں۔ فجر کی نماز، جو اللہ کے نزدیک نہایت عظیم عبادت ہے، اس میں مسجدیں خالی نظر آتی ہیں جبکہ گلیاں اور گھر قربانی کے جانوروں سے بھرے ہوتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر واقعی ہماری قربانی اللہ کی رضا کے لیے ہے تو پھر اللہ کے سب سے بڑے حکم یعنی نماز کو کیوں بھلایا جا رہا ہے؟ قربانی واجب ہے، لیکن نماز فرض ہے، اور قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی قبولیت کے قریب ہوں گے۔

قربانی ضرور کریں، بہترین جانور لائیں، اللہ کی راہ میں خرچ کریں، لیکن اس کے ساتھ اپنے گھر، اپنی اولاد اور اپنے دلوں میں نماز کی اہمیت بھی زندہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم سنت و واجب کے اہتمام میں فرض کو پیچھے چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ کو صرف جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ ہمارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔

اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

(سورۃ الحج: 37)

آئیے اس عید پر قربانی کے ساتھ ساتھ نمازوں کی بھی حفاظت کریں، تاکہ ہماری قربانی واقعی اللہ کی رضا کا ذریعہ بن جائے۔

تحریر 31

یومِ عاشورہ کیسے گزاریں؟

یہ میری ذاتی رائے ہے، نہ میں کوئی فتویٰ دے رہا ہوں اور نہ ہی کسی پر اپنی بات مسلط کر رہا ہوں۔ میری ناقص رائے میں کم از کم یومِ عاشور کو انتہائی ادب، احترام اور سنجیدگی کے ساتھ گزارنا چاہیے۔

محرم الحرام کے یہ ایام ہمیشہ سے احترام والے دن رہے ہیں۔ خصوصاً عاشورہ کا دن اسلام میں ایک عظیم نسبت اور خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دن کے روزے کی بھی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یومِ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔

(صحیح مسلم)

میری رائے میں یہ دن سیر و تفریح، پکنک اور غیر ضروری مشاغل میں گزارنے کے بجائے ادب، احترام، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، دعا اور عبادت کی طرف توجہ دینے کے ہیں۔

یہ دن شہدائے کربلا کی نسبت سے بھی انتہائی اہم ہیں۔ میدانِ کربلا میں امام حسینؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ تاریخِ انسانیت کے المناک واقعات میں سے ہے کہ نبی کریم ﷺ کے نواسے اور آپؐ کے اہلِ بیتؓ کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس ظلم کی مذمت ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔ جس کے دل میں ایمان اور محبتِ رسول ﷺ ہے، وہ اس سانحۂ عظیم پر یقیناً رنج و افسوس محسوس کرتا ہے۔

البتہ شہادتِ حسینؓ کا پیغام صرف غم ہی نہیں بلکہ حق پر ثابت قدمی، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے، دین کی خاطر قربانی دینے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کا بھی پیغام ہے۔ اسی لیے عاشورہ کا دن ہمیں اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنے تعلقِ الٰہی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔

میری ناقص رائے میں اگر ان تعطیلات میں کہیں وقت گزارنا ہی مقصود ہو تو پکنک، سیر و تفریح اور غیر ضروری مصروفیات کے بجائے دینی و تبلیغی اسفار میں وقت گزارنا زیادہ بہتر ہے، جہاں انسان اپنے دین کو سیکھے، اپنی اصلاح کرے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہارؓ، صحابۂ کرامؓ اور تمام صالحین کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر 32

تراویح میں سکون اور تجوید کی اہمیت

رمضان میں تراویح اور راتوں کا قیام ایک عظیم عبادت ہے، مگر افسوس آج ہم نے اسے رفتار کی دوڑ بنا دیا ہے۔ "شارٹ تراویح" کے نام پر قرآن اتنی تیزی سے پڑھا جاتا ہے کہ نہ قاری کو ہوش ہوتا ہے، نہ مقتدی کو سمجھ آتی ہے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا

(اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو)

— سورۃ المزمل: 4

قرآن جلدی ختم کرنا کامیابی نہیں، اسے ادب اور سمجھ کے ساتھ پڑھنا اصل کامیابی ہے۔

اس رمضان نیت کریں کہ ہم سکون والی تراویح پڑھیں گے، قرآن کو سمجھ کر سنیں گے اور راتوں کے قیام کی قدر کریں گے۔

تحریر 33

تبلیغی و دینی اجتماعات — اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت

تبلیغی اور دینی اجتماعات بلاشبہ آج کے اس پُرفتن اور مادّہ پرستانہ دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ وہ بابرکت محافل ہیں جہاں مسلمانوں کا ایک عظیم مجمع صرف اللہ کی محبت اور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے عشق و محبت کے لیے جمع ہوتا ہے۔ ایسے اجتماعات میں دل دنیا کی آلائشوں سے ہٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ایمان کو تازگی نصیب ہوتی ہے۔

ان اجتماعات میں دین سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام ہوتا ہے، اللہ کی محبت کی باتیں کی جاتی ہیں، اور نبی کریم ﷺ کی سیرت، آپ ﷺ کی قربانیوں اور امت کے لیے آپ ﷺ کے درد و غم کو دلوں میں زندہ کیا جاتا ہے۔ یہاں بار بار اس بنیادی عقیدے کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور اسی عقیدے پر ہمارا ایمان قائم ہے۔

یہ بابرکت محافل ہمیں یہ سوچ عطا کرتی ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا، مال کمانا، دنیاوی آسائشیں حاصل کرنا، یا صرف اپنی ذات اور خاندان تک محدود ہو کر جینا نہیں ہے، بلکہ پوری دنیا میں دین کی محنت کرنا، اللہ کے پیغام کو عام کرنا، اور نبی کریم ﷺ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔

ان اجتماعات میں صحابہ کرامؓ کی بے مثال قربانیوں کا تذکرہ ہوتا ہے، اہلِ بیتؓ سے محبت اور وابستگی کی باتیں کی جاتی ہیں، اور دین کے لیے اخلاص، ایثار اور قربانی کا جذبہ دلوں میں پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ وہ محافل ہیں جو انسان کی سوچ، نیت اور زندگی کے رخ کو بدل دیتی ہیں۔

ایسے اجتماعات میں لوگوں کا راتوں کو جاگ کر اللہ کے حضور کھڑا ہونا، تہجد پڑھنا، قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مشغول ہونا—یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص اور عظیم نعمتیں ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب بندہ دنیا سے کٹ کر اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے اور اللہ سے اللہ کو مانگتا ہے۔

اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا، اللہ کی محبت میں جمع ہونے والوں کے ساتھ وقت گزارنا یقیناً اللہ تعالیٰ کو بے حد محبوب ہے۔ جب بندے صرف اس کی رضا کے لیے جمع ہوتے ہیں، اس کے دین کے لیے فکر کرتے ہیں اور اس سے ہدایت و مدد مانگتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی اس امت پر اپنی رحمت کے دروازے کھولے ہوئے ہے۔

بلاشبہ تبلیغی و دینی اجتماعات ہمارے لیے ہدایت، اصلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان عظیم نعمتوں کی قدر کریں اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

تحریر 34

اللہ کے محبوب بندوں کی صفات

اللہ کن لوگوں سے محبت کرتا ہے؟

یہ سوال ہر مومن کے دل میں اٹھتا ہے، کیونکہ ہم سب چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو اور ہم اس کے محبوب بندوں میں شامل ہوں۔ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کن صفات والوں سے محبت کرتا ہے۔

آئیے قرآن کی آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں:

1️⃣ متقین (پرہیزگار لوگ)

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ التوبہ 9:4)
2️⃣ محسنین (نیکی کرنے والے)

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ البقرہ 2:195)
3️⃣ صابرین (صبر کرنے والے)

وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ

ترجمہ: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ آلِ عمران 3:146)
4️⃣ متوکلین (اللہ پر بھروسا کرنے والے)

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ آلِ عمران 3:159)
5️⃣ مقسطین (انصاف کرنے والے)

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ المائدہ 5:42)
6️⃣ توبہ کرنے والے اور پاک رہنے والے

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

ترجمہ: بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(سورۃ البقرہ 2:222)
7️⃣ اللہ کی راہ میں صف باندھ کر لڑنے والے

إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا

ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں۔

(سورۃ الصف 61:4)
⭐ اللہ کا محبوب بننے کا اصل راستہ
8️⃣ رسول ﷺ کی اتباع کرنے والے

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ

ترجمہ: (اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔

(سورۃ آلِ عمران 3:31)

یہ آیت گویا معیار ہے۔ صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ سنتِ رسول ﷺ کو اپنانا ضروری ہے۔

اللہ ہم سب کو اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

تحریر 35

مساجد پر تالے

مساجد پر تالا لگا دیکھ کر دل واقعی بہت دکھی ہو جاتا ہے۔

مسجد وہ گھر ہے جسے اللہ نے اپنی یاد کے لیے منتخب فرمایا، مگر افسوس کہ آج بہت سی مساجد نماز کے صرف ایک گھنٹے بعد بند کر دی جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب بازار آباد ہوتے ہیں، کلب اور دوسری دنیاوی مصروفیات پوری رات جاری رہتی ہیں، اللہ کے گھروں کا یوں ویران ہو جانا امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں۔ مسجدیں صرف نماز کی ادائیگی تک محدود نہ ہوں بلکہ اعمال، ذکر، تلاوت اور دعا سے چوبیس گھنٹے آباد رہیں۔ اگر دنیا کے کاموں کے لیے ہم وقت نکال سکتے ہیں تو دین کے لیے کیوں نہیں؟ اصل کمی وسائل کی نہیں، نیت اور ترتیب کی ہے۔

ایسی دینی محنت ہونی چاہیے کہ ہر محلے کے مسلمان مل کر وقت تقسیم کریں۔ کوئی فجر کے بعد، کوئی دن میں، کوئی مغرب و عشاء کے بعد—ہر کوئی اپنی سہولت کے مطابق مسجد کی آبادی میں حصہ ڈالے۔ محلے والے اگر اپنی مسجد کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیں تو مسجد کبھی ویران نہیں ہوگی، نہ ہی اس پر تالا لگانے کی نوبت آئے گی۔

مسجدیں صرف عمارتیں نہیں، یہ ایمان کو زندہ رکھنے کے مراکز ہیں۔ جب مسجد آباد ہوگی تو محلہ آباد ہوگا، اور جب محلہ آباد ہوگا تو پوری امت میں زندگی کی رمق دوڑ جائے گی۔ آئیں عہد کریں کہ ہم اللہ کے گھروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، بلکہ اپنے اعمال سے انہیں ہمیشہ آباد رکھیں گے

تحریر 36

مسجد کا گنبد اور سجاوٹ یا عبادت گزار؟ — ہماری بدلتی ترجیحات

دو کروڑ روپے کا مسجد کا گنبد، لاکھوں روپے کے مینار، قیمتی فانوس، منقش ٹائلیں، دبیز قالین —یہ سب کچھ موجود ہے، مگر مسجد نمازیوں سے خالی ہے۔ یہ اسلام کی روح

نہیں۔

ہم ایک غریب ملک میں رہنے والی غریب قوم ہیں، مگر افسوس کہ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔

اسلام ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم دیواروں اور چھتوں کو سجائیں، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ مسجدیں عبادت گزاروں سے آباد ہوں۔ چندے کا اصل مصرف انسان ہے—وہ انسان جو فاقہ کشی کا شکار ہے، جسے پوری تنخواہ نہیں ملتی، جس کے لیے روزگار کے مواقع ناپید ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ مسجد سادہ ہو اور اضافی وسائل ضرورت مندوں، بے روزگاروں اور مجبور خاندانوں پر خرچ کیے جائیں۔

میں خود ایسے علاقے میں رہتا ہوں جہاں ایک ہی جگہ، چند قدموں کے فاصلے پر دو مساجد قائم ہیں۔ دونوں کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے، مگر آج دونوں میں نمازی گنے چنے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مسجد بننی چاہیے یا نہیں—یقیناً بننی چاہیے—سوال یہ ہے کہ کیا ہر تھوڑے فاصلے پر نئی مسجد کی واقعی ضرورت ہے؟ اور کیا تزئین و آرائش کے نام پر بار بار کروڑوں روپے خرچ کرنا درست ہے؟

یہ ایک مسجد کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا عمومی المیہ ہے کہ بیس بیس سال گزرنے کے باوجود بھی چندے کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ مولوی صاحب ثوابِ دارین کے نام پر چندہ مانگتے ہیں اور لوگ اپنے اردگرد بسنے والے غریب مسلمانوں کے حقوق نظر انداز کر کے دیواروں کو سجاتے اور فرشوں کو آراستہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات مسجد کی سجاوٹ پر اتنی رقم خرچ کر دی جاتی ہے جس سے ایک غریب خاندان کے سال بھر کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں یا کسی بے روزگار کے لیے روزگار کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

آئیے ذرا رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو دیکھیں۔ امام بخاریؒ اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں:

كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ

مسجدِ نبوی ﷺ کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت کمزور تھی، اس لیے مسجد سادہ تھی۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں، جب اسلام کو غلبہ حاصل تھا، بیت المال مالِ غنیمت سے بھرا ہوا تھا، تب بھی مسجد کی تعمیر میں سادگی ہی کو ترجیح دی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے معماروں سے فرمایا:

أَكِنَّ النَّاسَ مِنْ الْمَطَرِ وَإِيَّاكَ أَنْ تُحَمِّرَ أَوْ تُصَفِّرَ فَتَفْتِنَ النَّاسَ

لوگوں کو بارش سے بچانا، اور خبردار! سرخی یا زردی کا استعمال نہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ نقش و نگار میں الجھ جائیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى

تم مساجد کو اسی طرح آراستہ کرو گے جیسے یہودی اور نصرانیوں نے اپنی عبادت گاہوں کو آراستہ کیا۔

(صحیح البخاری)

نبی کریم ﷺ نے مساجد کی زیب و زینت پر فخر کو قیامت کی نشانی قرار دیا:

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ

قیامت قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مسجدوں پر ایک دوسرے سے فخر نہ کرنے لگیں۔

(سنن ابی داؤد)

اور فرمایا:

مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ

مجھے بلند و شاندار مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

(سنن ابی داؤد)

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کی اصل روح کو سمجھیں۔ مسجد کا حسن اس کے قالین، فانوس یا گنبد میں نہیں، بلکہ سجدوں، صفوں اور عبادت گزاروں میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہماری اصلاح فرمائے، اور دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر 37

خود اعتمادی کیسے پیدا ہوتی ہے؟

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ خود اعتمادی کیسے پیدا ہو؟

اصل بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔

وہ یہی فکر کرتے ہیں:

میں کیسا لگ رہا ہوں؟
میں موٹا تو نہیں لگ رہا؟
میں پتلا تو نہیں لگ رہا؟
میں کالا تو نہیں دکھ رہا؟
میرے کپڑے صحیح ہیں؟
میرا لباس ٹھیک ہے؟
میرے بال صحیح ہیں؟

اور پھر یہی فکر انسان کے اعتماد کو کمزور کر دیتی ہے۔

انسان لوگوں کے سامنے خود کو پیش نہیں کر پاتا، بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے کہ:

لوگ کیا سوچیں گے؟
میری بات اچھی لگے گی یا بری؟
لوگ میرا مذاق تو نہیں اڑائیں گے؟

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اس سوچ کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے، تب اس کے اندر اصل خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

جب انسان اپنے آپ سے کہتا ہے:

میں جیسا ہوں، اچھا ہوں۔

میرے رب نے مجھے بنایا ہے، اور بہت خوبصورت بنایا ہے۔

تو پھر دل مضبوط ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ

بے شک ہم نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا فرمایا۔

جب ربِ کائنات قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ تُو بہترین ہے، تو پھر لوگوں کی رائے سے ڈرنے کی کیا ضرورت؟

لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہیں گے۔

کوئی تعریف کرے گا، کوئی تنقید کرے گا۔

ہر انسان کی اپنی سوچ اور اپنی رائے ہوتی ہے۔

لیکن ضروری یہ ہے کہ آپ اپنی رائے پر اعتماد رکھیں، اپنی بات پورے یقین کے ساتھ پیش کریں، اور دل سے یہ خوف نکال دیں کہ “لوگ کیا کہیں گے؟

اپنے آپ کو صاف ستھرا اور مناسب انداز میں تیار کریں، لیکن ہر وقت خود کو سنوارنے اور دوسروں کی نظروں میں اچھا لگنے کی فکر میں نہ رہیں۔

کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ دلوں میں عزت اللہ دیتا ہے۔

اگر اللہ چاہے تو سادگی میں بھی عزت دے دے،

اور اگر اللہ نہ چاہے تو انسان لاکھ خوبصورتی اور دکھاوا کر لے، دلوں میں جگہ نہیں بنا سکتا۔

جب بھی یہ خیال ستائے کہ

میں کیسا لگ رہا ہوں؟ لوگ کیا سوچیں گے؟

تو اللہ سے یقین کے ساتھ دعا کریں:

یا اللہ! سب کے دلوں میں مجھے اچھا کر دے، مجھے عزت عطا فرما۔

کیونکہ وہی اللہ ہے جو دلوں میں عزت دیتا ہے۔

اس لیے اپنے رب پر بھروسہ رکھیں، اور خود سے کہیں:

میں جیسا ہوں، اللہ کی بنائی ہوئی بہترین تخلیق ہوں۔

یقین مانیں، جس دن آپ “لوگ کیا کہیں گے” کی قید سے آزاد ہو گئے، اسی دن آپ کے اندر حقیقی خود اعتمادی پیدا ہو جائے گی۔

تحریر 38

احساسِ کمتری — خطرناک ترین بیماری

انسان کی زندگی میں سب سے خطرناک چیز اگر کوئی ہے تو وہ احساسِ کمتری ہے۔

اکثر لوگ دنیا میں اس لیے آگے نہیں بڑھ پاتے کیونکہ وہ خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتے ہیں۔ کسی کو اپنے قد سے مسئلہ ہے، کسی کو رنگ سے، کسی کو اپنے وزن سے، کسی کو اپنے چہرے سے، کسی کو اپنے بالوں سے۔ کوئی یہ سوچ سوچ کر پریشان رہتا ہے کہ میں گنجا ہوں، میرے بال کم ہیں، میرا قد چھوٹا ہے، میں بہت دبلا ہوں، میں بہت موٹا ہوں، میرا پیٹ باہر آ رہا ہے، میرا رنگ کالا ہے، لوگ مجھے کیسے دیکھتے ہوں گے۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ انسان کا اعتماد کھا جاتی ہے۔

پھر انسان پوری زندگی صرف اپنے ظاہر کو بدلنے میں لگا دیتا ہے۔

کوئی وزن کم کرنے میں لگا ہے، کوئی وزن بڑھانے میں، کوئی قد بڑھانے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہے، کوئی گورا ہونے کی کریمیں لگا رہا ہے، کوئی بال اگانے کی کوششوں میں اپنی جوانی گزار دیتا ہے۔ اور اسی دوڑ میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ آخرکار موت آ جاتی ہے، لیکن انسان ایک احساسِ کمتری کے ساتھ دنیا سے چلا جاتا ہے۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا:

﴿ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ﴾

ترجمہ:

بے شک ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں پیدا فرمایا۔

یہ سوچنے کی بات ہے کہ جب اللہ، جو سب سے بڑا خالق ہے، وہ فرما رہا ہے کہ میں نے انسان کو بہترین شکل میں بنایا، تو پھر ہم اپنی شکل و صورت سے اتنے ناخوش کیوں رہتے ہیں؟

ہم اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کی بنائی ہوئی تصویر ہیں۔ ہمیں اپنے رب کی بنائی ہوئی شکل پر شکر ادا کرنا چاہیے، نہ کہ ہر وقت دوسروں سے اپنی ظاہری شکل کا مقابلہ کرتے رہنا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خود کو چھوڑ دے۔

اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا، اچھا لباس پہننا، جسمانی صحت کا خیال رکھنا، یہ سب اچھی باتیں ہیں۔ بلکہ سنت یہ سکھاتی ہے کہ انسان پاکیزہ رہے، خوشبو لگائے، اچھے لباس پہنے اور اپنے آپ کو مہذب رکھے۔ لیکن پوری زندگی صرف اپنے ظاہری جسم کو بدلنے کی فکر میں گزار دینا دانشمندی نہیں۔

اگر بدلنا ہی ہے تو اپنے اخلاق بدل لو۔

اپنا کردار بدل لو۔

اپنی زبان بہتر کر لو۔

اپنے معاملات بہتر کر لو۔

رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں لے آؤ۔

کیونکہ اصل خوبصورتی چہرے کی نہیں، کردار کی ہوتی ہے۔ دنیا میں کتنے ہی خوبصورت چہرے ایسے ہیں جنہیں لوگ ان کے اخلاق کی وجہ سے ناپسند کرتے ہیں، اور کتنے ہی سادہ لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کے کردار کی وجہ سے دلوں میں جگہ مل جاتی ہے۔

زندگی کا مقصد صرف خوبصورت نظر آنا نہیں ہے۔

اللہ نے ہمیں ایک مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا ہے؛ اپنے رب کو پہچاننے کے لیے، اس کی عبادت کے لیے، اچھا انسان بننے کے لیے، لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے۔ اس لیے اپنی زندگی احساسِ کمتری میں نہ گزاریں۔ جیسے ہیں، اللہ کا شکر ادا کریں۔ خود کو مناسب حد تک مینٹین رکھیں، لیکن ہر وقت آئینے کے سامنے اپنی خامیاں تلاش نہ کرتے رہیں۔

یاد رکھیں،

اعتماد خوبصورتی سے نہیں آتا،

اعتماد اللہ پر یقین اور اپنے آپ کو قبول کرنے سے آتا ہے۔

تحریر 39

قرآن پڑھانے والوں اور دین کی ذمہ داریاں نبھانے والوں سے ایک درد بھری گزارش

قرآن کو محض آمدنی یا ذریعۂ معاش نہ بنائیں۔

یہ کام اخلاص مانگتا ہے، خوفِ خدا مانگتا ہے۔

قرآن پڑھانا عبادت ہے، تجارت نہیں۔

اسلام کوئی پروفیشن نہیں بلکہ عمل، تقویٰ اور بندگی کا راستہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں صاف تنبیہ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾
اور اللہ کی آیات کو تھوڑی قیمت کے بدلے نہ بیچا کرو

(سورۃ البقرہ: 41)

یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کے کلام کو دنیاوی فائدے، تنخواہ یا کمائی کا ذریعہ بنانا بہت بڑی محرومی ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾
کہہ دیجیے! میں اس (دین) پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا

(سورۃ الانعام: 90)

یہ انبیاء کا طریقہ تھا کہ وہ دین کو اللہ کے لیے پھیلاتے تھے، نہ کہ کمائی کے لیے۔

نبی کریم ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی:

جس شخص نے علم اس نیت سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعے دنیا کمائے، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا

(سنن ابوداؤد)

اور ایک اور حدیث میں فرمایا:

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

قرآن پڑھانا، امامت کرنا، دین سکھانا—یہ سب عظیم عبادات ہیں۔

اگر ان کی نیت اللہ کی رضا ہو تو یہ نجات کا ذریعہ بنتی ہیں،

اور اگر نیت صرف پیسہ، فیس یا تنخواہ ہو تو یہی اعمال وبال بن سکتے ہیں۔

یقیناً اسلام نے یہ حکم نہیں دیا کہ امام یا معلم بھوکا رہے،

لیکن اصل فرق نیت کا ہے:

دین مقصد ہو اور دنیا ذریعہ—تو برکت ہے،

اور اگر دنیا مقصد بن جائے اور دین ذریعہ—تو خسارہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جو قرآن پڑھتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں یا اس کے ذریعے دنیا کمائے، قیامت کے دن اس کے چہرے پر آگ ہوگی

(مفہوم حدیث – ترمذی)

آئیے!

اپنی نیتوں کا محاسبہ کریں،

قرآن کو سمجھ کر پڑھیں،

سمجھ کر پڑھائیں،

اور قرآن کو وہی مقام دیں جو اس کا حق ہے۔

نہ اسے سستا بنائیں، نہ اسے بیچیں۔

اللہ ہمیں قرآن کے ساتھ سچا، خالص اور باوقار تعلق نصیب فرمائے،

ہمیں دین کا خادم بنائے، تاجر نہ بنائے،

اور ہمیں اخلاص کے ساتھ دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 40

دوسروں کے عیب مت تلاش کرو، اپنی اصلاح کی فکر کرو

!دوسروں کے عیب مت تلاش کرو، اپنی اصلاح کی فکر کرو

ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں بہت تیز ہوتے ہیں، لیکن اپنے عیبوں پر نظر ڈالنے کی فرصت نہیں نکالتے۔ حالانکہ ایک سچا اور اچھا مسلمان وہ ہے جو دوسروں کی خوبیوں کو دیکھے اور اپنے عیبوں کی اصلاح میں لگا رہے۔

اگر کسی شخص میں سو خامیاں بھی نظر آئیں تو اس کی کم از کم ایک خوبی ضرور تلاش کریں، اور اسی خوبی کی بنیاد پر اس کے ساتھ حسنِ ظن رکھیں۔ لیکن اپنی خوبیوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے عیبوں کو پہچانیں، ان پر غور کریں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔

اگر کبھی کسی مسلمان میں کوئی غلطی یا کوتاہی نظر آئے، اور واقعی اس کی اصلاح کی ضرورت محسوس ہو، تو اسے لوگوں کے سامنے رسوا نہ کریں۔ اگر کوئی نماز میں سستی کرتا ہے، یا کوئی بہن پردے کے حکم پر عمل نہیں کر رہی، یا کسی اور سے کوئی شرعی کوتاہی ہو رہی ہے، تو اسے تنہائی میں، محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ، قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھائیں۔ یہی انبیاء علیہم السلام کا طریقہ اور اہلِ ایمان کا شیوہ ہے۔

کسی کے عیب کو محفلوں، سوشل میڈیا یا لوگوں کے درمیان بیان کرنا اصلاح نہیں بلکہ اکثر اوقات غیبت، دل آزاری اور اپنی نیکیوں کو ضائع کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر آپ واقعی کسی کے خیرخواہ ہیں تو اس کی عزت کی حفاظت کریں، اس کی خوبیوں کا تذکرہ کریں، اور رات کی تنہائی میں اس کے لیے ہدایت، مغفرت اور بھلائی کی دعا کریں۔

جو شخص ہر وقت دوسروں کے عیب بیان کرتا رہتا ہے، وہ حقیقت میں اصلاح سے زیادہ عیب جوئی اور چسکے لینے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ مخلص مؤمن وہ ہے جو دوسروں کی پردہ پوشی کرتا ہے، خیرخواہی کے جذبے سے نصیحت کرتا ہے اور سب سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔

قرآن کی رہنمائی

اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے عیب نہ ٹٹولو، نہ ہی ایک دوسرے کی غیبت کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

(سورۃ الحجرات: آیت 12)

تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو طعن کرتا ہے اور عیب جوئی کرتا ہے۔

(سورۃ الہمزہ: آیت 1)

احادیثِ مبارکہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جو شخص کسی مسلمان کی دنیا میں پردہ پوشی کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

(صحیح مسلم: 2590)

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے، اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔

(صحیح مسلم: 2564)

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عیب دیکھنے، دوسروں کی پردہ پوشی کرنے، حکمت اور محبت کے ساتھ خیرخواہی کرنے اور اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر 41

لوگوں کی خوبیاں دیکھنے کی عادت ڈال لو، عیب ڈھونڈنے کی نہیں

لوگوں کی خوبیاں دیکھنے کی عادت ڈال لو،

عیب ڈھونڈنے کی نہیں۔

اللہ خوبیاں دیکھنے والوں کو خوبصورت بنا دیتا ہے،

اور عیب تلاش کرنے والے اکثر خود عیب دار ہو جاتے ہیں۔

تحریر 42

مذہبی لوگوں کے لیے لازم ہے کہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں محتاط رہیں

مذہبی لوگوں کے لیے لازم ہے کہ اپنے روز مرہ کے معاملات، تعلق داریاں، طرز گفتگو ہر ہر پہلو میں محتاط رہیں۔

جب پردہ، داڑھی کو عام اعمال پر پرکھا جاتا ہے تو عموما نتیجہ صفر آتا ہے۔ عام شکایات یہی ہیں کہ عبادات میں نمبر ون ہیں، حدیثیں سنانے اور پڑھانے میں اول مگر اپنی اخلاقی حالت، مخلوق کے ساتھ ناقابل بیان۔۔۔ وہ ہی تمام برائیاں ہیں جو عام نفس پرست دنیا داروں میں ہوتی ہیں۔۔۔

کاروبار، جاب، گھر، کچن۔۔۔۔ ناانصافی، خود غرضی اور اخلاقی جہالت سے چلائے جا رہے ہیں۔

پھر ایسے میں ان کو دیکھ کر کون دین سے متاثر ہوگا۔ الٹا جو قریب کے لوگ ہیں وہ مزید دور ہوں گے۔۔۔۔۔ جو ان کا ڈسا ہوا ہوگا وہ یہی کہتا پھرے گا کہ دیکھاوے کہ ہیں یہ لوگ مسلمان۔۔۔۔

احتساب کریں اپنا۔

خود کو اتنا نیک نہ سمجھ بیٹھیں کہ اپنی برائیوں پر کبھی نظر ہی نہ جائے !

تحریر 43

زہریلی عاجزی: جب انسان اپنی صلاحیتوں کو خود ہی دفن کر دے

حیرت کی بات ہے کہ بہت سے مخلص اور دیندار لوگ ایک ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں جسے "زہریلی عاجزی" (Toxic Humility) کہا جا سکتا ہے۔

یہ کیفیت بظاہر تقویٰ اور انکساری محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں بہت سے باصلاحیت لوگوں کو معاشرے کی خدمت سے دور کر دیتی ہے۔

اس کی چند نمایاں علامات یہ ہیں:

- خود کو اتنا گناہ گار اور نااہل سمجھنا کہ کسی بڑے کام یا خدمتِ خلق کی ہمت ہی نہ ہو۔
- اپنی تعلیم، تجربے اور سمجھ بوجھ کو ایک طرف رکھ کر ہر معاملے میں دوسروں کی رائے پر مکمل انحصار کرنا، حتیٰ کہ ایسے شعبوں میں بھی جہاں وہ ماہر نہ ہوں۔
- خود اعتمادی، قیادت اور بلند عزائم کو تکبر یا انا سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کو دبا دینا۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

معاشرہ ایسے متقی، باصلاحیت اور دیندار لوگوں سے محروم ہو جاتا ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں جا کر نہ صرف بہترین خدمات انجام دے سکتے تھے بلکہ اپنے کردار، دیانت اور انصاف کے ذریعے دین کی بھی خدمت کر سکتے تھے۔ وہ ڈاکٹر ہوتے تو ایمانداری اور رحم کے ساتھ علاج کرتے، تاجر ہوتے تو حلال تجارت اور دیانت داری کی مثال بنتے، استاد ہوتے تو نسلوں کی بہترین تربیت کرتے، اور اگر اعلیٰ انتظامی یا حکومتی عہدوں پر پہنچتے تو عدل، امانت، شفافیت اور خدمتِ خلق کو فروغ دیتے۔

لیکن جب اہلِ تقویٰ اور اہلِ صلاحیت خود ہی میدان چھوڑ دیتے ہیں، تو ان کی خالی جگہ اکثر ایسے لوگ بھر دیتے ہیں جن کے پاس نہ دیانت ہوتی ہے، نہ امانت، نہ خوفِ خدا۔ پھر رشوت، کرپشن، ناانصافی اور بےدینی معاشرے میں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے، اور اس کا نقصان پوری قوم کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اسلام ہمیں تکبر سے ضرور روکتا ہے، لیکن اپنی صلاحیتوں کو چھپا دینے یا ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم نہیں دیتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو علم، قابلیت، قیادت، انتظامی صلاحیت، دولت یا اثر و رسوخ عطا کیا ہے تو یہ اس کی امانت ہے، اور اس امانت کو خیر، عدل اور دین کی خدمت کے لیے استعمال کرنا بھی عبادت ہے۔

یاد رکھیے!

عاجزی یہ نہیں کہ انسان خود کو بےکار اور نااہل سمجھ کر میدان چھوڑ دے، بلکہ حقیقی عاجزی یہ ہے کہ اپنی ہر صلاحیت کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھتے ہوئے، تکبر سے بچ کر اخلاص کے ساتھ اس کی مخلوق کی خدمت کرے۔

اگر اہلِ تقویٰ خود کو پیچھے کر لیں تو میدان خالی نہیں رہتا، بلکہ اسے کوئی اور بھر دیتا ہے۔ اس لیے دین دار، باصلاحیت اور باکردار لوگوں کا ہر شعبے میں آگے بڑھنا صرف ان کا حق ہی نہیں بلکہ معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔

تحریر 44

شیطان کی چال: نشے، خصوصاً کرسی اور خودنمائی کا نشہ

شیطان کی چالوں میں سے ایک خطرناک چال یہ بھی ہے کہ وہ انسان کے دل میں مختلف قسم کے نشے پیدا کر دیتا ہے۔ کسی کو مال کا نشہ دے دیتا ہے، کسی کو شہرت کا، کسی کو عورت کا، کسی کو زمین و جائیداد کا۔ مگر ان سب میں سب سے خطرناک نشہ کرسی کا نشہ اور خودنمائی کا نشہ ہے۔

جب انسان کے دل میں حکومت کرنے، حکم چلانے اور اپنی بڑائی دکھانے کا نشہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اس نشے میں اندھا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے اقتدار کو بچانے اور اپنی حکومت کو مضبوط رکھنے کے لیے بڑے سے بڑے ظلم اور سنگین گناہ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کرسی کے نشے میں انسان ہزاروں لاکھوں لوگوں کے قتل کا سبب بن جاتا ہے، شہر اجاڑ دیتا ہے اور انسانیت کے خلاف بڑے بڑے جرائم کر گزرتا ہے۔

لیکن آخر میں ہوتا کیا ہے؟

چند سالوں کی حکومت، چند دنوں کی بادشاہی، اور اس کے ساتھ بے شمار جنگیں، خوف، پریشانیاں اور اپنی کرسی کو بچانے کی مسلسل جدوجہد۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد وہی حکمران یا تو جیل میں چلا جاتا ہے، یا اپنی ہی عوام کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، یا پھانسی کے پھندے پر چڑھ جاتا ہے۔ اور اگر یہ سب بھی نہ ہو تو آخرکار موت آ کر ہر چیز کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

جس کرسی کے لیے، جس اقتدار کے لیے انسان نے ظلم کیے ہوتے ہیں، لوگوں کا خون بہایا ہوتا ہے اور سنگین گناہ کیے ہوتے ہیں، وہ سب گناہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ پھر قیامت کے دن اسے ایک ایک چیز کا حساب دینا پڑے گا۔ ایک چھوٹی سی زندگی اور چند دنوں کے اقتدار کے مزے کے لیے انسان ہمیشہ کی جہنم مول لے لیتا ہے۔

یہ بات ہم سب کے لیے عبرت ہے، خاص طور پر حکمرانوں کے لیے اور ان کے مشیروں کے لیے بھی۔ وہ مشیر جو اپنے حکمران کو خوش کرنے کے لیے حق کو چھپا دیتے ہیں اور بڑے بڑے گناہوں اور ظلموں میں شریک ہو جاتے ہیں، انہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن سب کو اللہ کے حضور جواب دینا ہے۔

یاد رکھیں!

اصل حاکم صرف اللہ ہے، اصل بادشاہ صرف اللہ ہے اور پوری کائنات کا مالک بھی اللہ ہی ہے۔

ہم سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے اور اسی کو جواب دینا ہے۔

اگر انسان دنیا کی کرسی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اللہ کو راضی کر لے تو اللہ اسے ایسی بادشاہی عطا فرماتا ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔

تحریر 45

ایک کرسی کی خاطر کئی جنازے — انا اور غصے کی ایک سچی کہانی

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے جھگڑوں کی بنیاد بہت چھوٹی ہوتی ہے، لیکن جب انا درمیان میں آ جائے تو معمولی سی بات دشمنی بن جاتی ہے، دو خاندان یا قبیلے آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور پھر برسوں تک بدلے کی آگ بھڑکتی رہتی ہے۔

ایک قبائلی علاقے میں جماعت کے ساتھ تشکیل ہوئی تو معلوم ہوا کہ دو قبیلوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ کئی لوگ ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ دونوں قبیلے پہلے ایک دوسرے کے بہت قریبی دوست تھے۔

جب لڑائی کی وجہ معلوم کی تو پتا چلا کہ ایک شادی کی تقریب میں ایک شخص نے ایک خالی کرسی اٹھا کر اپنے دوستوں کے پاس رکھ لی۔ دوسرے شخص نے آ کر کہا کہ میں اس کرسی پر بیٹھنے والا تھا، تم نے کیوں اٹھائی؟ بس پھر کیا تھا! بات توتکار سے گالم گلوچ تک پہنچی، اسلحہ نکلا، فائرنگ ہوئی اور خوشیوں کی محفل خون خرابے میں بدل گئی۔

سوچیے! ایک کرسی کی خاطر کتنی جانیں چلی گئیں، کتنے گھر اجڑ گئے اور کتنے خاندان دشمنی کی آگ میں جلنے لگے!

اگر ان میں سے کوئی ایک شخص صرف اتنا کہہ دیتا کہ ’’کوئی بات نہیں، آپ کرسی لے لیں‘‘ تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی۔

ہماری زندگی میں بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں کیوں جھکوں؟ معافی وہ کیوں مانگے؟ آخری بات میری ہی کیوں نہ ہو؟ اور پھر ایک معمولی سی بات انا کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ: ’’اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 134)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ (صحیح بخاری)

اس لیے کبھی اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود بھی کسی بڑے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے پہل کر لیا کریں۔ اگر بات بلاوجہ لمبی ہو رہی ہو، رشتوں میں تلخی بڑھ رہی ہو اور معاملہ بگڑنے کا اندیشہ ہو تو کہہ دیں: ’’معذرت، غلطی ہو گئی، بات ختم کریں۔‘‘

ضروری نہیں کہ ہر بار آپ ہی قصوروار ہوں، لیکن کبھی کسی بڑے فساد کو روکنے کے لیے اپنی انا کو پیچھے ہٹا دینا بھی سمجھ داری ہے۔ آپ کا مقصد اپنی بے گناہی ثابت کرنا نہیں، بلکہ ایک بگڑتے ہوئے معاملے کو سنبھالنا ہونا چاہیے۔

یاد رکھیں! ہر بات پر خود کو درست ثابت کرنا ضروری نہیں، کبھی رشتہ بچانا اپنی بات منوانے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔

جب آپ اللہ کی رضا کے لیے کسی کو معاف کرتے ہیں، اپنی انا کو قابو میں رکھتے ہیں اور جھگڑا ختم کرنے کے لیے پہل کرتے ہیں تو یہ کمزوری نہیں، بلکہ اچھے اخلاق اور بڑے دل کی نشانی ہے۔ امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس عمل کا بہترین اجر عطا فرمائے گا۔

اپنی انا کی خاطر رشتے مت توڑیں، معمولی باتوں کو دشمنی مت بنائیں اور ہر معاملے میں آخری لفظ کہنے کی ضد مت کریں۔

کبھی ایک لفظ ’’کوئی بات نہیں‘‘ اور کبھی ایک جملہ ’’معذرت، غلطی ہو گئی‘‘ کہہ کر دیکھیں؛ ممکن ہے آپ کی انا ہار جائے، مگر کئی زندگیاں، رشتے اور گھر اجڑنے سے بچ جائیں۔

کیونکہ ہر جنگ جیتنا ضروری نہیں، کچھ جنگیں ختم کر دینا ہی اصل جیت ہوتی ہے!

تحریر 46

جب انسان اپنی لاعلمی کو مقدس مان لے، تو علم گستاخ لگتا ہے — اندھی تقلید کا المیہ

جب انسان اپنی لاعلمی کو مقدس مان لے، تو علم گستاخ لگتا ہے

یہ جملہ ہمارے فکری زوال کی ایک گہری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب انسان اپنی لاعلمی کو دین، روایت یا عقیدت کے پردے میں لپیٹ کر مقدس بنا لیتا ہے، تو پھر ہر سوال، ہر دلیل اور ہر بات اسے گستاخ محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ علم اس کے بنائے ہوئے حصار کو توڑ دیتا ہے۔

قرآن و حدیث اصل علم ہیں۔ یہی وہ خالص سرچشمے ہیں جن سے ہدایت پھوٹتی ہے اور حق کا راستہ واضح ہوتا ہے۔ اسلام نے انسان کو سوچنے، سمجھنے اور دلیل کے ساتھ حق کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ فہمِ انسانی ہے—قابلِ احترام ضرور، مگر معصوم نہیں۔

اصل خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں شخصیات، مسالک اور روایات کو قرآن و سنت پر ترجیح دے دی جاتی ہے۔ پھر دلیل غیر ضروری ہو جاتی ہے، حوالہ بوجھ لگنے لگتا ہے، اور بس یہ کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے:

ہم نے تو یہی سنا ہے، یہی کرتے آئے ہیں۔

یہی اندھی تقلید ہے—اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔

قرآن بار بار سوال کرتا ہے:

کیا تم غور نہیں کرتے؟ کیا تم سمجھتے نہیں؟

اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کو پہچانو، چاہے وہ تمہاری رائے، تمہارے گروہ یا تمہاری عادت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

اللہ اور رسول ﷺ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی ہر بات بلا دلیل مان لی جائے۔ صحابہؓ، ائمہؒ اور اکابر علماءؒ سب نے یہی اصول دیا کہ اگر ہماری بات قرآن و حدیث کے مطابق ہو تو قبول کرو، اور اگر نہ ہو تو چھوڑ دو۔

اندھی تقلید انسان کو جمود میں قید کر دیتی ہے، جبکہ قرآن و سنت علم کو زندہ رکھتے ہیں۔ اصل اطاعت اللہ کی ہے، اصل اتباع رسول ﷺ کی ہے، اور باقی ہر بات کو انہی دو میزانوں پر پرکھا جائے گا۔

جو شخص قرآن و حدیث سے جڑ جاتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتا۔

اور جو شخص انسانوں کو معیارِ حق بنا لے، وہ علم سے نہیں، اختلاف سے پہچانا جاتا ہے۔

تحریر 47

بچی کو حفظ کروا دیا، بعد میں شادی ہو گئی تو بھول گئی؟ — حافظہ ماں اور نسل کی تربیت

اکثر لوگ کہتے ہیں: "بچی کو حفظ کروا دیا، بعد میں شادی

ہو گئی، وہ بھول گئی تو؟

تو کیا صرف بچیاں ہی بھولتی ہیں؟

لڑکے بھی تو کاروبار، دفتر، مصروفیات میں لگ جاتے ہیں!

لیکن یہی اصل امتحان ہے —

قرآن صرف یاد کرنے کا نام نہیں، اسے زندگی بھر سنبھالنے، دہرانے، اور عمل کرنے کا نام ہے۔

بچی گھر پر رہتی ہے، اس کے پاس وقت ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو دہرا سکے، بچوں کو سکھا سکے،

اور ایک حافظہ ماں قرآن کی روشنی گھر میں پھیلا سکتی

ہے

اس لیے کہ ایک عورت ہی ایک نسل کی پہلی درسگاہ ہے۔

اسی کی گود میں آنے والی نسل کی تربیت ہوتی ہے،

اگر وہ قرآن کی حافظہ ہو، قرآن کی فہم و عمل سے جڑی ہو،

تو یقیناً وہ اپنی اولاد کو بہترین دینی ماحول، اخلاق اور کردار دے سکتی ہے۔

حفظِ قرآن کی فضیلت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

(بخاری)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

جس کے سینے میں قرآن کا کچھ حصہ نہ ہو، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔

(ترمذی)

قرآن والے کو قیامت کے دن عزت دی جائے گی، اس کے والدین کو نور کے تاج پہنائے جائیں گے۔

(ابوداؤد)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

بے شک ہم نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

(سورہ الحجر: 9)

اور جس دل میں قرآن ہو، اللہ اس کا محافظ بن جاتا ہے۔

۔

حفظ کے ساتھ فہم اور عمل بھی ضروری ہے

قرآن صرف رٹنے کی کتاب نہیں —

بلکہ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہدایت ہے۔

چاہے کوئی حافظ ہو یا نہ ہو، قرآن سب کے لیے ہے۔

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ روز قرآن پڑھے، سمجھے، اور اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔

آخر میں:

بچی ہو یا بچہ، مرد ہو یا عورت،

قرآن سب کا سرمایہ ہے، سب کی ذمہ داری ہے۔

اور جو دل قرآن سے آباد ہو،

اللہ کا خاص فضل، حفاظت اور برکت اس دل پر سایہ فگن ہوتی ہے۔

تحریر 48

تین شادیاں ناکام کیوں ہوئیں؟ شاید مسئلہ بیوی نہیں، سوچ اور رویّہ ہے

ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہنے لگا:

بھائی! میں بہت پریشان ہوں۔ میری تین شادیاں ہو چکی ہیں۔ پہلی دو طلاق پر ختم ہوئیں اور اب تیسری شادی میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ شاید مسئلہ لڑکیوں میں نہیں بلکہ کہیں اور ہے؟

میں مسکرایا اور کہا:

بھائی! تمہیں اپنی ماں کبھی بری نہیں لگے گی، اور یہ فطری بات ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ تمہاری بیوی بھی کسی کی بیٹی ہے، جو اپنا گھر، اپنے والدین اور اپنی دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی ہے۔ اگر چند مہینوں بعد ہی تم اسے طلاق دے دو تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

میں نے اس سے پوچھا:

تمہاری بیوی کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا تھا؟

اس نے جواب دیا:

وہ میرے ساتھ بہت اچھی تھی، اس کا کردار بھی اچھا تھا اور اخلاق بھی اچھے تھے۔

میں نے کہا:

جو عورت تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہو، ضروری نہیں کہ ہر اختلاف میں وہی غلط ہو۔ اس نے شادی تم سے کی ہے، تمہاری والدہ سے نہیں۔ اگر ساس اور بہو کے درمیان اختلاف ہو جائے تو ہر بار طلاق ہی اس کا حل نہیں ہوتی۔

پھر میں نے اسے ایک اہم بات سمجھائی۔

اسلام والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور خدمت کا حکم دیتا ہے۔ والدین کے سامنے "اُف" تک کہنا جائز نہیں، نہ ہی ان کی بے ادبی کی جا سکتی ہے۔ لیکن اطاعت صرف نیکی اور شریعت کے مطابق امور میں ہوتی ہے۔ اگر کسی معاملے میں ناانصافی ہو رہی ہو تو احترام کے ساتھ درست فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے۔

میں نے اس سے کہا:

اگر مشترکہ خاندانی نظام میں سکون سے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو تو الگ گھر لے لینا کوئی گناہ نہیں۔ بہت سے معاملات میں بیوی کے جائز حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔ والدین کی محبت، احترام اور خدمت اپنی جگہ قائم رہنی چاہیے، لیکن ہر بار اپنی بیوی کی زندگی اور حقوق قربان کر دینا انصاف نہیں۔

اور ایک بات اُن والدین کے لیے بھی جو اپنی بیٹیوں کی شادیاں طے کرتے ہیں۔

رشتہ طے کرتے وقت صرف یہ نہ پوچھیں کہ "پہلی دو طلاقیں کیوں ہوئیں؟" بلکہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہر رشتہ کن وجوہات کی بنا پر ٹوٹا، اصل مسئلہ کیا تھا، اور کیا اس شخص نے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھا بھی ہے یا نہیں۔

بدقسمتی سے ہم شادی کی تقریبات، خریداری، مہندی، ڈھولکی، دعوتوں اور آتش بازی پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن یہ سیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ گھر کیسے چلایا جاتا ہے، اختلافات کو کس طرح حکمت اور صبر سے حل کیا جاتا ہے، اور اسلام نے شوہر، بیوی اور والدین کے حقوق کے درمیان کتنا خوبصورت توازن قائم کیا ہے۔

ایک کامیاب شادی صرف اچھی تقریب سے نہیں بنتی، بلکہ اچھے اخلاق، انصاف، برداشت، حکمت اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے سے بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں کو محبت، عدل، احترام اور سکون کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 49

آن لائن قرآن ٹیچر بننے کی دوڑ — اہلیت، تربیت اور ذمہ داری

آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہر دوسرا شخص خود کو آن لائن قرآن ٹیچر سمجھنے لگا ہے۔ نہ قرآن کا فہم ہے، نہ اس کی گہری سمجھ، نہ تجوید سے واقفیت، نہ صحیح تلاوت، اور نہ ہی مخارجِ حروف کا علم۔ حد تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی، اور نہ ہی وہ حافظِ قرآن ہیں۔

قرآن پڑھانا کوئی معمولی کام نہیں۔ اس کے لیے ایک خاص تربیت، ایک خاص تعلیم اور ایک خاص اہلیت درکار ہوتی ہے۔ قرآن پڑھانے والا کم از کم ایسا ہونا چاہیے جو قرآن کو تجوید اور مخارج کے ساتھ درست طریقے سے پڑھتا ہو، ترجمہ و تفسیر کا بنیادی علم رکھتا ہو، اور بہتر یہ ہے کہ وہ حافظِ قرآن بھی ہو۔ اگر وہ قرآن پڑھا رہا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن پڑھانے کے اصول کیا ہیں، طالبِ علم کی اصلاح کیسے کی جاتی ہے، اور قرآن کے حق کو کیسے ادا کیا جاتا ہے۔

کم از کم درجے میں قرآن پڑھانے والے کو ترجمہ و تفسیر کا شعور ضرور ہونا چاہیے، تاکہ قرآن محض الفاظ کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے پیغام اور مقصد کو بھی سمجھا جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے آج یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جو شخص بےروزگار ہوتا ہے، وہ قرآن کو ذریعۂ تجارت بنا لیتا ہے۔ مقصد قرآن کی خدمت نہیں رہتا بلکہ صرف پیسہ کمانا بن جاتا ہے۔

میں اس موقع پر والدین سے بھی خصوصی گزارش کرنا چاہتا ہوں، بلکہ تمام مسلمانوں سے بھی دست بستہ عرض ہے کہ وہ خود بھی قرآنِ مجید کو صحیح مخارج اور تجوید کے ساتھ پڑھنا سیکھیں، اور صرف ناظرہ پر اکتفا نہ کریں بلکہ ترجمہ اور تفسیر کا باقاعدہ مطالعہ ضرور کریں۔ اور جب آپ کے بچے سمجھ بوجھ کی عمر (بالغ یا شعوری عمر) کو پہنچ جائیں تو انہیں لازماً، لازماً، لازماً قرآن کا ترجمہ اور تفسیر پڑھائیں، تاکہ قرآن ان کی زندگی کا رہنما بنے، صرف ثواب کی کتاب نہ رہے۔

قرآن نہ تجارت ہے، نہ محض ذریعۂ معاش؛ یہ اللہ کی امانت ہے، ایک عظیم ذمہ داری ہے، جو اخلاص، علم اور خوفِ خدا کے ساتھ ہی ادا کی جا سکتی ہے۔

تحریر 50

ہر معلومات علم نہیں: ایسا علم تلاش کریں جو ایمان بڑھائے

ہر بات جان لینا علم نہیں ہوتا، اور ہر معلومات دل کو زندہ نہیں کرتی۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھا دے، رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور محبت راسخ کر دے، اہلِ بیتِ اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت پیدا کر دے، اور انسان کو گناہوں سے توبہ، عبادت، تہجد، دعا، ذکرِ الٰہی اور دین کی خدمت کی طرف مائل کر دے۔

ایمان بڑھانے والا علم تلاش کیجیے، انتشار بڑھانے والی معلومات نہیں

ایسے علماء اور مفسرین کے بیانات سنیے جنہیں سن کر ایمان تازہ ہو، دل نرم ہو، آنکھیں نم ہوں، اور زندگی میں عمل کا جذبہ پیدا ہو۔ اگر کوئی گفتگو صرف ذہن کو الجھا دے، دلوں میں نفرت، شکوک یا انتشار پیدا کرے، اور اختلافی و تاریخی مباحث میں ایسا الجھا دے کہ ایمان کی کیفیت ہی ختم ہو جائے، تو ایسی معلومات سے احتیاط کرنی چاہیے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار ہمارے دین کے عظیم چراغ ہیں۔ ہمارا راستہ یہ ہے کہ ہم سب سے محبت کریں، اور ان کے باہمی اختلافات کو اپنی مجلسوں اور اپنی دلچسپی کا مرکز نہ بنائیں۔ قیامت کے دن ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں تاریخی اختلاف میں کس کی کیا رائے تھی، بلکہ ہم سے ہمارے ایمان، ہمارے اعمال، ہماری نماز، ہمارے اخلاق اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کے بارے میں سوال ہوگا۔

اسلام کا سرچشمہ قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ ہے۔ انہی سے ہدایت، نور اور نجات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دین کو مکمل صورت میں امت تک پہنچا دیا۔ لہٰذا ہماری اصل توجہ قرآن کو سمجھنے، سنت کو اپنانے، اپنے کردار کی اصلاح کرنے، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے اور امت کی خیر خواہی پر ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے مباحث پر جو دلوں میں تاریکی، تلخی اور تقسیم پیدا کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا نافع علم عطا فرمائے جو ہمارے ایمان میں اضافہ کرے، ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے، ہمیں رسول اللہ ﷺ کی کامل اتباع کی توفیق عطا فرمائے، اور اہلِ بیت و صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سچی محبت ہمارے دلوں میں ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔

تحریر: محسن موٹن

حصہ اول: اللہ تعالیٰ سے متعلق تحریریں

تحریر 51

ایسا بیان سنیں جو ایمان بڑھائے، نفرت اور انتشار نہیں

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم کس کا بیان سنتے ہیں اور اس بیان کا ہمارے دل پر کیا اثر ہوتا ہے۔

ایسے عالمِ دین اور اللہ والے کا بیان سنیں جسے سن کر دل میں اللہ کی محبت پیدا ہو، اللہ سے تعلق مضبوط ہو، رات کو تہجد کے لیے اٹھنے کا دل چاہے، پانچ وقت کی نماز کی پابندی کی فکر پیدا ہو، قرآن سے تعلق بڑھے اور اسلام کا نور دل میں آئے۔

ایسے شخص کی بات سنیں جس کی گفتگو سے رسول اللہ ﷺ کی محبت پیدا ہو، سنت پر چلنے کا شوق پیدا ہو، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت بڑھے اور صحابۂ کرامؓ کی عظمت دل میں پیدا ہو۔

صحابہؓ وہ عظیم جماعت ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، آپ ﷺ سے دین سیکھا اور دین ہم تک پہنچایا۔

لیکن ایسے بیانات سے بچیں جنہیں سن کر مسلمانوں کے لیے نفرت، انتشار، صحابہؓ کے بارے میں بدگمانی یا اہلِ بیتؓ کے بارے میں بدظنی پیدا ہو۔

خصوصاً صحابۂ کرامؓ کے تاریخی اختلافات میں الجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تاریخ میں بیان ہونے والی ہر روایت قطعی اور یقینی نہیں۔ بہت سی روایات ضعیف، کمزور یا باہم مختلف ہیں۔ بعض تاریخی روایات ایسے راویوں اور ذرائع سے بھی منتقل ہوئی ہیں جن کے بارے میں محدثین اور اہلِ علم نے تحقیق کی ہے۔ اس لیے ہر تاریخی قصے کو آنکھ بند کرکے حقیقت سمجھ لینا درست نہیں۔

اور اگر بعض معاملات میں اختلافات ہوئے بھی تھے تو وہ اپنے دور کے مخصوص حالات اور سیاسی معاملات تھے۔ آج ہماری آخرت کا دارومدار ان تاریخی سیاسی اختلافات کے فیصلے پر نہیں بلکہ ہمارے اپنے ایمان، نماز، اعمال، اخلاق اور اللہ سے تعلق پر ہے۔

تو پھر ہم ایسی غیر یقینی تاریخی بحثوں میں کیوں الجھیں کہ جن سے ہمارا ایمان مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہو، دل میں مسلمانوں کے لیے نفرت آئے اور قرآن و سنت سے تعلق کم ہو جائے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔

(المائدہ: 3)

اسلام کی اصل رہنمائی قرآن، صحیح حدیث، سنتِ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی مبارک زندگی ہے۔ ہمیں اسی اصل اسلام کی طرف واپس آنا ہے۔

تاریخ پڑھنی ہو تو تحقیق کے ساتھ پڑھیں، لیکن اپنے ایمان کی بنیاد غیر یقینی تاریخی روایات پر نہ رکھیں۔

وہ بیان سنیں جس سے اللہ یاد آئے،

وہ علم لیں جس سے عمل بڑھے،

وہ بات سنیں جس سے رسول اللہ ﷺ کی محبت بڑھے،

اور ایسی بحثوں سے بچیں جو دل کو نور کے بجائے نفرت اور انتشار سے بھر دیں۔

ہمیں دوسروں کے تاریخی فیصلے کرنے سے زیادہ اپنی آخرت کی فکر کرنی ہے۔

اللہ ہمیں صحیح علم، صحیح فہم اور ایسا ایمان عطا فرمائے جو ہمیں اپنے قریب کر دے۔ آمین۔

تحریر 52

شادی کے بعد رشتوں میں توازن: طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور ہماری ذمہ داری

آج کل طلاقیں خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب وجہ پوچھی جائے تو اکثر جواب یہ نہیں ہوتا کہ "میاں بیوی کی آپس میں نہیں بنی" بلکہ سننے کو ملتا ہے:

ساس سے نہیں بنی...
سسر سے اختلاف تھا...
گھر والوں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو سکی...

سوچنے کی بات یہ ہے کہ نکاح تو میاں اور بیوی کے درمیان ہوا تھا، پھر رشتہ ساس یا سسر کے ساتھ نہ بننے پر کیوں ٹوٹ جاتا ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کی شادی تو کر دیتے ہیں، مگر شادی نبھانا نہیں سکھاتے۔

ہم انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ:

بیوی کے حقوق کیا ہیں؟

شادی کے بعد والدین کے حقوق کیسے ادا کرنے ہیں؟

دونوں رشتوں میں توازن (Balance) کیسے قائم رکھنا ہے؟

اختلافات کو حکمت، صبر اور احترام کے ساتھ کیسے حل کرنا ہے؟

گھر کو سکون کا گہوارہ کیسے بنانا ہے؟

آج کل شادی کی تیاری کا مطلب صرف شاپنگ، مہندی، ڈھولکی، پٹاخے، لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کر کے تقریبات کرنا سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ یہ سب شادی کی تیاری نہیں، صرف شادی کی تقریبات (Celebrations) ہیں۔

اصل تیاری یہ ہے کہ شادی کو نبھانا کیسے ہے، رشتوں کو سنبھالنا کیسے ہے، اور نئی زندگی کو حکمت، برداشت اور محبت کے ساتھ گزارنا کیسے ہے۔

اگر نوجوانوں کو شادی سے پہلے میریج ایجوکیشن (Marriage Education)، رشتوں کی اہمیت، حقوق و فرائض اور اختلافات کو سنبھالنے کا شعور دیا جائے تو یقیناً بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

یاد رکھیں! کامیاب شادی اچھی تقریب سے نہیں، بلکہ اچھے کردار، صحیح تربیت اور رشتے نبھانے کی صلاحیت سے بنتی ہے۔

تحریر 53

غصے میں طلاق کا فیصلہ: ایک گھر ٹوٹنے سے کیسے بچ گیا

رات کے تقریباً دو بجے تھے۔ میرا فون مسلسل بج رہا تھا۔ نیند میں آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک بہت ہی قریبی ساتھی کی کال تھی۔

میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف سے غصے سے بھری آواز آئی:

محسن بھائی! میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں۔ مجھے ابھی، اسی وقت آپ سے ملنا ہے۔ پلیز باہر آ جائیں۔

میں فوراً سمجھ گیا کہ معاملہ معمولی نہیں۔ ایسے وقت میں کسی اپنے کو مشکل میں چھوڑ کر دوبارہ سونا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔

میں جلدی سے باہر آیا۔

وہ شدید غصے میں تھا۔ اس نے کہا:

محسن بھائی! میں نے ہمیشہ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں آپ سے مشورہ کیا ہے، شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی۔ لیکن آج میں ایک فیصلہ کر چکا ہوں… میں ابھی جا کر اپنی دو ماہ کی دلہن کو طلاق دینے والا ہوں۔

اس کی آنکھوں میں غصہ تھا، لہجہ سخت تھا، اور میں جانتا تھا کہ یہ وہ لمحہ نہیں جس میں لمبی نصیحت اثر کرے۔

میں نے صرف ایک سوال کیا:

طلاق دے کر کیا ہوگا؟

اس نے کہا:

ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی، الگ ہو جائیں گے۔

میں نے کہا:

اگر صرف ایک دوسرے سے دور ہونا مقصد ہے، تو یہ کام طلاق دیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔

وہ حیران ہو کر بولا:

کیسے؟

میں نے کہا:

آج رات اپنی اہلیہ کو عزت کے ساتھ اس کے والدین کے گھر چھوڑ آؤ، لیکن طلاق مت دو۔ کچھ دن کا فاصلہ اختیار کرو۔

اس نے فوراً پوچھا:

میں ایسا کیوں کروں؟

میں نے کہا:

کیونکہ قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ طلاق آخری حل ہے، پہلا نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔

(سورۃ النساء: 35)

یعنی قرآن ہمیں پہلے اصلاح، مصالحت اور حالات کو سنبھالنے کے تمام راستے اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ غصے میں فوراً رشتہ ختم کرنے کی۔

میں نے اس سے کہا:

غصے میں انسان وہ فیصلے کر لیتا ہے جن پر پوری زندگی پچھتاتا رہتا ہے۔ کچھ دن کی دوری سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرو، ان شاء اللہ برکت ہوگی۔

شاید یہ میری بات نہیں، قرآن کی بات تھی جس نے اس کے دل کو نرم کر دیا۔

وہ واپس گیا، لیکن اپنی اہلیہ کو طلاق نہیں دی۔ احترام کے ساتھ اسے اس کے والدین کے گھر چھوڑ آیا۔

چند دن گزرے…

غصہ ٹھنڈا ہوا…

دونوں خاندان بیٹھے…

بات چیت ہوئی…

غلط فہمیاں دور ہوئیں…

اور اللہ کے فضل سے صلح ہو گئی۔

آج کئی سال گزر چکے ہیں۔

الحمدللہ، ان کے گھر بچے ہیں، دونوں میاں بیوی ساتھ حج بھی کر چکے ہیں، اور ایک خوشحال اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں…

اگر اس رات غصہ غالب آ جاتا، تو شاید آج ایک آباد گھر بکھر چکا ہوتا۔

شیطان ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ انسان غصے میں ایسا فیصلہ کر لے جس کی واپسی ممکن نہ رہے۔

اسی لیے طلاق سے پہلے سیکڑوں بار سوچیں، قرآن کے بتائے ہوئے تمام مراحل اختیار کریں، خاندان کے بڑوں اور اہلِ علم سے مشورہ کریں، اور صلح کی ہر ممکن کوشش کریں۔

اگر تمام کوششوں کے باوجود نباہ واقعی ممکن نہ رہے، تب بھی شریعت نے طلاق کو ایک منظم اور تدریجی طریقے سے دینے کا حکم دیا ہے، نہ کہ غصے میں ایک ساتھ تین طلاقیں دے کر ہمیشہ کی ندامت خرید لینے کا۔

اپنے غصے کے نہیں، قرآن کے فیصلے پر عمل کیجیے۔ یہی گھروں میں سکون اور زندگی میں برکت کا راستہ ہے۔

تحریر 54

غصے میں طلاق: ایک لمحے کا فیصلہ، پوری زندگی کا پچھتاوا

لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا غصے میں طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب یہ ہے کہ عمومی طور پر طلاقیں غصے ہی میں دی جاتی ہیں، اور اگر طلاق شرعی طور پر درست انداز میں واقع ہو جائے تو وہ نافذ ہو جاتی ہے۔ بعد میں ہونے والا پچھتاوا اس کے اثرات کو خود بخود ختم نہیں کرتا۔

سوچیے! غصے میں ہی گولی چل جاتی ہے، غصے میں ہی قتل ہو جاتا ہے، اور پھر انسان ساری زندگی افسوس کرتا رہتا ہے۔ اسی طرح غصے میں زبان سے نکلے ہوئے چند الفاظ ایک آباد گھر کو اجاڑ دیتے ہیں، اور بعد میں صرف حسرت باقی رہ جاتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ غصے میں ایک ساتھ تین طلاقیں بھی دے بیٹھتے ہیں، پھر بعد میں اس حقیقت کو چھپا لیتے ہیں۔ حالانکہ اگر شرعی اعتبار سے نکاح ختم ہو چکا ہو تو پھر میاں بیوی کا ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا جائز نہیں رہتا۔

بدقسمتی سے بعض لوگ اس کے باوجود مہینوں بلکہ برسوں تک ایک ہی گھر میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہتے ہیں، حالانکہ وہ خود بھی جانتے ہوتے ہیں کہ شرعی طور پر طلاق واقع ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں نکاح ختم ہونے کے بعد ازدواجی تعلق قائم رکھنا ایک سنگین گناہ ہے۔ اس لیے اس معاملے کو چھپانے کے بجائے فوراً مستند علماء سے رجوع کرنا چاہیے، نکاح کی شرعی حیثیت معلوم کرنی چاہیے، اور جو حکمِ شریعت ہو اسی پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ انسان حرام زندگی اور مسلسل گناہ سے محفوظ رہ سکے۔

اس لیے اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیں۔ ایک لمحے کا غصہ پوری زندگی کا پچھتاوا بن سکتا ہے۔

اسی طرح خواتین کو بھی چاہیے کہ اگر شوہر شدید غصے میں ہو تو اس وقت بحث کو مزید نہ بڑھائیں، مسلسل اشتعال نہ دلائیں اور معاملے کو وقتی طور پر ٹھنڈا ہونے دیں۔ بہت سے گھر صرف اس وجہ سے بچ جاتے ہیں کہ ایک فریق مناسب وقت پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح مردوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے غصے کو قابو میں رکھیں اور ایسے الفاظ ہرگز زبان پر نہ لائیں جن کا ازالہ ممکن نہ ہو۔

یہ رشتہ جتنا مضبوط، مقدس اور اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اتنا ہی اس کا خاتمہ بھی نہایت حساس معاملہ ہے۔ کبھی کبھی صرف چند الفاظ ایک پوری زندگی کا رشتہ ختم کر دیتے ہیں۔ جیسے ایک گولی انسان کی جان لے لیتی ہے، ویسے ہی طلاق کے الفاظ ایک آباد گھر کو اجاڑ سکتے ہیں۔ گولی بھی اکثر غصے میں چلتی ہے اور جان چلی جاتی ہے، اسی طرح طلاق بھی عموماً غصے میں دی جاتی ہے اور رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔

اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ میاں بیوی کے درمیان نباہ مشکل ہو جائے، تو فوراً طلاق کی طرف بڑھنے کے بجائے کچھ عرصہ عارضی علیحدگی اختیار کریں، ایک دوسرے کو سوچنے کا موقع دیں، جذبات کو ٹھنڈا ہونے دیں، اور دونوں خاندانوں کے سمجھدار افراد کو درمیان میں بٹھا کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ نے بھی قرآنِ کریم میں یہی طریقہ سکھایا ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ۚ إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾

ترجمہ:

اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا، ہر بات سے باخبر ہے۔

(سورۃ النساء: 35)

اپنے غصے کو اپنے فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیں۔ ایک لمحے کی جذباتیت پوری زندگی کا سکون چھین سکتی ہے۔ اپنے گھر کو بچائیں، اپنے بچوں کا مستقبل بچائیں، اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کا احترام کریں، اور اگر خدانخواستہ طلاق واقع ہو جائے تو اس حقیقت کو نہ چھپائیں، بلکہ شریعت کے مطابق عمل کریں، تاکہ آپ کی زندگی حلال، پاکیزہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزرے۔

تحریر 55

بیٹیوں کی شادی میں غیر ضروری تاخیر: خوابوں کو انتظار کی نذر نہ کریں

ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار بیٹیاں ہیں جن کی شادی وقت پر ہو سکتی تھی۔ اچھے رشتے بھی آئے، جوانی بھی تھی، خوبصورتی بھی تھی، مگر والدین کی خواہش یہ تھی کہ کوئی بہت امیر، اعلیٰ خاندان کا یا "شہزادہ" ملے۔ اسی انتظار میں سال گزرتے گئے، عمر بڑھتی گئی، رشتے کم ہوتے گئے، اور پھر ایک وقت آیا کہ دروازے پر دستکیں آنا ہی بند ہو گئیں۔

اس کے بعد اس بیٹی کی زندگی خاموشی سے بدل جاتی ہے۔

وہی بیٹی جو چوبیس گھنٹے اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کے لیے موجود رہتی ہے، جبکہ بڑے بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں اور گھروں میں مصروف ہو چکے ہوتے ہیں۔ وہ والدین کی دوا، ڈاکٹر، ہسپتال، گھر کے کام، مہمان داری اور ہر چھوٹی بڑی ذمہ داری خاموشی سے نبھاتی رہتی ہے۔

مگر افسوس...

بہت کم لوگ اس کے دل کا حال پوچھتے ہیں۔

کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس کے بھی خواب تھے، اس کے بھی ارمان تھے، اس نے بھی اپنے گھر، اپنے شریکِ حیات اور اپنی اولاد کے خواب دیکھے تھے۔

وہ دوسروں کی خوشیاں سنوارتے سنوارتے اپنے جذبات دفن کر دیتی ہے۔ گھر کے ہر بکھرے ہوئے معاملے کو سمیٹتے سمیٹتے، وہ اپنے اندر کے درد کو چھپانا سیکھ لیتی ہے۔

جوں جوں عمر ڈھلتی ہے، اس کے سفید بال اسے ہر روز یہ احساس دلاتے ہیں کہ وقت گزر چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے بال سفید ہونے سے پہلے اس کے بے شمار خواب سفید ہو چکے ہوتے ہیں۔

وہ ماں باپ، بہن بھائیوں اور پورے خاندان کے درمیان اپنے جذبات کو توازن میں رکھنے کی کوشش کرتی رہتی ہے، کسی کو تکلیف نہ پہنچے، کسی سے شکایت نہ ہو، اور آخرکار تنہائی کو اپنا سب سے وفادار ساتھی بنا لیتی ہے۔

یہ تحریر والدین پر تنقید نہیں، بلکہ ایک درد بھری یاددہانی ہے۔

اگر اچھا، دیندار، بااخلاق اور ذمہ دار رشتہ مل جائے تو صرف زیادہ دولت، بڑے گھر، بڑی گاڑی یا غیر حقیقی توقعات کی خاطر اپنی بیٹی کی عمر انتظار میں مت گزار دیجیے۔

کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد اکثر والدین کے پاس صرف افسوس رہ جاتا ہے، جبکہ بیٹی کے پاس تنہائی۔

بیٹی بھی ایک انسان ہے۔ اس کے بھی جذبات ہیں، خواہشات ہیں، خواب ہیں، اور اسے بھی اپنی زندگی جینے کا حق حاصل ہے۔

خدارا اپنی بیٹیوں کی عمریں غیر ضروری انتظار کی نذر مت کیجیے۔ مناسب وقت پر مناسب فیصلے کیجیے، کیونکہ بعض فیصلوں میں چند سال کی تاخیر، پوری زندگی کی تنہائی بن جاتی ہے۔

تحریر 56

کیا شادی کے بعد بیٹی واقعی پرائی ہو جاتی ہے؟

کیا شادی کے بعد بیٹی واقعی پرائی ہو جاتی ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایک سوچ بڑی عام ہے کہ بیٹی جب رخصت ہو جائے تو وہ “پرائی” ہو جاتی ہے۔ جیسے اس کی اپنی پہچان، اس کا اپنا درد، اور اس کی اپنی آواز سب کچھ بدل جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے صاف لفظوں میں یہ بھی جتا دیا جاتا ہے کہ اب اس کا اصل تعلق صرف سسرال سے ہے، اور ماں باپ صرف رسم و رواج تک محدود رہ جاتے ہیں۔

یہ سوچ ایک طرف تو رشتوں کو خودمختاری دیتی ہے تاکہ ہر مسئلے میں مداخلت نہ ہو، لیکن دوسری طرف یہ ایک خطرناک حد تک بیٹی کو تنہا بھی کر دیتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شادی رشتہ بدلتی ہے، مگر رشتہ ختم نہیں کرتی۔

ایک بیٹی جب اپنے ماں باپ کے گھر سے جاتی ہے تو وہ صرف گھر نہیں چھوڑتی، وہ اپنا بچپن، اپنی یادیں اور اپنا سہارا پیچھے چھوڑتی ہے۔ ایسے میں اگر اسے یہ احساس بھی دے دیا جائے کہ اب وہ مکمل طور پر “پرائی” ہو گئی ہے تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بہت سی بیٹیاں خاموشی سے ظلم سہتی ہیں۔ سسرال میں مسائل ہوتے ہیں، تکلیفیں ہوتی ہیں، لیکن وہ اپنے ماں باپ کو اس لیے نہیں بتاتیں کہ کہیں انہیں یہ نہ سننا پڑے: “اب تم وہاں کی ہو، خود سنبھالو۔” یہی خاموشی بعض اوقات بڑے حادثات کا سبب بن جاتی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مسئلے میں بیٹی کے ساتھ اندھی حمایت بھی درست نہیں۔ اگر ہر بات پر اسے یہ یقین دیا جائے کہ ماں باپ ہر صورت اس کی طرف کھڑے ہوں گے، تو بعض اوقات وہ نادانستہ طور پر رشتوں کو بگاڑنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ رشتہ چلانے کے لیے حکمت، برداشت اور سمجھداری ضروری ہے۔

اصل ضرورت اعتدال کی ہے۔ بیٹی کو نہ تو اتنا کمزور بنایا جائے کہ وہ ظلم سہہ کر بھی خاموش رہے، اور نہ ہی اتنا آزاد کہ وہ گھر بسانے کے بجائے ہر مسئلے کو لڑائی میں بدل دے۔ اسے یہ سکھایا جائے کہ وہ اپنے گھر کو جوڑے رکھنے کی کوشش کرے، مگر اپنی عزت اور اپنی آواز کو دبائے نہیں۔

بیٹی پرائی نہیں ہوتی… وہ صرف ایک نئے گھر کی امانت ہوتی ہے۔ اور امانت کا مطلب چھوڑ دینا نہیں، اس کی حفاظت اور رہنمائی جاری رکھنا ہوتا ہے۔

اگر معاشرہ یہ توازن سمجھ لے تو نہ بیٹیاں ٹوٹیں گی، نہ گھر بکھریں گے۔

تحریر 57

نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرتی جنسی بحران کی دو بنیادی وجوہات

آج کے کالج اور یونیورسٹی کے نوجوان تعلیمی سرگرمیوں میں کم حصہ لے رہے ہیں اور زیادہ تر فحاشی کے رویوں کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا دھیان تعلیم سے زیادہ فحش یا ناجائز تعلقات کی طرف جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنا ذہنی اور جسمانی توانائی ضائع کر دیتے ہیں۔ جب تک نوجوان اپنی جنسی خواہش، جو کہ فطری ہے، حلال طریقے سے پوری نہیں کرے گا، وہ نہ صرف علمی اور تخلیقی کاموں میں کمزور رہتا ہے بلکہ معاشرتی اور اخلاقی ترقی بھی نہیں کر سکتا۔

نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرتی جنسی بحران کی دو بنیادی وجوہات ہیں:

پہلی وجہ: ہمارے معاشرے میں ارلی مریجز یعنی کم عمری میں شادی کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ جوانی میں جب فطری جذبات ابھرتے ہیں اور ان کا حلال راستہ بند ہو جائے، تو نوجوان غیر ضروری اور غلط راہوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اسلام نے اسی لیے نکاح کو آسان اور جلد کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ نوجوان اپنی بنیادی ضرورت پوری کر کے اپنی توانائی اور دماغی صلاحیت کو مثبت، موثر اور معاشرتی اور اخلاقی ترقی میں لگا سکے۔

دوسری وجہ: ایک سے زائد شادیوں کو معاشرے میں ناپسندیدہ یا گناہ سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ قرآن و سنت نے مرد کو ایک سے زائد شادی کی اجازت دی ہے۔ مرد کی فطرت میں یہ خواہش رکھی گئی ہے تاکہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی اور معاشرے کی ضروریات پوری کر سکے۔ اگر معاشرے میں اس سہولت کو اسلامی اصولوں کے مطابق قبول کیا جائے تو بے راہ روی، زنا، فحاشی اور دیگر برائیاں کم ہو سکتی ہیں، بیوہ اور مطلقہ عورتوں کو سہارا مل سکتا ہے، اور معاشرہ پاکیزگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔

اسلام نے نکاح کے ذریعے نہ صرف فرد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا نظام دیا ہے بلکہ معاشرے کو برائیوں سے پاک رکھنے اور اخلاقی تربیت فراہم کرنے کا طریقہ بھی واضح کیا ہے۔ جب تک ہم اس نظام پر عمل نہیں کریں گے، نوجوانوں کی گمراہی اور معاشرتی برائیاں ختم نہیں ہوں گی۔

تحریر 58

مسلمان گھرانہ اور خاندانی نظام کا توازن

ایک مسلمان گھرانہ کیسا ہوتا ہے؟ گھر کا نظام کب اور؟کیسے خراب ہوتا ہے؟

گھر کا نظام اس وقت بگڑنا شروع ہوتا ہے جب ذمہ داریاں اپنی جگہ سے ہٹ جائیں۔

جب شوہر اپنی قیادت اور کفالت کی ذمہ داری پوری نہ کرے۔

جب وہ سستی، غفلت یا بے توجہی اختیار کرے۔

یا جب شوہر کے دائرۂ اختیار میں بیوی حاکم بننے لگے اور نظام کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ...

(سورۃ النساء: 34)

مرد عورتوں پر نگران اور ذمہ دار ہیں...

مرد کو قوام بنایا گیا ہے، یعنی ذمہ دار اور نگران۔ جب مرد قیادت چھوڑ دے یا عورت قیادت سنبھالنے لگے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر مرد عورت کے مخصوص دائرے میں بے جا مداخلت کرے تو بھی سکون ختم ہو جاتا ہے۔

گھر کا نظام توازن سے چلتا ہے، مقابلہ بازی سے نہیں۔

شوہر کی ذمہ داریاں

کفالت اور حفاظت

عدل کے ساتھ قیادت

دین کی طرف رہنمائی

مضبوط اور باوقار فیصلہ سازی

بیوی کی ذمہ داریاں

شوہر کے جائز امور میں تعاون

گھر کو سکون کا گہوارہ بنانا

اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت

عزت و احترام کا ماحول قائم رکھنا

اولاد کی ذمہ داریاں

والدین کی اطاعت و ادب

قرآن و سنت کی پیروی

اچھے اخلاق اختیار کرنا

جب شوہر ذمہ دار، بیوی معاون اور اولاد فرمانبردار ہو تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی ایک مسلمان گھرانہ کی پہچان ہے۔

اللہ ہمارے گھروں میں محبت اور برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر 59

حلال رزق کے لیے شوہر کی محنت کی قدر کیجیے

شوہر جب صبح گھر سے نکلتا ہے تو وہ صرف پیسے کمانے نہیں نکلتا، بلکہ اپنے گھر والوں کی ضروریات، بچوں کے مستقبل اور اپنے خاندان کی عزت کے لیے میدان میں اترتا ہے۔

ہر شوہر کسی بڑے عہدے پر نہیں ہوتا۔

کوئی دفتر میں بیٹھ کر کام کرتا ہے، کوئی دکان پر کھڑا رہتا ہے، کوئی فیکٹری میں پسینہ بہاتا ہے، کوئی باس کی سخت باتیں سنتا ہے، کوئی کولیگز کے رویے برداشت کرتا ہے، اور کوئی موٹر سائیکل پر سارا دن شہر کی سڑکوں پر گھوم کر فوڈ ڈلیوری یا رائیڈ چلاتا ہے۔

گرمی ہو یا سردی، دھوپ ہو یا بارش، ٹریفک ہو یا حادثے کا خطرہ، وہ پھر بھی نکلتا ہے۔

کبھی راستے میں کھانا بھی وقت پر نہیں ملتا، کبھی تھکن سے جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے، کبھی کسی افسر کی جلی کٹی سننی پڑتی ہے، کبھی گاہک کا رویہ برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے گھر واپس آتے ہوئے کوشش کرتا ہے کہ اپنی پریشانی گھر والوں کے چہروں تک نہ پہنچنے دے۔

خاص طور پر وہ لوگ جو موٹر سائیکل پر ڈلیوری یا رائیڈنگ کرتے ہیں، ان کی زندگی کو دیکھیے۔

وہ گھنٹوں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ ٹریفک کا خطرہ، حادثے کا خطرہ، موسم کی سختی، گاڑی کے اخراجات اور جسمانی تھکن—سب کچھ برداشت کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں حلال رزق پہنچا سکیں۔

ایسے شوہر اگر لاکھوں نہیں کما رہے تو کیا ہوا؟

وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے گھر کے لیے لڑ تو رہے ہیں۔

بیوی کو اپنے شوہر کی آمدنی کا موازنہ ہر وقت دوسرے مردوں سے نہیں کرنا چاہیے۔

فلاں کا شوہر اتنا کماتا ہے، تم اتنا کیوں نہیں کماتے؟

یہ جملہ ایک تھکے ہوئے انسان کے جسم سے زیادہ اس کے دل کو توڑ دیتا ہے۔

اگر شوہر حلال رزق کے لیے محنت کر رہا ہے، گھر کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق ذمہ داریاں نبھا رہا ہے، تو اس کی محنت کی قدر کیجیے۔

اسے یہ احساس دیجیے کہ:

میں تمہاری محنت دیکھتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے تم ہمارے لیے کتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہو۔ تم کم یا زیادہ نہیں، میرے لیے وہ انسان ہو جو ہمارے گھر کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کر رہا ہے۔

اور شوہروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کی محنت اور گھر سنبھالنے کی کوشش کی قدر کریں۔

رشتہ مقابلے کا نام نہیں، ایک دوسرے کا سہارا بننے کا نام ہے۔

گھر میں اگر آمدنی کم ہے تو ایک دوسرے کو توڑنے کے بجائے ایک دوسرے کو جوڑیں۔

کیونکہ بعض اوقات مرد باہر کی دنیا سے لڑ کر گھر آتا ہے، اور اسے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ گھر اسے جنگ کا دوسرا میدان نہ لگے۔

اپنے شریکِ حیات کی جیب سے پہلے اس کا دل دیکھیں،

اس کی تنخواہ سے پہلے اس کی محنت دیکھیں،

اور اس کی کمائی سے پہلے اس کی قربانی دیکھیں۔

حلال روزی کم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کی جانے والی محنت کی قدر کبھی کم نہیں ہونی چاہیے۔

تحریر 60

اولاد کی قدر اس کی جیب سے نہیں، کردار اور محنت سے کیجیے

آج کل تو اولاد کی قدر بھی اُس کی جیب دیکھ کر ہوتی ہے!

جس بیٹے کی جیب بھری ہوئی ہو، وہ گھر کا سب سے سمجھدار، سب سے قابل اور سب سے پیارا بیٹا ہوتا ہے؛

اور جو بیچارا کماتا کم ہو، اس کی رائے بھی کم قیمت، اس کی بات بھی کم اہم اور بعض اوقات اس کی عزت بھی کم رہ جاتی ہے۔

کمال یہ ہے کہ یہ رویہ صرف معاشرے میں نہیں، کئی گھروں میں ماں باپ بھی اسی ترازو سے اپنی اولاد کو تولنے لگتے ہیں۔

ایک بیٹا لاکھوں کما کر لائے تو اس کی دس غلطیاں بھی معاف، اور دوسرا بیٹا کم کمائے تو اس کی ایک غلطی بھی ناقابلِ برداشت!

پھر اگر دونوں بھائیوں میں سے ایک زیادہ کمانے لگے تو بعض اوقات وہ بھی اپنے کم کمانے والے بھائی کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔

لیکن ذرا سوچیے...

کیا انسان کی قیمت اس کی تنخواہ ہے؟

ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کے درد کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں: وہ نوجوان لڑکے جو روزگار کی تلاش میں دربدر پھرتے ہیں۔

کوئی سارا دن نوکری کی تلاش میں دھکے کھاتا ہے، کوئی موٹر سائیکل چلا کر روزی کمانے کی کوشش کرتا ہے، کوئی فوڈ ڈلیوری کرتا ہے، کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتا ہے، اور کوئی کم آمدنی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔

اگر وہ کوشش کر رہا ہے، حلال روزگار تلاش کر رہا ہے، لیکن حالات اس کے حق میں نہیں ہو رہے، تو اسے طعنہ نہیں، حوصلہ چاہیے۔

ہاں، اگر کوئی صحت مند اور صاحبِ استطاعت نوجوان جان بوجھ کر محنت سے بھاگ رہا ہے، کام کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنا وقت صرف آوارہ گردی میں ضائع کرتا ہے، تو اسے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔

لیکن جو شخص کوشش کر رہا ہے، اس کی عزت اس کی آمدنی سے مت ناپیے۔

رزق اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے۔ کسی کو زیادہ ملتا ہے، کسی کو کم۔ کسی کا کاروبار چل جاتا ہے، کسی کو سالوں محنت کے باوجود مناسب روزگار نہیں ملتا۔

کسی کو زیادہ مل جانا اسے بڑا انسان نہیں بنا دیتا، اور کسی کو کم ملنا اسے چھوٹا انسان نہیں بنا دیتا۔

ماں باپ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اولاد کی عزت صرف اس وقت نہیں کی جاتی جب وہ کما کر گھر لائے۔

اولاد، اولاد ہوتی ہے—اس کی جیب موٹی ہو یا خالی۔

اور جس بھائی کو اللہ نے زیادہ دیا ہے، اسے اپنے کم کمانے والے بھائی کو نیچا دکھانے کے بجائے اس کا سہارا بننا چاہیے۔

کیونکہ ممکن ہے آج وہ تم سے کم کما رہا ہو، لیکن اللہ کے نزدیک اس کی محنت، اس کا صبر اور حلال رزق کے لیے اس کی جدوجہد بہت قیمتی ہو۔

کسی انسان کی جیب دیکھ کر اس کی عزت مت کرو۔

اس کی نیت، کردار اور محنت دیکھ کر اس کی قدر کرو۔

اور یاد رکھو:

بے روزگار ہونا شرمندگی نہیں،

حلال روزگار کے لیے کوشش چھوڑ دینا شرمندگی ہے۔

تحریر 61

پردیس میں رہنے والے باپ کی قربانی اور چاکلیٹس سے بھرا بستر

کئی برسوں بعد بیرونِ ملک سے واپسی پر، باپ نے اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو حیران کرنے کے لیے اس کا بستر چاکلیٹس سے بھر دیا ️

برسوں پردیس میں، ہزاروں کلومیٹر دور رہ کر، سالگرہ کے دن، اسکول کے لمحات اور سونے سے پہلے کی کہانیاں کھو دینے کے بعد — یہ باپ گھر لوٹا تو تحفوں سے بڑھ کر ایک گہرا احساس ساتھ لایا… احساسِ جرم۔

اس بات کا جرم کہ وہ کئی راتیں وہاں موجود نہ تھا۔

اس بات کا جرم کہ اس نے اپنی موجودگی کو مجبوری اور بقا کے بدلے قربان کر دیا۔

لوگ پردیس میں محنت کرنے والوں کا یہ پہلو شاذ ہی دیکھتے ہیں۔

وہ گھر بھیجا گیا پیسہ تو گنتے ہیں، مگر اکیلے میں پیے گئے آنسو نہیں۔

وہ قربانی کو تو دیکھتے ہیں، مگر اس درد کو نہیں کہ 3–4 طویل برسوں بعد صرف 30–40 دن کے لیے اپنے بچے کو دیکھنا نصیب ہو۔

چاکلیٹس سے بھرا یہ بستر کوئی عیش و آرام نہیں۔

یہ ایک معذرت ہے۔

یہ محبت ہے جو کھوئے ہوئے وقت کی کمی پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تحریر 62

وراثت چھپانا اور ورثاء کا حق

میں ایک سوشل ورکر (Social Worker) ہوں، اور اکثر ایسے خاندان میرے پاس آتے ہیں جن کے وراثت، جائیداد اور گھریلو تنازعات ہم عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے صلح و محبت سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

کئی سال پہلے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی ایک بڑی سرمایہ کاری (Investment) اپنے گھر والوں سے بھی مخفی رکھی تھی۔ وہ رقم انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست کے پاس اعتماد کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ جب تک وہ زندہ رہے، دوست ایمانداری سے ان کا حساب دیتا رہا۔

لیکن جیسے ہی ان کا انتقال ہوا، حالات بدل گئے۔

دوست جانتا تھا کہ مرحوم کے اہلِ خانہ کو اس سرمایہ کاری کا کوئی علم نہیں، اس لیے اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ نہ اس نے خود بتایا، نہ وہ مال ورثاء تک پہنچایا۔

ادھر مرحوم کے گھر میں حالات دن بدن مشکل ہوتے گئے۔ ان کے بچے اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ والد کے سائے کے بغیر انہوں نے مالی تنگی میں زندگی گزاری، تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات برداشت کیں، اور بیوہ نے بے شمار آزمائشیں جھیلیں۔

پھر تقریباً پندرہ بیس سال بعد، اس دوست کی زندگی کے آخری ایام آئے۔ شاید ضمیر جاگ گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے اعتراف کیا کہ مرحوم کی اتنی رقم میرے پاس بطور سرمایہ کاری موجود تھی۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ بات وقت پر معلوم ہو جاتی تو شاید ان بچوں کی زندگی مختلف ہوتی۔ وہ تعلیم، علاج اور زندگی کی بنیادی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکتے تھے، کیونکہ وہ مال انہی کا حق تھا۔

یاد رکھیں، انسان کے انتقال کے بعد اس کا مال اس کی ملکیت نہیں رہتا بلکہ ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی جائیداد، سرمایہ کاری، بینک اکاؤنٹس یا دیگر اثاثوں کی وضاحت کیے بغیر دنیا سے چلا جائے تو وہ اپنے پیچھے صرف الجھنیں نہیں بلکہ بعض اوقات بہت بڑے گناہ بھی چھوڑ جاتا ہے۔ ورثاء اپنے حق سے محروم رہتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں، مقدمے بنتے ہیں، اور دلوں میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔

اس لیے ہر صاحبِ مال کو چاہیے کہ اپنی تمام جائیداد، سرمایہ کاری، بینک اکاؤنٹس، کاروباری شراکتیں اور قرض وغیرہ واضح طور پر تحریری شکل میں درج کرے، اور اپنے اہلِ خانہ کو ان سے آگاہ بھی کرے۔ یہ صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی امانت بھی ہے۔

یاد رکھیں!

مرنے کے بعد آپ کا مال آپ کا نہیں رہتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وارثوں کا حق بن جاتا ہے۔ اس حق کو چھپانا یا اس کے ضائع ہونے کا سبب بننا، آخرت میں جواب دہی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحریر 63

وصیت لکھنے کی اہمیت

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنی زندگی میں باقاعدہ وصیت نہیں لکھتے، اور اچانک دنیا سے رخصت ہو کر ایک بڑی ذمہ داری اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ورثاء کے درمیان جھگڑے، بدگمانیاں اور حقوق کی پامالیاں جنم لیتی ہیں۔

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وصیت لکھنے کا مطلب صرف یہ لکھ دینا ہے کہ "میری جائیداد قرآن و سنت کے مطابق تقسیم کر دی جائے" یا "میرے مال کا ایک حصہ فلاں نیکی کے کام میں لگا دیا جائے، باقی شریعت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔" حالانکہ صرف اتنا لکھ دینا کافی نہیں۔

وصیت کا ایک نہایت اہم حصہ یہ ہے کہ انسان اپنے تمام مالی اثاثے واضح طور پر تحریر کرے۔ مثلاً بینک اکاؤنٹس، نقد رقم، سونا، جائیدادیں، کاروباری سرمایہ، گاڑیاں، شیئرز، سرمایہ کاری، قرضے (جو لینے یا دینے ہوں)، لاکرز، اور دیگر تمام مالی اثاثے اور ذمہ داریاں۔

افسوس کہ بہت سے مرد اور خواتین اپنے مالی معاملات حتیٰ کہ اپنی بیوی، بچوں اور قریبی گھر والوں سے بھی پوشیدہ رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مرحوم کے پاس کتنی دولت، کون سے اکاؤنٹس یا کون سے اثاثے موجود تھے۔ جب انسان وفات پا جاتا ہے تو وہ ان اموال کا مالک نہیں رہتا، بلکہ وہ مال شرعی طور پر ورثاء کا حق بن جاتا ہے۔ اگر مرحوم نے اپنے اثاثے واضح نہ کیے ہوں تو عین ممکن ہے کہ ورثاء اپنے جائز حق سے محروم رہ جائیں، اور بعض اوقات وہ مال ضائع ہو جائے یا دوسروں کے قبضے میں چلا جائے۔ اس طرح مرنے والا لوگوں کے حقوق کے معاملے میں جواب دہ بھی ہو سکتا ہے۔

اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ زندگی ہی میں اپنی وصیت مرتب کرے، اپنے تمام اثاثوں اور ذمہ داریوں کی مکمل فہرست لکھے، اور وقتاً فوقتاً اسے اپ ڈیٹ بھی کرتا رہے۔

رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

کسی مسلمان کے لیے، جس کے پاس وصیت کے قابل کوئی چیز ہو، یہ مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔

حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الوصایا، حدیث 2738؛ صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ، حدیث 1627۔

تحریر 64

اولاد کو صرف ڈگری نہیں، دین اور کردار بھی دیں

آج بہت سے والدین سمجھتے ہیں کہ اولاد کو صرف اعلیٰ ڈگری دلوا دینا ہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، لیکن یہ سوچ خطرناک ہو سکتی ہے۔

آج بعض کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ماحول ایسا ہے جہاں غیر محرم لڑکے اور لڑکیاں مسلسل میل جول میں رہتے ہیں۔ نوجوانی کی عمر میں فطری جذبات اور خواہشات بھی موجود ہوتی ہیں، ایسے ماحول میں دوستی، بے تکلفی اور پھر بے راہ روی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض نوجوان پڑھائی سے زیادہ غیر ضروری تعلقات اور ایسی سرگرمیوں میں الجھ جاتے ہیں جو ان کی دنیا اور آخرت دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

والدین کو سوچنا چاہیے کہ کیا صرف ڈگری کے لیے اپنی اولاد کو ایسے ماحول میں ڈال دینا درست ہے جہاں اس کے ایمان، حیا، اخلاق اور کردار کے بگڑنے کا خطرہ ہو؟

اعلیٰ تعلیم ضرور حاصل کروائیں، بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کو دنیاوی تعلیم دیں، لیکن ایسے ادارے اور ایسا ماحول منتخب کریں جہاں تعلیم کے ساتھ کردار، حیا اور دینی اقدار بھی محفوظ رہیں۔

اصل کامیابی صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ اچھا انسان، اچھا مسلمان اور اچھے اخلاق والا بننا ہے۔ قرآن کا ترجمہ و تفسیر، دینی تعلیم، حلال و حرام کی سمجھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت و اخلاق کی تربیت کو ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

اور یہ شیطان کا ایک بڑا دھوکہ ہے کہ اگر ہم نے اپنی اولاد کو فلاں ماحول یا فلاں ادارے میں نہ پڑھایا تو وہ مستقبل میں کیا کھائے گی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ﴾
شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔

(البقرۃ: 268)

رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنی اولاد کو اللہ کا بندہ اور رسول اللہ ﷺ کا غلام بنانا ہے، متقی اور باکردار بنانا ہے۔ دنیاوی تعلیم بھی ضرور دیں، مگر شریعت کی حدود اور محفوظ ماحول کے اندر۔

یاد رکھیں!

ایسی ڈگری جس کے بدلے ایمان، حیا، اخلاق اور آخرت خطرے میں پڑ جائے، وہ کامیابی نہیں، بہت بڑا خسارہ ہے۔

اپنی اولاد کو صرف روزگار کے قابل نہیں، اللہ کا فرمانبردار اور معاشرے کا باکردار انسان بنائیں۔

آج کل لوگ مدارس پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو حفظِ قرآن، دینی علوم اور درسِ نظامی کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جائے، سائنس کی اعلیٰ تعلیم دی جائے، کمپیوٹر اور دوسرے جدید علوم بھی پڑھائے جائیں۔

میں اس بات سے بالکل اتفاق کرتا ہوں کہ مدارس کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی علوم اور ہنر بھی سکھانے چاہئیں، تاکہ ہمارے علماء ہر شعبے میں آگے ہوں۔ میری خواہش تو یہ ہے کہ ہر شعبے کا سربراہ ایسا شخص ہو جو اپنے شعبے کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ عالمِ دین، قرآن و سنت کی سمجھ رکھنے والا اور اہلِ دین بھی ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مطالبہ صرف مدارس سے ہی کیوں؟

کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بھی اسی طرح توجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی دنیاوی تعلیم کے ساتھ اصل اور حقیقی تعلیم، یعنی قرآنِ مجید کی تعلیم کو بھی لازم کریں۔

قرآن وہ کتاب ہے جو رب العالمین نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کے لیے عطا فرمائی۔ اس لیے کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم میں قرآنِ مجید، ترجمہ اور تفسیر کو لازمی مضمون ہونا چاہیے، اور کم از کم بنیادی دینی تعلیم مکمل کیے بغیر ڈگری نہیں ملنی چاہیے۔

اسی طرح طلبہ کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق، سیرت اور سنتوں کی تعلیم بھی دی جائے۔ اگر کسی کو کاروبار سکھایا جا رہا ہے تو اسے یہ بھی بتایا جائے کہ نبی کریم ﷺ نے تجارت کے بارے میں کیا تعلیم دی۔ اگر میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، معاشیات یا کوئی اور شعبہ پڑھایا جا رہا ہے تو اس شعبے سے متعلق اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصول بھی سمجھائے جائیں۔

ہمیں مدارس اور کالج یونیورسٹیوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے دونوں کی اصلاح کرنی ہے۔

مدرسے کو دنیاوی علوم کی ضرورت ہے، اور یونیورسٹی کو قرآن و سنت کی۔

ہمیں ایسے انسان تیار کرنے ہیں جو دنیا میں بھی کامیاب ہوں اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔

کیونکہ ہر علم اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، مگر قرآن سب سے افضل علم ہے، اور نبی کریم ﷺ کی سنت سب سے بہترین نمونۂ زندگی ہے۔

آخرکار کامیابی اسی تعلیم میں ہے جو انسان کو دنیا بھی سنوارنا سکھائے اور آخرت بھی۔

تحریر 65

ہمارے نظامِ تعلیم کا مسئلہ: رٹّے کے بجائے سمجھ اور صلاحیت

آج ہمارے اسکولوں میں تعلیم کا ایک عجیب تصور بن چکا ہے۔ کلاس شروع ہوتی ہے، ٹیچر آتا ہے، بورڈ پر لکھنا شروع کر دیتا ہے، بچے خاموشی سے وہی اپنی کاپیوں میں نقل کرتے رہتے ہیں۔ پھر ٹیچر ہوم ورک دے کر اگلی کلاس میں چلا جاتا ہے۔

چند ہفتوں یا مہینوں بعد امتحان آتا ہے۔ بچے انہی نوٹس کو رٹتے ہیں، رٹا لگا کر پرچے میں لکھ دیتے ہیں، اچھے نمبر آ جاتے ہیں۔ والدین خوش، ٹیچر خوش، اسکول خوش، اور سب سمجھتے ہیں کہ بچے نے تعلیم حاصل کر لی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہی تعلیم (Education) ہے؟

تعلیم کا مقصد صرف معلومات کو یاد کر لینا نہیں، بلکہ سمجھ پیدا کرنا، سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنا، سوال کرنے کی ہمت دینا، مسائل حل کرنا، کردار بنانا اور زندگی گزارنے کا شعور دینا ہے۔

ہر بچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منفرد صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کوئی کھیل (Sports) میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، کوئی سائنس (Science) میں، کوئی ادب (Literature) میں، کوئی آرٹ (Art) میں، کوئی کاروبار (Business) میں، اور کوئی قیادت (Leadership) میں۔

ایک اچھے تعلیمی نظام کا کام یہ نہیں کہ تمام بچوں کو ایک ہی سانچے میں ڈھال دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ہر بچے کی صلاحیت کو پہچانا جائے، اسے نکھارا جائے اور اسی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

بدقسمتی سے ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم اب بھی بڑی حد تک رٹّے (Rote Learning) پر قائم ہے۔ کئی مضامین ایسے انداز میں پڑھائے جا رہے ہیں جن کا عملی زندگی سے بہت کم تعلق رہ گیا ہے، جبکہ جدید دنیا کی ضروری مہارتیں (Skills)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، تخلیقی صلاحیت (Creativity)، ابلاغ (Communication)، اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کی آج ضرورت ہے۔

ایک اور غلط تصور یہ پیدا کر دیا گیا ہے کہ جو بچہ انگریزی (English) اچھی بولتا ہے، وہی ذہین اور کامیاب ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انگریزی صرف ایک زبان ہے، ذہانت یا تعلیم کا معیار نہیں۔

دنیا کے بے شمار سائنس دان، موجد، تاجر اور کامیاب لوگ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر کے دنیا میں نام کما چکے ہیں۔ کامیابی کا تعلق زبان سے نہیں، بلکہ علم، مہارت، کردار، محنت اور صحیح رہنمائی سے ہے۔

اگر ہمیں واقعی ایک ترقی یافتہ قوم بننا ہے تو ہمیں رٹّے کے بجائے سمجھ، نمبروں کے بجائے صلاحیت، اور صرف امتحانات کے بجائے کردار، ہنر اور تخلیقی سوچ پر توجہ دینی ہوگی۔

کیونکہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایک قابل، باکردار، باصلاحیت اور مفید انسان بنانا ہے۔

تحریر 66

عالمہ لڑکی سے شادی کیوں نہیں؟ یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے

آج کل لوگ سوال کرتے ہیں کہ عالمہ لڑکی سے شادی کرنی چاہیے یا نہیں؟ اور پھر اسی کے ساتھ ایک دوسری بات بھی بہت مشہور ہو گئی ہے کہ عالمہ سے شادی نہ کرو، وہ بہت تیز ہوتی ہیں۔

بات یہ ہے کہ کسی کا تیز ہونا، کسی کا بد اخلاق ہونا یا کسی کا اچھے اخلاق والا ہونا، اس کے عالم ہونے یا کوئی اور تعلیم حاصل کرنے سے تعلق نہیں ہوتا۔ اس کا پورا کا پورا تعلق اس کے گھر کے ماحول، اس کی تربیت اور اس کے اخلاق سے ہوتا ہے۔

لیکن کسی کا عالمہ ہونا، کسی کے سینے میں قرآن و حدیث کا علم ہونا، اس بات کی طرف زیادہ گمان ضرور دلاتا ہے کہ وہ دیندار ہوں گی، شوہر کی عزت اور قدر کرنے والی ہوں گی، کیونکہ اس کے سینے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا علم، قرآن اور سنت کا علم موجود ہے۔

تو یہ ایک شیطان کی چال ہے کہ وہ لوگوں کے ذہنوں میں اس طرح کی باتیں ڈال دیتا ہے کہ عالمہ لڑکیاں تیز ہوتی ہیں، ان سے شادی نہ کرو۔

اور اسی چال کے ذریعے وہ والدین کے ذہن میں یہ بات بھی ڈالتا ہے کہ اپنی بیٹی کو عالمہ نہ بناؤ، اگر بیٹی عالمہ بن گئی تو شادی نہیں ہوگی۔

یہ دراصل خواتین کو دین سے دور کرنے کی ایک شیطانی چال ہے۔

جبکہ ہمارا مشاہدہ یہ ہے، اور ہمارے آس پاس ہم نے اس کے بہت سے ثبوت دیکھے ہیں، کہ جس کی بیوی عالمہ ہے یا جس کے گھر میں عالمہ بہو آئی، اس نے گھر کے ماحول کو دینی ماحول بنایا، بچوں کی تربیت دینی انداز میں کی اور گھر کے ماحول کو خوبصورت بنایا۔

اس کے مقابلے میں کالج اور یونیورسٹی کے ایسے ماحول میں جہاں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ پڑھتے ہیں، بہت دفعہ لڑکیوں کی لڑکوں سے دوستیاں ہو جاتی ہیں، اور پھر شادی کے بعد بھی بعض اوقات اپنے پرانے دوستوں سے رابطے اور بات چیت قائم رہتی ہے۔ بعد میں یہی چیزیں شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے کا باعث بنتی ہیں۔

تو جس کے سینے میں قرآن ہو، جس کے دل میں قرآن کا نور ہو، اس سے اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

یہ کہنا کہ عالمہ سے شادی نہ کرو ہمارے معاشرے میں پیدا ہونے والی ایک انتہائی بے بنیاد اور بیکار سوچ ہے۔

اپنی بچیوں کو ضرور دین کا علم دیں، کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ انہیں قرآن و سنت کا علم دیں، دین کی سمجھ دیں، حیا اور پردے کی تعلیم دیں۔

اور اپنی بچیوں کو ایسے ماحول سے محفوظ رکھیں جو انہیں گناہوں کے راستے پر لے جائے؛ جہاں نامحرموں کے ساتھ آزادانہ میل جول ہو، جہاں یونیورسٹیوں کے اندر ڈانس اور بے ہودہ قسم کے پروگرام ہوں، جہاں آہستہ آہستہ بچیاں دین اور حیا سے دور ہوتی جائیں۔

اس سے بہتر ہے کہ اپنی بچیوں کو دینی مدارس کا ماحول دیں، قرآن و سنت کا ماحول دیں، دین کا علم دیں۔

عورت کی عزت اللہ تعالیٰ نے اس کی حیا اور پردے میں رکھی ہے۔

اپنی بیٹی کو دین سے دور کرکے آپ اس کا مستقبل محفوظ نہیں کر رہے، بلکہ اسے ایک ایسے ماحول کے حوالے کر رہے ہیں جہاں بہت سے فتنے اس کے منتظر ہیں۔

لہٰذا اپنی بچیوں کو عالمہ بننے سے نہ روکیں۔

انہیں قرآن پڑھائیں، حدیث پڑھائیں، دین سمجھائیں۔

کیونکہ جس گھر میں قرآن کا علم رکھنے والی عورت آتی ہے، وہ صرف ایک گھر کی بہو نہیں بنتی، بلکہ وہ پورے گھر کی دینی تربیت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

عالمہ سے شادی نہ کرو والی سوچ کو ختم کریں۔

عالمہ ہو یا غیر عالمہ، اصل چیز اخلاق اور تربیت ہے، لیکن جس کے سینے میں قرآن و سنت کا علم ہو، اس کے بارے میں بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔

تحریر 67

ہر بچہ آٹزم زدہ نہیں ہوتا

آج کل میں نے بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں غیر معمولی تشویش میں مبتلا دیکھا ہے، خصوصاً آٹزم (Autism) کے حوالے سے۔ چونکہ میں نفسیاتی کونسلنگ (Psychological Counseling) سے وابستہ ہوں، اس لیے والدین اپنے بچوں کے رویّوں (Behavior) کے بارے میں مشورہ لینے آتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بہت سے بچوں کو آٹزم (Autism) نہیں ہوتا۔ ہر وہ بچہ جو کم بولتا ہو، شرمیلا ہو، لوگوں سے گھلنے ملنے میں وقت لیتا ہو، یا جس کا اعتماد (Confidence) ابھی مکمل طور پر نہ بنا ہو، ضروری نہیں کہ وہ آٹزم کا شکار ہو۔ بہت سے بچوں کی شخصیت (Personality)، اعتماد (Confidence) اور سماجی صلاحیتیں (Social Skills) عمر، ماحول، تربیت اور تجربات کے ساتھ نمایاں طور پر بہتر ہوتی جاتی ہیں۔

بدقسمتی سے بعض اوقات والدین ابتدائی رویّوں (Early Behaviors) کو ہی آٹزم سمجھ لیتے ہیں، اور بعض مراکز (Centers) بھی مکمل اور محتاط تشخیص (Diagnosis) سے پہلے جلدی میں بچے پر "آٹزم" کا لیبل (Label) لگا دیتے ہیں۔ اس کے بعد والدین کی پوری توجہ اسی ایک پہلو پر مرکوز ہو جاتی ہے، اور وہ بچے کے ساتھ ایسا غیر معمولی رویہ اختیار کرنے لگتے ہیں کہ بچہ خود کو دوسروں سے مختلف اور کسی ذہنی مسئلے میں مبتلا محسوس کرنے لگتا ہے۔

یاد رکھیں، اکثر مسئلہ آٹزم (Autism) نہیں ہوتا، لیکن بچے کے ساتھ حد سے زیادہ محتاط، غیر معمولی اور ہر وقت فکر مندانہ رویہ اس کی خود اعتمادی (Self-Confidence) کو متاثر کر سکتا ہے۔ بچہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اس میں واقعی کوئی بڑی خرابی ہے، حالانکہ اسے صرف وقت، متوازن تربیت، مناسب رہنمائی (Guidance) اور حوصلہ افزائی (Encouragement) کی ضرورت ہوتی ہے۔

والدین سے میری گزارش ہے کہ اگر بچے کے رویّے (Behavior) کے بارے میں تشویش ہو تو گھبرانے کے بجائے کسی مستند ماہرِ اطفال (Pediatrician)، چائلڈ سائیکولوجسٹ (Child Psychologist) یا چائلڈ سائیکائٹرسٹ (Child Psychiatrist) سے تشخیص (Diagnosis) کروائیں۔ صرف شبہے کی بنیاد پر بچے کو آٹزم کا مریض نہ سمجھیں، اور نہ ہی اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں کہ وہ اپنی ذات کو ایک "مریض" کے طور پر دیکھنے لگے۔

ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا اور نشوونما پاتا ہے۔ محبت، صبر، متوازن تربیت اور درست رہنمائی اکثر بچوں کی بہترین نشوونما کا ذریعہ بنتی ہے۔

تحریر: محسن موٹن

تحریر 68

لہجہ انگریزی، قابلیت زیرو؟

میں کئی سال سے مختلف کمپنیوں اور اداروں میں کام کرتا آ رہا ہوں، اور ایک چیز دیکھ کر دل کو بہت دکھ ہوتا ہے کہ جب انٹرویوز (Interviews) میں نوجوان ہمارے سامنے آتے ہیں تو ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔

ڈگریاں موجود ہوتی ہیں، وہ بھی بڑی بڑی جامعات (Universities) سے۔ سی وی (CV) خوبصورت انداز میں تیار کیا ہوا، اعتماد بھی بظاہر نمایاں… مگر جب عملی سوال کیا جائے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ نے میدانِ عمل میں کیا سیکھا ہے؟ تو جواب سطحی اور کمزور محسوس ہوتا ہے۔

افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ زیادہ توجہ انگریزی بولنے پر ہوتی ہے۔ انٹرویو کے دوران منہ گھول گھما کر، نئے نئے الفاظ استعمال کر کے، لہجے اور انداز سے متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر جب کام کی نوعیت، ذمہ داری یا مسئلہ حل کرنے کی بات آئے تو سمجھ کی کمی واضح ہو جاتی ہے۔

مجھے حیرت بھی ہوتی ہے کہ ہماری جامعات آج کل بھاری فیسیں وصول کر رہی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ عملی طور پر کیا پیدا (Produce) کر رہی ہیں؟ کیا وہ ایسے نوجوان تیار کر رہی ہیں جو اداروں کے لیے حقیقی اثاثہ بن سکیں؟ یا صرف ڈگری ہولڈر (Degree Holder) تیار ہو رہے ہیں؟

تعلیمی اداروں کو طلبہ کی حقیقی تعلیمی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف نصاب مکمل کروا دینا کافی نہیں، بلکہ صلاحیت (Talent)، مہارت (Skill) اور عملی تجربہ (Experience) پیدا کرنا ضروری ہے۔

اور جب ایسے نوجوانوں کو ملازمت دے بھی دی جائے تو بعد میں بھی زیادہ زور پریزنٹیشنز (Presentations) اور انگریزی اندازِ گفتگو پر ہوتا ہے، جبکہ اصل کارکردگی (Performance) وہ معیار حاصل نہیں کر پاتی جس کی ادارے کو ضرورت ہوتی ہے۔

میرے نوجوان دوستو!

زبان ایک ذریعہ ہے، کامیابی کی ضمانت نہیں۔ انگریزی سیکھنا اچھی بات ہے، مگر صرف زبان پر انحصار کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

اب وقت بدل چکا ہے۔ ادارے لہجہ نہیں، نتیجہ دیکھتے ہیں۔ الفاظ نہیں، عمل دیکھتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو صرف انگریزی آتی ہو اور کام نہ آتا ہو تو ادارہ نقصان اٹھاتا ہے۔ اسی لیے آج سمجھدار کمپنیاں زبان سے زیادہ قابلیت کو ترجیح دیتی ہیں۔

میں دل سے گزارش کروں گا:

اپنے ہنر کو پہچانیں۔
اپنے شعبے میں مہارت پیدا کریں۔
عملی میدان میں سیکھیں۔
تعلیم کو گہرائی سے حاصل کریں۔

منہ گھول گھما کر اسٹائل سے انگریزی بولنے سے وقتی تاثر تو قائم ہو سکتا ہے، مگر دیرپا کامیابی صرف قابلیت، محنت اور سچائی سے حاصل ہوتی ہے۔

یاد رکھیں، زبان دروازہ دکھا سکتی ہے…

مگر اندر جگہ آپ کی مہارت ہی بناتی ہے۔

تحریر 69

نوجوانوں میں بڑھتا ہوا الحاد — والدین کے لیے پیغام

آج ایک بہت اہم ترین موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں، اور اس عنوان کو جو مختصر سا ہے، آخر تک ضرور پڑھیں۔ والدین ضرور اس عنوان کو پڑھیں۔

میرا تعلق یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبہ (students) سے بہت گہرا رہتا ہے، اور مجھے اکثر مختلف یونیورسٹیز، کالجز اور اے لیولز کے اسکولز میں اسپیچ (speech) کے حوالے سے جانے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد ایک تشویشناک حقیقت جس کو میں آج آپ سب کے سامنے کھل کر بیان کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ کچھ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں میں الحاد (atheism) کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

میں ذاتی طور پر دو تین ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو ایک بہت دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، مگر یونیورسٹی اور کالجز کے ماحول میں آنے کے بعد ان کا ذہن اب الحاد (atheism) کی طرف مائل ہو چکا ہے، بلکہ وہ خود کو باقاعدہ اسلام سے بیزار بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دینی شعور نہیں دے رہے۔ جب ذہن کی تربیت صرف دنیاوی تعلیم تک محدود ہو جائے اور عقائد مضبوط نہ ہوں تو پھر وہ مختلف خیالات سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ آج کے تعلیمی ماحول نے بھی کہیں نہ کہیں ہماری علمی اور فکری بربادی کا ذریعہ بن کر ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ لڑکے اور لڑکیوں کا ایک ساتھ پڑھنا (co-education) بھی ایک ایسا عنصر ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ اندازِ تعلیم مناسب نہیں سمجھا جاتا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے معمول بنا دیا گیا ہے۔

اسی طرح بعض اساتذہ بھی اس صورتحال کے ذمہ دار بنتے ہیں، کیونکہ ان میں سے کچھ کا اپنا ذہن بھی atheism یا مغربی نظریات کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔ وہ پڑھاتے ہوئے بچوں کے سامنے ایسے سوالات اور اندازِ گفتگو رکھتے ہیں جو طلبہ کے ذہن میں شکوک پیدا کر دیتے ہیں، اور آہستہ آہستہ طالب علم اسی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ اگر دینی پختگی اور عقائد میں مضبوطی ہو تو کوئی بھی نظریاتی طوفان انسان کو آسانی سے متاثر نہیں کر سکتا۔

آج کے دور میں بچے دنیاوی کتابوں اور غیر مسلم مصنفین (authors) کی طرف زیادہ متوجہ ہیں، جس سے ان کے ذہن پر انہی افکار کا اثر پڑتا ہے۔ ایک طالب علم جب مسلسل کسی خاص فکر کے مصنف کو پڑھتا ہے تو اس کا ذہن اسی فکر کی طرف جھکنے لگتا ہے، اور وہ آہستہ آہستہ اسی نظریے کو قبول کرنے لگتا ہے۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور حفاظِ قرآن بھی قرآن کے معنی اور پیغام سے مکمل طور پر واقف نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے قرآن صرف تلاوت تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ اصل مقصد اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔

آخر میں سب سے اہم ذمہ داری والدین پر آتی ہے۔ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے عقائد کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دیں، ان کی دینی تربیت کریں اور انہیں قرآن و سنت کے ساتھ جوڑیں۔ جب عقیدہ مضبوط ہو جائے تو کوئی بھی فکری یا نظریاتی طوفان نوجوان کو بہکا نہیں سکتا۔

تحریر 70

میرے سفر کے تین اصول: تجارت، سیاحت اور تبلیغ

میرے سفر کے تین اصول — تجارت، سیاحت، تبلیغ

میرا اکثر وقت سفر میں گزرتا ہے، اور میں نے اپنے سفر کے تین بنیادی اصول بنا رکھے ہیں:

پہلا: تجارت

ایسی تجارت جو محنت، دیانت اور ایمانداری کے ساتھ ہو؛ تاکہ ہماری تجارت صرف دنیا کمانے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ لوگوں کے لیے اسلام کی دعوت بھی بن جائے اور لوگ ہمارے کردار سے دین کی طرف متاثر ہوں۔

دوسرا: سیاحت

راستے میں کوئی خوبصورت یا سیاحتی مقام آئے تو اسے ضرور انجوائے کریں، اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کو دیکھیں اور اس کے حسن سے لطف اندوز ہوں۔

تیسرا: تبلیغ

جہاں دعوت کا موقع ملے، جہاں کسی انسان کو دین کی طرف متوجہ کرنے کا موقع ملے، اسے ضائع نہ کریں۔ محبت اور حکمت کے ساتھ دین کی بات پہنچائیں۔

بس یہی میرے سفر کے تین اصول ہیں:

تجارت، سیاحت، تبلیغ۔

تحریر 71

آن لائن کاروبار کی حقیقت — پاکستان میں ای کامرس کے چیلنجز

آن لائن کاروبار کے حوالے سے میرا پندرہ سالہ تجربہ ہے، اور میں مختلف برانڈز کے لیے ان کے ای کامرس آپریشنز کو لیڈ کر چکا ہوں۔ آج سے تقریباً پندرہ سال پہلے، جب پاکستان میں آن لائن کاروبار کا کوئی خاص تصور موجود نہیں تھا، اُس وقت پاکستان کے ایک بڑے بزنس مین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اُس وقت میں ایم بی اے مکمل کر چکا تھا اور وہ مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں ایک آن لائن کاروبار سیٹ اپ کرنا چاہتے ہیں۔ اُس وقت ہم نے سب سے پہلے ریسرچ (Research) سے آغاز کیا کہ پاکستان میں آن لائن کاروبار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب Daraz بھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھا۔

اپنے اس طویل تجربے کی بنیاد پر میں آج آپ کو ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں آج بھی آن لائن کاروبار مکمل طور پر میچور نہیں ہوا۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آن لائن میں بہت آسانی سے کام ہو جاتا ہے، بہت زیادہ منافع ہے، اور ہر برانڈ بہت زیادہ کمائی کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اگر آپ ایک مضبوط برانڈ بنا کر ایک پروفیشنل آن لائن کاروبار کھڑا کرنا چاہتے ہیں، اپنی پراپر ویب سائٹ لانچ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں ای کامرس (E-commerce) کے اندر بے شمار پیچیدگیاں اور چیلنجز موجود ہیں۔ یہ کوئی ایسا کاروبار نہیں جو بغیر سرمایہ کاری کے شروع ہو جائے، بلکہ اس کے لیے بھاری انویسٹمنٹ (Investment)، مسلسل مارکیٹنگ (Marketing)، مضبوط ٹیم، اور بہت زیادہ ریسورسز کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بعد سب سے بڑا مسئلہ “ریٹرن” (Return) کا آتا ہے۔ بڑی محنت اور اخراجات کے بعد جب آرڈرز آنا شروع ہوتے ہیں، تو اُن میں سے ایک بڑی تعداد کسٹمر واپس ریٹرن کر دیتا ہے، جو ای کامرس کاروبار کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف آن لائن مارکیٹنگ (Online Marketing) بھی اب پہلے کی نسبت بہت زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔

لہٰذا جو لوگ آن لائن کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ صرف دوسروں کو دیکھ کر اس میدان میں نہ آئیں، بلکہ بہت سوچ سمجھ کر، مکمل تحقیق کے ساتھ، اور کسی تجربہ کار کنسلٹنٹ (Consultant) یا اچھی کنسلٹنسی (Consultancy) کی رہنمائی میں اس سفر کا آغاز کریں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ آن لائن کے تمام کاروبار نقصان میں ہیں، لیکن میں پورے یقین کے ساتھ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک پراپر برانڈیڈ ای کامرس کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، تو اس وقت تقریباً اسی فیصد ایسے کاروبار خسارے یا مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ صرف بیس فیصد لوگ ہی مضبوط ریسرچ، درست حکمتِ عملی، اور وسیع تجربے کی بنیاد پر کامیابی حاصل کر پاتے ہیں۔

اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ جذبات یا وقتی رجحانات میں آ کر اپنا سرمایہ ضائع نہ کریں، بلکہ مکمل تیاری، صحیح پلاننگ (Planning)، اور درست رہنمائی کے ساتھ اس فیلڈ میں قدم رکھیں تاکہ بڑے نقصانات سے بچ سکیں۔

تحریر 72

ایسا کاروبار بناؤ جو تمہارے بغیر بھی چلے

یسا کاروبار بناؤ جو تمہارے بغیر بھی چلے

حقیقی کامیاب کاروبار وہ نہیں ہوتا جسے چلانے کے لیے مالک کا ہر وقت موجود ہونا ضروری ہو۔ اصل کامیابی تب ہے جب سسٹمز، ٹیم اور حکمت عملی اس حد تک مضبوط ہوں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی کاروبار چلتا رہے، فیصلے ہوں اور کمائی جاری رہے۔ کاروبار غلامی نہیں، آزادی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

تحریر 73

باس نہیں، لیڈر بنیں — کیونکہ ٹیم ملازم نہیں، امانت ہوتی ہے

باس نہیں، لیڈر بنیں — کیونکہ ٹیم ملازم نہیں، امانت ہوتی ہے

آپ کی ٹیم آپ کی ملازم نہیں ہوتی،

ایک سچا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی ٹیم کے لیے نعمت بن جائے۔

لیڈر وہ ہوتا ہے جو ہر لمحہ اپنی ٹیم کو سکھاتا ہے،

جو مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے،

جس کی موجودگی ہی ٹیم کے لیے باعثِ سکون ہو،

اور جس کے ساتھ کام کرنا خوف نہیں بلکہ حوصلہ پیدا کرے۔

اس کے برعکس،

باس وہ ہوتا ہے جو صرف حکم چلاتا ہے،

جو ہر وقت دباؤ اور خوف کی فضا قائم رکھتا ہے،

جو نتائج تو مانگتا ہے مگر انسان کو بھول جاتا ہے،

اور آخرکار اپنی ہی ٹیم کو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا مریض بنا دیتا ہے۔

یاد رکھیں!

خوف سے کام لیا جا سکتا ہے،

مگر دل جیت کر ہی کام کرایا جاتا ہے۔

لہٰذا باس نہیں،

لیڈر بنیں —

کیونکہ ٹیم کو حکم نہیں، رہنمائی چاہیے۔

تحریر 74

اپنی ٹیم کے حقوق اور کام کے ماحول کی ذمہ داری

آپ کی ٹیم کے وہ لڑکے جو روزانہ دس، بارہ گھنٹے آپ کے لیے کام کرتے ہیں، اپنی زندگی کا بڑا حصہ آپ کے کام اور آپ کی کمپنی کی خدمت میں صرف کر دیتے ہیں۔ وہ مشینیں نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان ہیں—ان کے بھی جذبات ہیں، ان کی بھی ایک ذاتی زندگی اور خاندان ہے۔

دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ، دس بلکہ بارہ گھنٹے وہ آپ کے ساتھ کام میں مصروف رہتے ہیں، باقی چند گھنٹے نیند میں گزر جاتے ہیں، اور جو تھوڑا سا وقت بچتا ہے وہ اپنے گھر والوں کو دیتے ہیں۔ یوں خاندان سے زیادہ وقت وہ کام کو دے رہے ہوتے ہیں۔

ایسے میں آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کام، اپنے کاروبار، اپنی دکان یا دفتر میں ایسا ماحول قائم کریں جہاں وہ ان لمحات کو بوجھ سمجھ کر نہ گزاریں بلکہ انجوائے کریں، کام کو انجوائے کریں۔ ایسا ماحول بنائیں جہاں دل گھٹنے کے بجائے کھلیں، جہاں وقت زنجیر نہ لگے بلکہ آسانی بن جائے۔

جب لڑکے جس جگہ کام کرتے ہیں وہاں آپس میں محبت، احترام اور بھائی چارہ ہوگا تو وہ کام کو بھی خوش دلی سے کریں گے، ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے اور وقت تیزی سے گزرے گا۔ ورنہ وہی وقت بوجھ بن کر گزرے گا، اور بوجھ کے ساتھ کیا گیا کام نہ دل کو سکون دیتا ہے نہ برکت لاتا ہے۔

اس لیے ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی ذاتی زندگی کا احترام کریں، اور ان پر کام کا ایسا دباؤ نہ ڈالیں کہ وہ ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو جائیں۔ یاد رکھیں، زندگی کا مقصد صرف مال کمانا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا احساس کرنا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر وہ دینِ اسلام ہے جو رسول اللہ ﷺ ہمیں دے کر گئے—جسے اخلاق، محبت، رحم اور آسانی کے ساتھ پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔

تحریر 75

”کہیں وہ میرا فائدہ نہ اٹھا لے!“ — دینے والا دل اور قیادت کی اصل روح

کہیں وہ میرا فائدہ نہ اٹھا لے!

یہ وہ خوف ہے جس نے نہ جانے کتنی زندگیاں روک دیں، تعلقات توڑ دیے، اور اعتماد دفن کر دیا۔

جو لوگ دوسروں کے فائدے سے ڈرتے ہیں، وہ نہ خود کچھ حاصل کر پاتے ہیں، نہ کسی کو کچھ دینے کے قابل رہتے ہیں۔

دل تنگ ہو جائے تو قسمت کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں۔

اصل رہنما وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو خود سے آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوتا ہے،

جو دینے میں راحت محسوس کرتا ہے، لینے میں نہیں۔

یہی قیادت کی اصل روح ہے — اور یہی ایمان کا پہلا زینہ بھی۔

جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے:

وَخَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ
سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع مند ہو۔

تحریر 76

کارپوریٹ ماحول اور شریعت: پردہ، حیا اور اسلامی طرزِ عمل کہاں کھو گئے؟

میں ایک عرصے سے مختلف کارپوریٹ ماحول میں کام کر رہا ہوں۔ اس دوران ایک سوال میرے دل و دماغ میں مسلسل گونجتا ہے:

کیوں کارپوریٹ دنیا میں بہت کم مسلمان، خاص طور پر خواتین، شریعت کے واضح اور بنیادی احکامات پر عمل کرتی نظر آتی ہیں؟

پردہ، حیا، حدود، اور اسلامی طرزِ عمل — یہ سب دفتر کے ماحول میں کہیں کھو سے گئے ہیں۔

خواتین کے لیے:

دفاتر میں اکثر پردہ یا مکمل اسلامی لباس کو “غیر پیشہ ورانہ” یا “بہت قدامت پسند” سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے:

کیا اللہ کی اطاعت کرنا کمزوری ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں، تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔‘‘

(سورہ احزاب 33:59)

مگر دفاتر میں خواتین پر اکثر ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ “فٹ اِن” ہونے کے لیے اپنی پہچان اور پردہ چھوڑ دیں، جو کہ نہ صرف دین بلکہ ان کی عزت کے بھی خلاف ہے۔

مردوں کے لیے:

پردہ اور حیا صرف عورت کی ذمہ داری نہیں، مردوں پر بھی برابر فرض ہے۔

اللہ فرماتے ہیں:

ایمان والوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔

(سورہ نور 24:30)

افسوس کہ دفاتر میں مسلمان مرد بغیر کسی جھجک خواتین سے غیر ضروری گفتگو، میل جول، اور ہنسی مذاق میں مشغول نظر آتے ہیں — اور حدود کو بھلا بیٹھتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو، کیونکہ ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔" (ترمذی)

اور:

کسی مرد کے لیے یہ بہتر ہے کہ اس کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونکی جائے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے۔" (طبرانی)
دوہرا معیار:

ہم دن رات ملک میں نفاذِ شریعت کے خواب دیکھتے ہیں،

لیکن خود اپنی کمپنی، گھر، یا روزمرہ ماحول میں شریعت کی بنیادی باتیں بھی نافذ نہیں کر پاتے۔

تو کیوں نہ ہم خود سے آغاز کریں:

اپنی کمپنی میں اسلامی لباس کا ماحول دیں

مخلوط محفلوں اور بیٹھکوں سے پرہیز کریں

ایسا کارپوریٹ ماحول بنائیں جہاں دین اور پیشہ ورانہ وقار ایک ساتھ چلیں

یاد رکھیں:

یہ میرا یا آپ کا قانون نہیں — یہ اللہ کا قانون ہے۔

اصل کامیابی — اطاعت میں ہے

ہمیں یقین ہونا چاہیے:

اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

(سورہ الطلاق 65:2-3)

رزق صرف کوشش سے نہیں — اللہ کی اطاعت سے ملتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کاروبار، نوکری، اور دل و دماغ میں برکت ہو،

تو ہمیں پہلے اللہ کے احکامات کی پابندی کرنی ہوگی۔

آئیے — شرم محسوس کرنے کے بجائے، اپنے دین پر فخر کریں۔

اسلام کو صرف مسجد تک محدود نہ کریں — اسے دفتر، میٹنگ، لباس، اور ماحول میں بھی زندہ کریں۔

بدلاؤ ہم سے شروع ہوگا — ہمارے دل سے، ہمارے گھر سے، اور ہمارے اداروں سے۔

یہ ہمارا یا آپ کا قانون نہیں… یہ اللہ کا قانون ہے — اور اسی میں ہماری عزت اور کامیابی ہے۔

تحریر 77

فتنۂ الحاد اور نوجوان نسل — شکایت نہیں، دعوت و مکالمے کی ضرورت

اس وقت ہمارے مسلمان نوجوانوں میں فتنۂ الحاد (Atheism) تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ الحاد محض ایک نظریہ نہیں رہا، بلکہ ایک فتنہ بن کر ہمارے نوجوانوں کے دلوں اور ذہنوں میں اتر رہا ہے۔

پاکستان میں بہت سے نوجوان براہِ راست یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتے کہ وہ اسلام کو چھوڑ چکے ہیں، لیکن ان کی گفتگو، اعتراضات اور دین کے بارے میں ان کے رویے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اندر ہی اندر ان کے ایمان کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔

سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارا نوجوان اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال اس تعلیمی نظام میں گزارتا ہے جہاں اسے دنیا کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر ایسے نظریات، فلسفے اور کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو اسلامی فکر اور عقیدے سے مختلف ہیں۔

کتاب معمولی چیز نہیں ہوتی۔

انسان جس مصنف کو برسوں پڑھتا ہے، اس کے خیالات، نظریات اور دنیا کو دیکھنے کا زاویہ رفتہ رفتہ قاری کے ذہن پر اثر ڈالتا ہے۔ اگر ایک نوجوان سالہا سال ایسے لوگوں کی تحریریں پڑھتا رہے جو خدا، وحی، آخرت اور دین کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہیں، تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس کے ذہن کی فکری تربیت کون کر رہا ہے؟

ہم یہ شکایت تو کرتے ہیں کہ نوجوان دین کی بات نہیں سنتے، لیکن ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے:

کیا ہم ان تک دین کی بات پہنچانے کے لیے ان کے پاس جا رہے ہیں؟

ہم اکثر انتظار کرتے ہیں کہ نوجوان ہمارے مدارس میں آئیں، ہماری مساجد میں آئیں، ہماری دینی مجالس میں بیٹھیں اور دین سیکھیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نوجوان وہاں آ ہی نہیں رہے۔

تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تک جائیں۔

خصوصاً کالجز، یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اہلِ دین، دینی اداروں، علماء اور دین کا درد رکھنے والے لوگوں کو چاہیے کہ وہ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے سوالات کو سمجھیں، ان کے شبہات سنیں، ان سے مکالمہ کریں اور حکمت و محبت کے ساتھ انہیں دین کی طرف متوجہ کریں۔

اس سلسلے میں تبلیغی جماعت کی یونیورسٹی اور کالج کے نوجوانوں تک پہنچنے کی کوششیں ایک قابلِ ذکر مثال ہیں۔ اسی طرح تمام دینی اداروں اور اہلِ علم کو بھی اپنے دائرۂ کار سے نکل کر نوجوان نسل تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

یہ وقت صرف یہ کہنے کا نہیں کہ "بچے دین کی بات نہیں سنتے"۔

یہ وقت یہ سوچنے کا ہے کہ:

ہم نے ان تک دین کی بات پہنچانے کے لیے کیا کیا؟

میں خود یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کے ساتھ مسلسل ملتا جلتا رہا ہوں اور ان کے سوالات، خیالات اور فکری الجھنوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی تعلق کی وجہ سے یہ غم میرے دل میں مسلسل موجود ہے۔

میں پہلے بھی اس موضوع پر کئی تحریریں لکھ چکا ہوں، لیکن آج دوبارہ اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔

ممکن ہے جو فکر مجھے ان نوجوانوں کے بارے میں محسوس ہوتی ہے، وہ ہر شخص کو اس شدت سے محسوس نہ ہوتی ہو، کیونکہ شاید ہر ایک کا ان نوجوانوں کے ساتھ اتنا قریبی تعلق نہ ہو۔

لیکن میرا درد یہ ہے کہ ہمیں اس فتنے کے ظاہر ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

جب نوجوان کھل کر کہیں کہ وہ دین سے دور ہو چکے ہیں، اس وقت جاگنے کے بجائے ہمیں اس سے پہلے ان کے سوالات تک پہنچنا ہوگا، ان کے ذہنوں کو سمجھنا ہوگا اور ان کے دلوں تک دین کی خوبصورتی، قرآن کی روشنی اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو حکمت، محبت اور دلیل کے ساتھ پہنچانا ہوگا۔

فتنۂ الحاد کے مقابلے میں خاموشی کافی نہیں۔

اس کے لیے علمی، فکری، تربیتی اور دعوتی محنت کی ضرورت ہے۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف یہ نہیں بتانا کہ "الحاد غلط ہے"، بلکہ ان کے سوالات کے جواب بھی دینے ہوں گے۔

کیونکہ آج کا نوجوان صرف حکم نہیں، دلیل بھی مانگتا ہے؛ صرف نصیحت نہیں، مکالمہ بھی چاہتا ہے۔

اگر ہم اپنے نوجوانوں تک نہیں پہنچیں گے تو کوئی اور ان تک ضرور پہنچے گا۔

یہ وقت شکایت کا نہیں، میدان میں اترنے کا ہے۔

از قلم: محسن موٹن

تحریر 78

حج اور عمرے پر جانے والوں کے لیے ایک خاص نصیحت!

اگر آپ حج پر جا رہے ہیں یا عمرے کے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں تو ایک بات اپنے دل میں بٹھا لیجیے:

یہ ٹورزم (Tourism) کا سفر نہیں، محض ایک رسمی سفر نہیں، بلکہ یہ روحانیت کا سفر، سفرِ عشق اور زندگی بدل دینے والا انقلابی سفر ہونا چاہیے۔

یہ نیت لے کر جائیں کہ:

یا اللہ! میں آپ کے گھر کی طرف صرف حاضری دینے نہیں، اپنے آپ کو بدلنے آ رہا ہوں۔ میں آپ سے دوستی کرنے، آپ کے قریب ہونے اور اپنی زندگی کا رخ بدلنے آ رہا ہوں۔

مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ وقت حرم شریف میں گزارنے کی کوشش کریں۔ غیر ضروری خریداری، گھومنے پھرنے اور دنیاوی مشاغل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے حرم میں بیٹھیں، عبادت کریں، قرآن پڑھیں، ذکر کریں اور اللہ سے باتیں کریں۔

جتنا زیادہ طواف کی استطاعت ہو، طواف کریں۔ طواف وہاں کی خصوصی عبادت ہے۔ طواف کرتے ہوئے اپنے رب کے سامنے اپنی محبت، عاجزی کا اظہار کریں۔

اور جب طواف کی استطاعت نہ رہے یا تھکن ہو تو دعاؤں میں لگ جائیں، قرآن پڑھیں، اسے سمجھ کر پڑھیں اور اپنے رب کے سامنے اپنا حالِ دل بیان کریں۔

بار بار دعا کریں:

یا اللہ! یہ سفر میری زندگی میں انقلاب برپا کرنے والا سفر بنا دیں۔ مجھے بدل دیں، مجھے اپنا بنا لیں، مجھے اپنے قریب کر لیں، مجھ سے دوستی فرما لیں اور اپنی محبت عطا فرما دیں۔

اور صرف دنیا کی چیزیں نہ مانگیں، بلکہ سب سے بڑھ کر اللہ کو مانگیں۔

اللہ سے اپنے دین کے کام کے لیے قبولیت مانگیں

حرم میں اللہ سے یہ بھی دعا کریں:

یا اللہ! مجھے اپنے دین کا کام دے دیں، اپنی مخلوق کی خدمت کے لیے مجھے قبول فرما لیں اور دین کی سربلندی کے لیے میرے وجود کو استعمال فرما دیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

ترجمہ:

اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔

(سورۃ محمد: 7)

یہ دعا کرتے ہوئے اپنی عمر، صحت یا حالات کو سامنے نہ رکھیں۔ یہ نہ سوچیں کہ میں بوڑھا ہوں، بیمار ہوں یا میرے پاس وسائل نہیں، میں کیا کام کر سکتا ہوں۔

اپنی استطاعت کو نہیں، اللہ کی قدرت کو دیکھیں۔

وہ اللہ ہے، کسی بھی عمر میں اپنے دین کا کام لے سکتا ہے۔ کمزور صحت میں بھی کام لے سکتا ہے، صحت دے کر بھی کام لے سکتا ہے اور معذوری کی حالت میں بھی اپنے بندے سے ایسا کام لے سکتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

مدینہ منورہ کی حاضری

اور جب مدینہ منورہ کی حاضری نصیب ہو تو اسے معمولی حاضری نہ سمجھیں۔ بڑے ادب، محبت اور عقیدت کے ساتھ اپنے آقا، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔

کثرت سے درود و سلام پیش کریں اور اپنا حالِ دل بیان کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں اور رسول اللہ ﷺ سے بھی اللہ کے حضور دعا کی درخواست کریں کہ اللہ ہمیں اپنے دین کے کام کے لیے قبول فرما لے۔

مدینہ منورہ کی حاضری کا خصوصی عمل اپنے گناہوں سے توبہ کرنا ہے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

ترجمہ:

اور اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے، آپ کے پاس آتے، پھر اللہ سے بخشش مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان پاتے۔

(سورۃ النساء: 64)

لہٰذا مدینہ کی حاضری کو صرف ایک مقام کی زیارت نہ بنائیں، بلکہ توبہ، درود و سلام، اصلاحِ زندگی اور دین کے کام کے لیے قبولیت مانگنے کا موقع بنائیں۔

دنیا میں جب کسی بڑے آدمی کے پاس ملازمت مانگنے جاتے ہیں تو اپنی CV لے کر جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں بھی اپنے دل کی ایک روحانی CV لے کر جائیں:

یا رسول اللہ ﷺ! میں کمزور ہوں، گناہ گار ہوں، لیکن آپ جو دین لے کر دنیا میں تشریف لائے، میں اس دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ سے میرے لیے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے اپنے دین کے کام کے لیے قبول فرما لے۔

اور اللہ کے سامنے سچی توبہ کریں، کیونکہ اصل مقصد یہ ہے کہ وہاں سے واپس آتے ہوئے صرف حج یا عمرے کی یادیں نہ ہوں، بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہو۔

واپس آکر نمازوں کی پابندی ہو جائے، قرآن سے تعلق مضبوط ہو، گناہوں سے بچنے کی فکر پیدا ہو، معاملات درست ہوں، اخلاق بہتر ہوں، گھر اور کاروبار میں اللہ کی رضا سامنے ہو اور انسان جہاں تک ممکن ہو دین اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے۔

حج اور عمرے کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ ہم مکہ و مدینہ ہو آئے؛ بلکہ یہ ہے کہ مکہ و مدینہ ہماری زندگی میں آ جائیں۔

اس لیے دعا کریں:

یا اللہ! اس سفر کو میری زندگی کا انقلاب بنا دیں۔ مجھے اپنا بنا لیں، اپنے دین کے لیے قبول فرما لیں، اپنی محبت عطا فرما دیں اور مرتے دم تک اپنی رضا کے راستے پر چلا دیں۔ آمین۔

تحریر 79

حقیقی مالداری بمقابلہ مال کی چوکیداری

آج کے دور میں ایک عجیب حقیقت ہمارے سامنے ہے۔ اکثر لوگ مالدار بننے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو مالداروں کی ایک بڑی تعداد دراصل مال کے چوکیدار بن کر رہ گئی ہے۔ مال تو جمع ہو جاتا ہے، مگر نہ اس سے خود فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی اسے صحیح مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

حقیقی مالداری یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنا مال ہے، بلکہ اصل مالداری یہ ہے کہ وہ مال کہاں اور کیسے خرچ ہو رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّمَا مَالُكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ

ترجمہ:

انسان کا اصل مال وہی ہے جو اس نے کھا لیا اور ختم ہو گیا، یا جو اس نے پہن لیا اور پرانا ہو گیا، یا جو اس نے اللہ کی راہ میں صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔
حوالہ:

صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، حدیث نمبر: 2958

یہی وہ مال ہے جو حقیقت میں انسان کا بنتا ہے اور جو اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو مال صرف جمع ہو کر پیچھے رہ جائے، وہ اکثر انسان کے مرنے کے بعد وراثت کے جھگڑوں کا سبب بن جاتا ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ساری زندگی مال بڑھانے، اس کی حفاظت کرنے اور اسے سنبھالنے میں لگے رہتے ہیں۔ یوں وہ مالدار بننے کے بجائے مال کے محافظ بن جاتے ہیں۔ نہ وہ مال ان کی اپنی زندگی میں کسی کام آتا ہے اور نہ ہی ان کے بعد خیر کا ذریعہ بنتا ہے، بلکہ وہی مال بھائیوں کے درمیان جھگڑوں، فساد اور دشمنی کی بنیاد بن جاتا ہے۔

دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان مال کو اپنا خادم بنائے، اپنا مقصد نہ بنا لے۔ اپنے اوپر خرچ کرے، اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ کیونکہ وہی مال اصل کامیابی ہے جو انسان کے اپنے اوپر اور خیر کے راستے میں لگتا ہے۔

مالدار بنو، مال کے چوکیدار نہیں۔

تحریر 80

حقیقی عزت مال و منصب نہیں، کردار اور تقویٰ ہے

اگر لوگ آپ کو آپ کے مال، منصب یا عہدے کی وجہ سے عزت دیتے ہیں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کی عزت ہو؛ اکثر اوقات وہ آپ کے مال یا منصب کی عزت ہوتی ہے۔

دیکھا گیا ہے کہ مال و دولت رکھنے والے اور بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کے آس پاس چاپلوسوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ لوگ ان کے منہ پر ان کی تعریفیں کرتے ہیں، ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔ لیکن جب وہ شخص اپنے منصب سے ہٹ جاتا ہے یا اس کا مال اس کے پاس نہیں رہتا تو اچانک وہی ہجوم غائب ہو جاتا ہے اور اردگرد تنہائی رہ جاتی ہے۔

یہ عزت نہیں، مفاد ہے۔

حقیقی عزت وہ ہے جو انسان کے مال، عہدے اور منصب کے ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

(آلِ عمران: 26)

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس نہ دولت ہوتی ہے، نہ کوئی بڑا منصب، لیکن ان کے اخلاق، کردار اور تقویٰ ایسے خوبصورت ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت کرتے ہیں، ان سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، اور ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔

یہ حقیقی عزت ہے۔

اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین کی وجہ سے عزت عطا فرمائی ہوتی ہے۔ نہ وہ مالدار ہوتے ہیں، نہ صاحبِ اقتدار، لیکن لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے احترام ہوتا ہے۔

اس لیے ہمیں ایسی عزت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے جو مال اور منصب کے ساتھ آئے اور ان کے جاتے ہی ختم ہو جائے۔

ہمیں اللہ تعالیٰ سے وہ حقیقی عزت مانگنی چاہیے جو انسان کے کردار، اخلاق، تقویٰ اور اللہ سے تعلق کی وجہ سے ملے۔

کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کے سامنے کتنی تعریفیں کرتے ہیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی لوگ آپ کا ذکر عزت سے کریں۔

یا اللہ! ہمیں ایسی عزت عطا فرما جو تیرے ہاں بھی مقبول ہو اور تیرے بندوں کے دلوں میں بھی ہمارے لیے محبت، احترام اور خیر پیدا کرے۔ آمین۔

تحریر 81

تبلیغی جماعت — آرام نہیں، قربانی اور دعوت کی تحریک

تبلیغ والوں کو یہ طعنہ دینا تو بہت آسان ہے کہ یہ بستر اٹھا کر نکل جاتے ہیں، گھر بار چھوڑ دیتے ہیں، کاروبار چھوڑ دیتے ہیں، آخر کیوں؟

لیکن کبھی اس درد کو بھی محسوس کرو کہ اپنی بیوی بچوں کو چھوڑنا، اپنا مال لگانا، اپنا کاروبار اور آرام چھوڑنا، اپنے گھر سے دور نکلنا اور اللہ کے نبی ﷺ کی محبت میں دین کی دعوت کا غم دل میں لے کر نکلنا کتنا آسان ہے؟

یہ لوگ نرم بستروں کو چھوڑ کر نکلتے ہیں۔ کبھی سخت سردی والے علاقوں میں تشکیل ہوتی ہے، کبھی پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں میں جانا پڑتا ہے، کبھی ایسے مقامات پر قیام کرنا پڑتا ہے جہاں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔

پھر گھر گھر جا کر دروازے پر دستک دینا اور کہنا:

بھائی! آؤ اللہ کی طرف آؤ، آؤ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف آؤ، اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق بنانے کی فکر کرو۔

یہ کوئی آسان کام نہیں۔

کبھی کوئی دروازہ منہ پر بند کر دیتا ہے، کبھی کوئی سخت جملہ بول کر واپس بھیج دیتا ہے، کبھی طنزیہ باتیں سننی پڑتی ہیں، کبھی اپنے ہی لوگ طعنے دیتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی اگلے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔

کیونکہ یہ تحریک آرام کی نہیں، قربانی کی تحریک ہے۔

ایک فرد کی غلطی، پوری جماعت کا پیغام غلط نہیں کر دیتی

ایک بات ہمیں ضرور سمجھنی چاہیے۔

اگر آپ کسی تبلیغی ساتھی کو کسی غلط کام میں ملوث دیکھیں، اس کے کسی معاملے میں غلطی دیکھیں یا اس کا کوئی عمل درست نہ ہو تو اس ایک فرد کے عمل کی بنیاد پر پوری جماعت اور اس کے پیغام کو غلط قرار دینا درست نہیں۔

کسی مسلمان کا غلط راستے پر چل پڑنا اسلام کے غلط ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔ اسی طرح کسی ایک فرد کی کوتاہی یا غلطی کی بنیاد پر پوری تبلیغی جماعت کی محنت اور دعوت کے بارے میں منفی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

دین کو افراد کے اعمال سے نہیں، قرآن و سنت کی تعلیمات سے سمجھا جاتا ہے۔

تبلیغ کا بنیادی پیغام تو بالکل واضح ہے: اللہ کی طرف بلانا، نماز کی فکر، سنت کی پیروی، ایمان کی مضبوطی، آخرت کی فکر، حسنِ اخلاق اور اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی دعوت۔

اور تبلیغی جماعت کے بزرگوں کی طرف سے بھی تربیت میں معاملات کی درستگی، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عاجزی، اخلاق اور اپنی اصلاح پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

لہٰذا کسی فرد کی کمزوری کو دیکھ کر دعوت کے اصل پیغام کو رد کر دینا انصاف نہیں۔

پُرفتن دور میں تبلیغ ایک شمع ہے

آج کے اس پُرفتن دور میں، جب دنیا کی چمک دمک نے انسان کو اس کی زندگی کے اصل مقصد سے غافل کر دیا ہے، تبلیغی جماعت اس اندھیرے میں ایک شمع کی مانند ہے۔

ایک ایسی شمع جو لوگوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہم اس دنیا میں صرف کھانے، پینے، کمانے، مال جمع کرنے، چیزیں خریدنے اور ایک دن مر جانے کے لیے نہیں آئے۔

ہماری زندگی کا ایک مقصد ہے، ایک وژن ہے۔

ہمیں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں پر زندگی گزارنی ہے، قرآن کے احکامات پر چلنا ہے، نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق پوری دنیا میں دین کی دعوت پہنچانی ہے۔

یہ ایمان جگانے کی تحریک ہے، ایمان کو بیدار کرنے کی تحریک ہے، اپنے اندر بھی ایمان کی فکر پیدا کرنے اور دوسروں کے دلوں میں بھی ایمان کی فکر پیدا کرنے کی تحریک ہے۔

تبلیغ کا کام — قرآنی دلائل سے

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

ترجمہ:

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

(آل عمران: 104)

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾

ترجمہ:

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

(آل عمران: 110)

اور پھر قرآن کی وہ آیت،

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾

ترجمہ:

اور اس شخص سے بڑھ کر کس کی بات اچھی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

(فصلت: 33)

تبلیغی جماعت کی محنت میں ختمِ نبوت کا پیغام بھی بار بار دہرایا جاتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب قیامت تک دین کا کام کرنا اور دین کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانا امتِ محمدیہ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔

لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ تبلیغ والے سب کچھ چھوڑ کر کیوں نکل جاتے ہیں؟

انہیں سمجھنا چاہیے کہ تحریک قربانی مانگتی ہے۔

دنیا کے کاروبار کے لیے انسان وقت نکالتا ہے، مال لگاتا ہے، آرام چھوڑتا ہے، سفر کرتا ہے؛ تو پھر اللہ کے دین، ایمان کی بیداری اور انسانیت کی اصلاح کے لیے کچھ وقت نکالنا کیوں مشکل ہو؟

تبلیغی جماعت کا مجھ پر بھی ایک احسان ہے

میرے لیے بھی تبلیغ والوں کی اس محنت کا ایک بہت بڑا احسان ہے کہ اس محنت نے میرے اندر یہ وژن اور سوچ پیدا کی کہ ہم اس دنیا میں صرف جینے، کھانے، پینے، کمانے اور مر جانے کے لیے نہیں آئے۔

ہمیں اللہ کے لیے جینا ہے، انسانیت کے لیے جینا ہے، امت کے لیے جینا ہے، سنتِ رسول ﷺ کے مطابق زندگی گزارنی ہے اور ختمِ نبوت کے پیغام کی فکر کرنی ہے۔

اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی محنتوں کو قبول فرمائے جو اپنا وقت، مال، آرام اور صلاحیتیں دین کی دعوت کے لیے لگا رہے ہیں، ان کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرمائے، ان کے قدموں کو استقامت عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 82

اسلامی بینکنگ اور قرض: ایک اہم واقعہ اور غور طلب سوال

اسلامک بینکنگ کے حوالے سے ایک واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔

ہمارے ایک بہت اچھے دوست پاکستان کے ایک بہت بڑے کاروباری گروپ کے (CFO) ہیں۔ اس گروپ کو ایک بہت بڑی رقم کی ضرورت تھی اور مینجمنٹ کی واضح ہدایت تھی کہ یہ فنانسنگ صرف کسی اسلامی بینک سے حاصل کی جائے۔

رقم بہت بڑی تھی، اس لیے بینک کو بھی اس معاملے میں ایک بہت بڑی رقم منافع کی صورت میں حاصل ہونا تھی۔ مزید یہ کہ گروپ کی مارکیٹ میں اچھی ساکھ تھی اور بینک کے لیے یہ ایک انتہائی مضبوط اور قابلِ اعتماد کلائنٹ تھا۔

وہ صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ ایک اسلامی بینک کے پاس گئے اور کہا:

ہمیں فنانسنگ چاہیے، لیکن اس کی تمام ٹرمز اینڈ کنڈیشنز ہم طے کریں گے۔ آپ نے صرف اسے اسلامی طریقے کے مطابق اسٹرکچر کرنا ہے۔

بینک نے کہا:

ہم یہ معاملہ اپنے شریعہ بورڈ کے سامنے رکھیں گے، اگر شریعہ بورڈ نے اجازت دی تو ہی ہم آگے بڑھیں گے۔

معاملہ شریعہ بورڈ کے سامنے گیا۔

شریعہ بورڈ نے ان ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کو شرعی اصولوں کے خلاف قرار دیا اور بینک کو واضح طور پر منع کر دیا کہ ان شرائط پر فنانسنگ نہیں دی جا سکتی۔

یہاں میرے نزدیک اس بینک کی تعریف ہونی چاہیے۔

کیونکہ ایک طرف بہت بڑی رقم کا کاروبار تھا، بہت بڑا منافع متوقع تھا، سامنے ایک بڑا اور معتبر گروپ تھا؛ لیکن اس کے باوجود بینک نے اپنے شریعہ بورڈ کے فیصلے کو ترجیح دی اور وہ فنانسنگ دینے سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد وہی صاحب دوسرے اسلامی بینک کے پاس گئے۔

وہاں بھی انہوں نے بالکل وہی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پیش کیں اور کہا کہ ہمیں انہی شرائط پر فنانسنگ چاہیے۔

دوسرے بینک نے بھی کہا:

ہم اسے اپنے شریعہ بورڈ کے سامنے رکھتے ہیں۔

معاملہ شریعہ بورڈ کے پاس گیا اور حیرت انگیز طور پر اسی نوعیت کی شرائط کو وہاں سے منظوری مل گئی اور بینک نے ان شرائط پر فنانسنگ فراہم کر دی۔

اب اس واقعے پر میں اسلامی بینکنگ کی ٹیکنیکل تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔

اس موضوع پر علماءِ کرام نے تفصیل سے گفتگو کی ہے، مختلف آراء موجود ہیں اور ہر شخص کو اس معاملے میں اپنے معتبر علماء سے رہنمائی لینی چاہیے۔

میری بات صرف ایک ذاتی مشورہ ہے۔

میری رائے میں انسان کو حتی الامکان اپنے آپ کو قرض اور بینک کے قرضی معاملات سے محفوظ رکھنا چاہیے۔

اسلامی بینک سے بھی، حتی الامکان قرض لینے سے بچیں۔

اسی طرح سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر بینک کی طرف سے ملنے والے منافع کے معاملے میں بھی احتیاط کریں

البتہ آج کے دور میں بینکنگ چینلز سے مکمل طور پر الگ رہنا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔

کاروبار میں (LC)، ادائیگیوں، رقم کی منتقلی اور دیگر معاملات کے لیے بینکنگ سسٹم استعمال کرنا بعض اوقات ناگزیر ہو جاتا ہے۔

ایسی مجبوری کی صورت میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ:

جہاں ضرورت ہو، صرف ضرورت کے مطابق اسلامی بینکنگ کے ذریعے بینکنگ چینلز استعمال کیے جائیں، لیکن غیر ضروری طور پر قرض لینے اور بینک میں رقم رکھ کر منافع حاصل کرنے سے حتی الامکان بچا جائے۔

میرا مقصد کسی خاص بینک، کسی شریعہ بورڈ یا اسلامی بینکنگ کے پورے نظام پر فیصلہ دینا نہیں ہے۔

میرا مقصد صرف ایک سوال سامنے رکھنا ہے:

اگر ایک ہی معاملے کو ایک شریعہ بورڈ خلافِ شریعت قرار دے اور دوسرا اسی معاملے کو جائز قرار دے دے، تو ایک عام آدمی اس معاملے میں کیا کرے؟

اسی لیے میرا مشورہ یہی ہے:

اپنے آپ کو بینک کے معاملات سے جہاں تک ممکن ہو محفوظ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حلال کو حلال سمجھنے، حرام سے بچنے اور مشتبہ معاملات سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تحریر 83

زکوٰۃ و صدقہ — تحقیق کے بعد دیں

ایک معروف مذہبی شخصیت بیرونِ ملک فائیو اسٹار ہوٹل کے کانفرنس ہال میں تشریف لاتی ہے، جہاں خوشحال پاکستانی و بھارتی مسلمان بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

خطاب میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سادگی، عدل اور قناعت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایثار، صبر اور دنیا سے بے رغبتی کے واقعات سنائے جاتے ہیں، اور سامعین کو زہد، تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی کی تلقین کی جاتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر فائیو اسٹار بوفے میں انواع و اقسام کے کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے، پھر واپسی پر مہنگی لگژری گاڑی میں سوار ہو کر بیرونِ ملک واقع اپنے ذاتی پُرتعیش محل نما گھر کی طرف روانگی ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف اکثر پاکستانی اور بھارتی مسلمان اپنی زکوٰۃ، خیرات اور چندہ آنکھیں بند کرکے کسی پیر صاحب، مولانا صاحب یا مذہبی ادارے کے حوالے کر دیتے ہیں۔ نہ یہ پوچھتے ہیں کہ رقم کہاں خرچ ہوگی، نہ اس کا حساب مانگتے ہیں، اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ واقعی مستحقین تک پہنچ رہی ہے یا نہیں۔

یاد رکھیں، آپ کے رشتہ دار، پڑوسی، یتیم، بیوائیں، سفید پوش خاندان اور دیگر مستحقین آپ کی زکوٰۃ اور صدقات کے زیادہ حق دار ہو سکتے ہیں۔ ان کی خبر لیجیے، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیے، اور اپنی خیرات وہاں پہنچائیے جہاں واقعی ضرورت ہو۔

چندہ صرف جذبات میں آکر نہیں، بلکہ تحقیق کے بعد دیجیے۔ کیونکہ قیامت کے دن آپ سے آپ کے مال کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

تحریر 84

زکوٰۃ، خیرات اور چندہ دینے والے سیٹھ حضرات کے لیے تنبیہ

زکوٰۃ، خیرات اور چندہ… سیٹھ حضرات کے لیے ایک یاد دہانی

چندہ اکٹھا کرنے والے کئی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے پاس:

- مہنگی گاڑیاں
- مفت پٹرول
- مفت رہائش
- اعلیٰ ہوٹلوں میں کھانے
- اندرون و بیرون ملک مفت ٹور
- مفت حج و عمرے
- اور اہلِ خانہ کے مفت علاج کی سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔

جبکہ اکثر چندہ دینے والے لوگ وہ ہوتے ہیں:

- جن کے پاس ذاتی موٹر سائیکل تک نہیں
- جو ماہانہ مشکل سے گزارا کرتے ہیں
- اور جنہیں شاید خود بھی کسی مدد کی ضرورت ہو

یاد رکھیں! زکوٰۃ، خیرات اور عطیات کا اصل مصرف وہ لوگ ہیں جو واقعی مستحق ہیں —

خصوصاً آپ کے قریبی رشتہ دار، آپ کے ملازمین، اور محلے کے سفید پوش افراد۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سب سے زیادہ حق دار وہ ہوتے ہیں جو آپ کے ماتحت کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں، لیکن اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

سیٹھ حضرات!

رمضان میں نہیں، پورے سال اپنے ملازمین، قریبی مستحقین، اور رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔

اللہ نے آپ کو وسعت دی ہے، تو اس میں دوسروں کا حصہ بھی ادا کریں۔

تحریر 85

علاج، ڈاکٹر اور مریض: صحت تجارت نہیں، ذمہ داری ہے

آج کے علاج کا منظر بھی عجیب ہو چکا ہے۔ جو ڈاکٹر ذرا سا مشہور ہو جائے، اس کے کلینک کے باہر انسانوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ اپوائنٹمنٹ ہونے کے باوجود گھنٹوں ویٹنگ ایریا میں بیٹھے رہو۔ مریض اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے آدھا بیمار تو ویسے ہی ہو جاتا ہے۔

پھر جب اندر جانے کی اجازت ملتی ہے تو ڈیڑھ دو منٹ میں بات ختم۔ نہ تفصیل سے حال پوچھا جاتا ہے، نہ زندگی کے معمولات پر گفتگو۔ بس ایک پرچی ہاتھ میں — “یہ صبح، یہ شام” — اور اگلا مریض اندر۔ جیسے انسان نہیں، ٹوکن نمبر ہو۔

اور ستم یہ کہ ادویات کا معاملہ بھی صاف شفاف نظر نہیں آتا۔ مخصوص کمپنیوں کی دوائیں ہی اکثر نسخے میں لکھی جاتی ہیں۔ حالانکہ انہی ادویات کا سستا متبادل مارکیٹ میں موجود ہوتا ہے، مگر لکھا وہی جاتا ہے جس پر کمیشن زیادہ ہو۔ مریض کی جیب خالی ہوتی ہے اور کوئی اور خوشحال۔

پھر یہ عجیب اتفاق بھی عام ہے کہ جو دوا لکھی گئی ہے وہ “ہر جگہ نہیں ملتی”، صرف اسی کلینک میں یا ساتھ والے مخصوص میڈیکل اسٹور پر دستیاب ہوتی ہے۔ مریض شہر بھر میں ڈھونڈتا پھرے، مگر دوا جیسے کسی خاص راستے کی پابند ہو۔

یقیناً سب ڈاکٹر ایسے نہیں۔ آج بھی دیانتدار اور مخلص معالج موجود ہیں جو خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ مگر جب نظام ہی ایسا بن جائے کہ وقت کم اور کمیشن زیادہ اہم ہو جائے، تو سوال اٹھانا فرض بنتا ہے۔

صحت تجارت نہیں، مریض گاہک نہیں، ذمہ داری ہے۔ اگر علاج سے زیادہ کاروبار نمایاں ہونے لگے تو پھر اصلاح کی آواز اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے۔

تحریر 86

لوگ ہمارے پاس نہیں آ رہے تو ہم ان کے پاس کیوں نہیں جا رہے؟

دین کا کام کرنے والی تمام دینی تنظیموں، اداروں اور مدارس سے خصوصی گزارش ہے کہ آپ حضرات اپنے اپنے طریقے اور اپنی اپنی ترتیب کے مطابق بہترین کام کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے اور ان میں برکت عطا فرمائے۔

لیکن موجودہ حالات میں شاید ہمیں دعوتِ دین کے ایک اور پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اکثر دینی اداروں کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے مدارس، سیمینارز، اجتماعات اور دینی پروگراموں میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یقیناً یہ بھی دین کی ایک خوبصورت خدمت ہے، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان پروگراموں میں عموماً وہی لوگ آتے ہیں جن کے دل میں پہلے ہی دین کی کچھ طلب موجود ہوتی ہے۔

جس کے اندر دین کی شمع جل رہی ہو، وہی دینی مجلس میں آنے کی کوشش کرے گا، مدرسے کا رخ کرے گا، سیمینار میں شرکت کرے گا اور علماء کی بات سننے میں دلچسپی لے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ:

جو دین سے دور ہے، جس کے دل میں دین کی طلب ہی پیدا نہیں ہوئی، ہم اسے دین کے قریب کیسے لائیں؟

یہ وہ میدان ہے جہاں آج پہلے سے کہیں زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

خصوصاً ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مخلوط تعلیمی نظام، بے حیائی، بے راہ روی، مادہ پرستی، دین سے دوری اور حتیٰ کہ الحاد (Atheism) جیسے نظریات بھی نوجوانوں میں پھیلتے جا رہے ہیں۔

میرا کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک تعلق رہتا ہے، اس لیے میں ان کے ماحول کو قریب سے دیکھتا ہوں اور حقیقتاً اس صورتِ حال کے بارے میں بہت فکر مند ہوں۔

آج ہمارے طلبہ جن کتابوں کو پڑھتے ہیں، جن مصنفین کو سنتے ہیں، جن لوگوں سے سیکھتے ہیں اور جن نظریات کو یونیورسٹی کے ماحول میں دیکھتے ہیں، ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اسلامی تصورِ زندگی کے قائل نہیں۔

وہ نوجوانوں کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب کیسے ہونا ہے، کیریئر کیسے بنانا ہے، دولت کیسے حاصل کرنی ہے، زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق کیسے گزارنا ہے؛

لیکن زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انسان اس دنیا میں کیوں آیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اللہ سے ہمارا تعلق کیا ہونا چاہیے؟

ان بنیادی سوالات کے جواب کون دے گا؟

یہ ذمہ داری ہماری ہے۔

اسی لیے اب دینی تنظیموں اور اداروں کو دعوت کے ایک نئے میدان کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

ہم صرف یہ انتظار نہ کریں کہ یونیورسٹی کا طالب علم خود ہمارے مدرسے میں آئے گا، خود ہمارے سیمینار میں شرکت کرے گا اور خود دین سیکھنے کی طلب لے کر ہمارے پاس پہنچے گا۔

ہمیں خود ان کے پاس جانا ہوگا۔

ہمیں یونیورسٹیوں اور کالجز میں جا کر سیمینارز کرنے ہوں گے۔

نوجوانوں کی زبان اور ان کے ذہنی سوالات کو سمجھ کر ان سے گفتگو کرنی ہوگی۔

ان کے سوالات سننے ہوں گے۔

ان کے شکوک و شبہات کا جواب دینا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر، ان کے اندر دین کی طلب پیدا کرنی ہوگی۔

یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، اجازت لی جائے، علمی اور فکری سیمینارز منعقد کیے جائیں، ایسے موضوعات پر گفتگو کی جائے جو آج کے نوجوان کے ذہن میں ہیں۔

ایسے موضوعات جن کے ذریعے ایک نوجوان سوچنے پر مجبور ہو۔

ہمیں اسے فوراً یہ نہیں کہنا کہ تم ہمارے اجتماع میں آؤ۔

بلکہ پہلے اس کے دل میں یہ سوال پیدا کرنا ہوگا کہ:

واقعی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

جب سوال پیدا ہوگا تو جواب کی طلب پیدا ہوگی، اور جب جواب کی طلب پیدا ہوگی تو وہ خود دین کے قریب آنے لگے گا۔

تبلیغی جماعت کی محنت بھی اپنی جگہ ایک بہت خوبصورت اور عظیم محنت ہے۔ ان کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کے ثمرات پوری دنیا میں نظر آ رہے ہیں۔ ان کا روایتی طریقۂ دعوت اپنی جگہ جاری رہنا چاہیے اور اس کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کے لیے جدید اندازِ دعوت کو بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی کے نوجوان کو یونیورسٹی کے ماحول میں جا کر دین سے متعارف کروانا ہوگا۔

جو نوجوان مسجد میں نہیں آ رہا، اس تک مسجد کا پیغام پہنچانا ہوگا۔

جو مدرسے میں نہیں آ رہا، اس کے کالج اور یونیورسٹی تک جانا ہوگا۔

جو دینی کتاب نہیں پڑھ رہا، اس سے اس کی زبان اور اس کے سوالات میں گفتگو کرنی ہوگی۔

دعوت صرف ان لوگوں کو نہیں دینی جن کے اندر پہلے ہی طلب موجود ہے؛ اصل کمال تو یہ ہے کہ بے طلب دل میں دین کی طلب پیدا کردی جائے۔

ہم اپنے مدارس اور دینی اجتماعات میں آنے والے دیندار مجمع کو مزید دین سکھاتے رہیں، یہ بھی ضروری ہے۔

لیکن ساتھ ہی ہمیں ان لوگوں کی بھی فکر کرنی ہوگی جو ہمارے پاس آ ہی نہیں رہے۔

کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کسی ایک نوجوان کے دل میں دین کی شمع روشن کرنا، کسی ایک خاندان کی نسلوں کو بدل دے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف یہ نہ سوچیں:

لوگ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے؟

بلکہ یہ سوچیں:

ہم ان تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟

ہمیں اپنے دائرۂ کار سے باہر نکلنا ہوگا۔

ہمیں نئی نسل کے درمیان جانا ہوگا۔

ہمیں ان کے سوالات سننے ہوں گے۔

ہمیں ان کے دلوں تک پہنچنا ہوگا۔

اور ہمیں ان کے اندر اللہ کی معرفت، دین کی محبت اور آخرت کی فکر پیدا کرنی ہوگی۔

کیونکہ دین کی دعوت کا سب سے بڑا میدان وہ نہیں جہاں پہلے ہی طلب موجود ہو؛

بلکہ وہ میدان ہے جہاں طلب پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

آئیے، مدارس اور مساجد کے دروازے کھلے رکھنے کے ساتھ ساتھ، کالجز اور یونیورسٹیز کے دروازوں تک بھی دین کا پیغام لے کر جائیں۔

وہ ہمارے پاس نہیں آ رہے تو ہم ان کے پاس چل کر جائیں۔

تحریر 87

لبرلزم سے ایتھزم تک: دین سے دوری کا ایک خطرناک سفر

لبرلزم سے ایتھزم کا سفر — شیطان کی ایک بڑی چال

شیطان کی سب سے بڑی چالوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک دم گمراہی کی آخری منزل تک نہیں لے جاتا، بلکہ اسے آہستہ آہستہ قدم بہ قدم دین سے دور کرتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

وہ ایک مسلمان کے دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ:

وقت کے ساتھ خود کو بدلنا چاہیے، ماڈرن ہونا چاہیے، اوپن مائنڈڈ ہونا چاہیے۔

پھر ماڈرنائزیشن اور روشن خیالی کے نام پر انسان آہستہ آہستہ اسلامی شعائر کو چھوڑنا شروع کرتا ہے، اسلامی لباس اسے پرانا لگنے لگتا ہے، اسلامی اخلاق و کردار اسے سخت محسوس ہونے لگتے ہیں، اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا اسے دقیانوسی نظر آنے لگتا ہے۔

وہ سمجھتا ہے کہ یہ ترقی ہے، یہ آزادی ہے، یہ روشن خیالی ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل روشن خیالی وہ نور ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت اور تعلیمات سے ملتا ہے۔

جو راستہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور لے جائے، وہ بظاہر کتنا ہی جدید، روشن اور خوبصورت کیوں نہ دکھائی دے، حقیقت میں وہ انسان کو اندھیرے کی طرف لے جا رہا ہوتا ہے۔

پھر انسان خود کو لبرل کہنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ یہ ٹیگ اسے معاشرے میں زیادہ جدید، زیادہ ذہین اور زیادہ "کول" ثابت کرے گا۔ وہ دینی اقدار کو اپنی شخصیت سے نکالتا جاتا ہے، اور بدقسمتی سے بعض اوقات دین سے دوری کو ہی اپنی ذہنی آزادی سمجھنے لگتا ہے۔

اس کے بعد ایک اور خطرناک مرحلہ آتا ہے۔

جب انسان اسلامی احکام، اسلامی لباس، اسلامی اخلاق اور اسلامی طرزِ زندگی کو مسلسل چھوڑتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونے لگتا ہے کہ:

آخر اسلام ہے ہی کیا؟

پھر اگر یہ سفر آگے بڑھتا رہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات اور احکامات پر بھی اعتراض شروع کر دیتا ہے، اور بعض لوگ بالآخر اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کا انکار کرکے ایتھزم (Atheism) تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ بات محض ایک نظری بحث نہیں؛ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کے سفر کو دیکھا جا سکتا ہے جو دین سے دوری کا آغاز معمولی سی بے اعتنائی سے کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ دین کے بنیادی عقائد تک پہنچ کر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔

یاد رکھیں!

شیطان انسان کو ہمیشہ ایک ہی قدم میں نہیں گراتا، وہ اسے قدم بہ قدم پھسلانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس لیے اپنے ہر قدم پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم جس راستے کو "ترقی"، "آزادی" اور "روشن خیالی" سمجھ رہے ہیں، کیا وہ واقعی ہمیں اللہ کے قریب لے جا رہا ہے یا اس سے دور؟

ہمیں دنیا کی ہر اچھی چیز، علم، ٹیکنالوجی اور ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن اپنی ایمانی شناخت، اسلامی کردار، حیا، اخلاق اور سنتِ نبوی ﷺ کی قیمت پر نہیں۔

اصل روشن خیالی اسلام ہے۔

اصل کامیابی اللہ کی اطاعت ہے۔

اصل آزادی نفس اور شیطان کی غلامی سے آزادی ہے۔

اور اصل راستہ وہی ہے جو محمد مصطفیٰ ﷺ نے دکھایا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر اس راستے سے محفوظ فرمائے جو ہمیں اپنے رب سے دور کرے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر چلنے والا بنائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 88

کامیابی کا اصل راستہ: علماء، قرآن و سنت اور دنیا و آخرت کا توازن

آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب معیار قائم ہو چکا ہے۔

اگر کسی کے پاس دولت ہو، وہ مہنگی گاڑی میں سفر کرتا ہو، اچھی انگریزی بول لیتا ہو، جدید لباس پہنتا ہو اور معاشرے کے ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتا ہو، تو اکثر وہ خود کو کامیاب اور دوسروں سے زیادہ سمجھدار تصور کرنے لگتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ علماء، مشائخ اور مدارس کو فرسودہ نظام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علماء کی باتیں صرف ماضی کی کہانیاں ہیں، جبکہ کامیابی صرف جدید دنیا کے بنائے ہوئے اصولوں میں ہے۔

لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ علماء آخر ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

کیا وہ اپنی ذاتی آراء پیش کرتے ہیں؟

ہرگز نہیں۔

علماء ہمیں اس اللہ کا کلام سناتے ہیں جس نے اس پوری کائنات کو پیدا فرمایا، جو انسان کے ظاہر و باطن، ماضی و مستقبل اور دنیا و آخرت کو ہم سب سے بہتر جانتا ہے۔ وہ ہمیں قرآن کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی کس میں ہے۔

اور جب وہ احادیثِ نبوی ﷺ بیان کرتے ہیں تو وہ کسی عام انسان کی بات نہیں، بلکہ اس عظیم ہستی کی تعلیمات پہنچا رہے ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین ﷺ اور تمام انبیاء کے امام بنا کر بھیجا۔ جن کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا۔

کیا اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ غلط ہو سکتا ہے؟

کیا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات انسان کو ناکامی کی طرف لے جا سکتی ہیں؟

یقیناً نہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔ لیکن اسلام صرف آخرت کی کامیابی کی بات نہیں کرتا، بلکہ دنیا کی عزت، سکون، برکت، بہترین کاروبار، مضبوط خاندان، اعلیٰ کردار اور حقیقی کامیابی بھی قرآن و سنت پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ تھوڑا سا مال، چند انگریزی جملے اور جدید طرزِ زندگی اختیار کرکے خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں، اور قرآن و حدیث کی تعلیمات یا علماء کی رہنمائی کو پرانا اور غیر متعلقہ قرار دیتے ہیں۔

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

جب یہی ایلیٹ طبقہ تعصب چھوڑ کر علماء کی صحبت میں بیٹھتا ہے، دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور قرآن و سنت کو کھلے دل سے سنتا ہے، تو اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ علماء دنیا سے دور کرنے نہیں آئے، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ دکھانے آئے ہیں۔

اس کی ایک روشن مثال حضرت مولانا عبد الستار صاحب ہیں۔ تلہ گنگ کے ایک سادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس عالمِ دین نے کراچی کے ڈیفنس جیسے علاقے میں ہزاروں نوجوانوں، کاروباری شخصیات اور معاشرے کے بااثر افراد کی زندگیاں بدل دیں۔ ان کے قائم کردہ ادارے بیت السلام میں طلبہ صرف دینی علوم ہی حاصل نہیں کرتے بلکہ O Level، A Level، سائنس، روبوٹکس، کھیل اور دیگر میدانوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ وہاں سے نکلنے والے نوجوان دین اور دنیا دونوں میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

اسی طرح مولانا شاہزیب صاحب، جو LUMS سے فارغ التحصیل ہیں، Hikmah Institute کے ذریعے پروفیشنلز، کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ افراد، O Level اور A Level کے طلبہ اور معاشرے کے ایلیٹ طبقے تک قرآن و سنت کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ ان کی محنت سے بے شمار نوجوانوں کی سوچ اور زندگیاں بدل چکی ہیں۔ وہ اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دین اختیار کرنا دنیا کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزارنا ہے۔

اسی طرح مولانا اظہر اقبال صاحب، جو Hidayah Academy کے ذریعے پروفیشنلز، یونیورسٹی کے طلبہ، O Level اور A Level کے نوجوانوں کی تربیت کر رہے ہیں، اس حقیقت کی ایک اور روشن مثال ہیں کہ علماء معاشرے کو پیچھے نہیں لے جاتے بلکہ صحیح سمت عطا کرتے ہیں۔ ان کی صحبت میں آنے والے بے شمار افراد نے نہ صرف دین کو سمجھا بلکہ اپنی دنیاوی زندگی، کاروبار، کردار اور خاندانی معاملات میں بھی مثبت تبدیلی محسوس کی۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ علماء انسان کو دنیا سے کاٹنے نہیں آتے، بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا راستہ دکھاتے ہیں۔

لہٰذا اگر ہم واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں علماء کے بارے میں سنی سنائی باتوں پر رائے قائم کرنے کے بجائے ان کی مجالس میں بیٹھنا چاہیے، ان کے اداروں کا دورہ کرنا چاہیے، ان سے سوال کرنے چاہئیں اور یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ایک حقیقی عالمِ دین کون ہوتا ہے۔

ممکن ہے پھر ہمیں احساس ہو جائے کہ جنہیں ہم فرسودہ سمجھ رہے تھے، درحقیقت وہی ہمیں اس راستے کی طرف بلا رہے ہیں جس میں دنیا کی عزت بھی ہے، سکون بھی، کامیابی بھی، اور ہمیشہ ہمیشہ کی آخرت بھی۔

تحریر 89

اتحادِ امت اور قومیت و تعصب کی نفی

آج کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان، جو ایک کلمے پر جمع ہیں، وہی مسلمان قومیت، سرحدوں اور زبانوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آتے ہیں۔ کبھی افغانی مسلمان پاکستانی مسلمانوں کے خلاف بات کرتے ہیں، کبھی پاکستانی مسلمان افغانیوں کے خلاف، کبھی ہندوستانی مسلمان پاکستانی مسلمانوں پر تنقید کرتے ہیں، اور کبھی ہم خود مختلف قومیتوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے لگتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ وہی امت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے “امتِ واحدہ” بنایا تھا؟

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ

(الحجرات: 10)

بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

اللہ نے ہمیں قومیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد پر جوڑا ہے۔ ہمارا رشتہ رنگ، نسل، زبان یا سرحد سے نہیں بلکہ کلمۂ طیبہ سے جڑا ہوا ہے۔ ہمارا رب ایک، ہماری کتاب ایک، ہمارے نبی ﷺ ایک — پھر ہم تقسیم کیوں؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

عصبیت (نسلی و قومی تعصب) کی دعوت دینے والا ہم میں سے نہیں۔

(سنن ابی داود: 5121)

یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ قومیت یا نسل کی بنیاد پر برتری جتانا، دوسروں کو کمتر سمجھنا یا امت میں تفرقہ ڈالنا اسلامی مزاج نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ عناصر اپنے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے مسلمانوں کو قومیت کے نام پر تقسیم کرتے ہیں۔ ہمیں لڑایا جاتا ہے، ہمارے جذبات بھڑکائے جاتے ہیں، اور ہم انجانے میں اپنے ہی بھائی کے خلاف نفرت پال لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دشمن مضبوط ہوتا ہے اور امت کمزور۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سرحدیں جغرافیہ بناتی ہیں، لیکن امت ایمان بناتا ہے۔

جب تک ہم قومیت کے خول سے باہر نکل کر “امت” کی سوچ نہیں اپنائیں گے، تب تک ہمارا اتحاد خواب ہی رہے گا۔ ہمیں سوشل میڈیا ہو یا عملی زندگی، ہر جگہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری زبان سے ایسا کوئی جملہ نہ نکلے جو امت میں دراڑ ڈالے۔

ہم نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں، اور نبی ﷺ نے مدینہ میں مہاجر اور انصار کو بھائی بنایا تھا — نہ کہ ان کی قومیت کو بنیاد بنا کر الگ الگ رکھا تھا۔ ہمیں بھی اسی سنت کو زندہ کرنا ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم قومیت نہیں، اُمت کی بنیاد پر سوچیں گے۔

ہم نفرت نہیں، محبت کو فروغ دیں گے۔

ہم تقسیم نہیں، اتحاد کی بات کریں گے۔

کیونکہ ہماری اصل شناخت یہی ہے:

ہم مسلمان ہیں — اور ہم ایک امت ہیں۔

تحریر 90

فتنوں کا دور: حق و باطل کی گڈمڈ میں مسلمان کا رویّہ کیا ہو؟

آج ہر طرف جنگوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ یہ واقعی ایک عجیب اور کٹھن دور ہے — شدید فتنوں کا دور۔

فتنہ اسے کہتے ہیں کہ حق اور باطل اس قدر گڈمڈ ہو جائیں کہ پہچان مشکل ہو جائے؛ انسان حیران کھڑا ہو کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا، کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ بعض مقامات پر معاملہ واضح ہوتا ہے، ظلم اور عدل کا فرق کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن بعض جگہ صورت حال اس قدر پیچیدہ ہو جاتی ہے کہ مسلمان خود آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں، اور یہ سمجھنا بھی آسان نہیں رہتا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔

ایسے نازک حالات میں ہمارا اصل سہارا کیا ہونا چاہیے؟

نہ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری، نہ جذباتی تبصرے، نہ غیر مصدقہ خبریں۔ بلکہ ہمیں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے۔

ہمیں اللہ سے عافیت مانگنی ہے۔

ہمیں مسلمانوں کی سربلندی کی دعا کرنی ہے۔

ہمیں اسلام کی عزت و رفعت کی دعا کرنی ہے۔

ہمیں حق کی فتح اور باطل کی نیست و نابودی کی دعا کرنی ہے۔

اور سب سے اہم بات — کوئی خبر ایسی آگے نہ بڑھائیں جس کی تصدیق نہ ہو۔ ہماری زبان سے ایسا جملہ نہ نکلے جو مسلمانوں کو مزید تقسیم کر دے۔ ایسا تذکرہ نہ کریں جو دلوں میں نفرت بو دے۔ ایسی بات نہ پھیلائیں جو امت کو دست و گریبان کر دے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اتحادِ امت کی بات کریں۔ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اتفاق کی راہیں تلاش کریں۔ لوگوں کو اس طرف بلائیں جس طرف قرآن ہمیں بلاتا ہے —

اگر کسی معاملے میں حق واضح نہ ہو تو جلد بازی نہ کریں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ حق کو ہمارے لیے واضح کر دے۔ اس سے ہدایت طلب کریں، اس سے بصیرت مانگیں، اس سے دلوں کی اصلاح کی التجا کریں۔

یہ وقت جذباتی نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ عاجزی سے جھکنے کا ہے۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، بلکہ استغفار کا ہے۔

یہ وقت تقسیم کا نہیں، بلکہ امت کو جوڑنے کا ہے۔

اللہ ہمیں فتنوں کے اس دور میں ثابت قدم رکھے، ہمیں زبان اور قلم کے غلط استعمال سے بچائے، اور ہمیں حق کا سچا ساتھی بنا دے۔ آمین۔

از قلم

تحریر 91

جب دین کو ذاتی معاملہ بنا دیا جائے — اسلام مکمل نظامِ زندگی ہے

جب دین کو ذاتی معاملہ بنا دیا جائے

آج کی دنیا میں جب لفظ Religion کو ڈکشنری میں تلاش کیا جاتا ہے تو اسے ایک Personal Matter قرار دیا جاتا ہے، یعنی ایسا عقیدہ جو صرف انسان اور اس کے رب کے درمیان عبادات تک محدود ہو۔ موجودہ عالمی تصور کے مطابق مذہب مسجد، چرچ یا مندر تک محدود ہوتا ہے اور ریاست، قانون، معیشت اور سماج سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

لیکن اسلام اس محدود تعریف کو قبول نہیں کرتا۔

اسلام صرف ذاتی عبادات—نماز، روزہ، حج اور عمرہ—تک محدود نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

اسلام ہمیں عبادت ہی نہیں سکھاتا بلکہ:

قانون سکھاتا ہے کہ انصاف کیسے قائم کیا جائے

حکومت سکھاتا ہے کہ اقتدار امانت کیسے بنتا ہے

لین دین سکھاتا ہے کہ دیانت کیا ہوتی ہے

فنانس سکھاتا ہے کہ حلال کمائی کیسے کی جاتی ہے

معاشرت سکھاتا ہے کہ بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت اور کمزوروں کے حقوق کیسے ادا کیے جاتے ہیں

طاقتوروں کو عدل اور کمزوروں کو تحفظ کا درس دیتا ہے

اسلام فرد سے لے کر ریاست تک، گھر سے لے کر بازار تک، مسجد سے لے کر عدالت تک—زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

یہ کوئی پرسنل ریلیجن نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جس میں اللہ ہی سب سے بڑی اتھارٹی ہے اور اسی کے احکامات حتمی ہیں۔

جب انسان اس دین کو صرف عبادت نہیں بلکہ نظام سمجھ کر اپناتا ہے تو زندگی بوجھ نہیں رہتی، اللہ خود اس کے لیے راستے آسان فرما دیتا ہے۔

تحریر 92

کیا امام مہدی آئیں گے؟ — انتظار فرار نہیں، ذمہ داری ہے

کیا امام مہدی آئیں گے؟

ہاں! امام مہدی ضرور آئیں گے۔ یہ عقیدہ اہلِ ایمان کے دلوں میں صدیوں سے زندہ ہے، احادیثِ نبوی ﷺ اس کی خبر دیتی ہیں، اور امتِ مسلمہ کا اجماعی یقین ہے کہ ایک وقت آئے گا جب عدل و انصاف سے بھری ہوئی قیادت ظہور میں آئے گی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس یقین کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں؟

کیا انتظار کا مطلب خاموش تماشائی بن جانا ہے؟

کیا ظلم کو دیکھ کر صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ “جب امام مہدی آئیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا”؟

یہ کون سا حق ہے؟

یہ کون سا انصاف ہے؟

امام مہدی کا انتظار فرار نہیں، ذمہ داری ہے۔

اور ذمہ داری کا تقاضا عمل ہے، بیداری ہے، جدوجہد ہے۔

کب تک امت تقسیم ہوتی رہے گی، ٹوٹتی رہے گی، اور مظلوم بنی رہے گی؟

ہمیں لشکر سے اٹھنا ہوگا —

ہمیں سپہ سالار بننا ہوگا —

مگر نفرت کی قیادت نہیں، عدل، علم اور حق کی قیادت۔

امام مہدی کے منتظر وہی لوگ سچے ہوں گے جو خود مہدوی صفات اپنائیں گے:

ظلم کے خلاف کھڑا ہونا

حق بات کہنے کی جرأت

امت کو جوڑنے کی کوشش

علم، شعور اور اخلاق کی بنیاد پر رہنمائی

اگر ہم خود بیدار نہیں ہوں گے،

اگر ہم خود اصلاح کا علم نہیں اٹھائیں گے،

اگر ہم خود امت کی رہنمائی کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے

تو صرف انتظار ہمیں کہیں نہیں لے جائے گا۔

امام مہدی آئیں گے، ضرور آئیں گے —

خاموش تماشائی نہیں

امت کے سپاہی بنو۔

تحریر 93

سود اور پاکستان: کیا پاکستان آج ایک حقیقی اسلامی ریاست ہے؟

ایک سوال مفتی صاحب سے کیا گیا:

اگر سود پر لین دین اسلام میں حرام ہے تو پھر آپ پاکستان کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

اس کے جواب میں مفتی صاحب نے فرمایا:

میں یہ بات نہیں سمجھ پاتا کہ ہمارے ملک میں بڑی تعداد میں غیر مسلم لوگ زبردستی اسلام کو پاکستان کے ساتھ اور پاکستان کو اسلام کے ساتھ کیوں جوڑ دیتے ہیں۔ ہم اسلام کو پاکستان سے نہیں سیکھتے، ہم اسلام قرآن و حدیث سے سیکھتے ہیں، اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات سے سیکھتے ہیں۔ ہم پاکستان کو اسلامی ملک نہیں سمجھتے۔ اسلامی ملک وہ ہوتا ہے جہاں اسلامی قوانین مکمل طور پر نافذ ہوں

بلکل صحیح فرمایا مفتی شمائل ندوی صاحب، ہم بھی

پاکستان کو اسلامی ملک نہیں مانتے۔

بھارت کے مشہور مفتی شمائل ندوی صاحب نے حال ہی میں ایک سوال کے جواب میں ایک اینکر کو یہ بات بالکل واضح کر دی کہ وہ پاکستان کو اسلامی ملک نہیں مانتے، کیونکہ یہاں اسلامی قانون کا عملی نفاذ موجود نہیں ہے۔

پاکستان آج ایک حقیقی اسلامی ریاست نہیں، کیونکہ یہاں نہ عدل و انصاف کا نظام ہے، نہ شریعت کا عملی غلبہ، اور نہ اسلامی اخلاق اور کردار کی عملی پاسداری۔

جس ملک کا مالیاتی نظام مکمل طور پر سود پر قائم ہو، جہاں سودی کاروبار عام ہوں، جہاں امن و امان نہ ہو، جہاں انصاف ناپید ہو، اور جہاں دین کے تقویٰ اور اخلاقیات کی بجائے ناچ گانے والے فنکاروں کو صدارتی اعزازات اور امتیازی سلوک کے ساتھ نوازا جائے—وہ ملک کیسے اسلامی کہلائے؟ یہ ریاست اسلام کے نام پر نہیں، بلکہ دنیاوی عیش و عشرت کے نام پر قائم ہے۔

ہم خود پاکستان میں رہتے ہیں، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ ہمیں یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ یہاں ایک آزاد مملکت ہوگی جہاں شریعت نافذ ہوگی، مسلمانوں کا نظام قائم ہوگا، اور اسلام کے قافلے پوری دنیا میں پھیلیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے حقیقت یہ ہے کہ یہاں اسلامی نظام کا کہیں آثار نہیں

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ریاست بنایا جائے، ایسی ریاست جس پر امتِ مسلمہ کی نگاہ ہو، جو مظلوم مسلمانوں کے لیے مضبوط کھڑی ہو، اور جس کے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں ہوں۔ پاکستان کا اصل مقصد اور نظریہ یہی ہے، اور اسے اسی راستے پر لانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

تحریر 94

ہمارے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے نام ایک پیغام

مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گہری محبت اور احترام رکھتے ہیں۔ اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ان کی زندگی، ان کے معجزات اور ان کے پیغام کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ مسلمان انہیں ایک عظیم نبی، معجزات دکھانے والے رسول اور اللہ کے نیک بندے کے طور پر مانتے ہیں۔

قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزاتی پیدائش کا تفصیل سے ذکر کرتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ حضرت مریم علیہا السلام سے اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا، اسی طرح اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور جس طرح چاہے پیدا کر سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ پیدائش اللہ کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہے۔

اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے بہت سے معجزات دکھائے۔ انہوں نے بیماروں کو شفا دی، اندھوں کو بینائی عطا کی اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ بھی کیا۔ یہ معجزات ان کی نبوت کی نشانی تھے اور اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلانے آئے تھے۔

قرآن کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام وہی تھا جو تمام انبیاء کا پیغام تھا: یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا اور نیک زندگی گزارنا۔ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح کہا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اللہ کے منتخب رسول تھے جو اپنی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔

تاہم مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور رسول تھے، اللہ خود نہیں تھے اور نہ ہی اللہ کے بیٹے تھے۔ قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک، اولاد یا ہمسر نہیں۔ اللہ کی وحدانیت (توحید) کا یہی پیغام تمام انبیاء نے دیا، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ شامل ہیں۔

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب نہیں دی گئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا۔ مسلمان یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء اور آسمانی کتابیں بھیجیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات دی گئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل عطا کی گئی، اور دیگر انبیاء کو بھی ہدایت دی گئی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بعض لوگوں نے اپنی خواہشات اور مفادات کی وجہ سے ان کتابوں میں تبدیلیاں کر دیں، ان کے معنی بدل دیے یا ان کی تعلیمات کو صحیح طرح محفوظ نہ رکھا۔ اسی عمل کو تحریف کہا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور ان پر قرآن مجید نازل فرمایا۔ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کے اصل پیغام کو دوبارہ واضح کیا جائے اور اسے مکمل شکل میں انسانیت کے سامنے پیش کیا جائے۔

قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حفاظت میں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کتاب میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہو سکے گی اور قیامت تک یہ اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے گی۔ اسی لیے مسلمان قرآن کو اللہ کی آخری، مکمل اور محفوظ ہدایت مانتے ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک حضرت محمد ﷺ اس لیے نہیں آئے کہ پچھلے انبیاء کے اصل پیغام کو بدل دیں، بلکہ وہ اس لیے آئے کہ اللہ کے پیغام کو واضح کریں، اس کی اصل تعلیمات کو دوبارہ سامنے لائیں اور اس کی تکمیل کریں۔

اسی وجہ سے اسلام کو ایک نیا دین نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے اسی پیغام کا تسلسل اور تکمیل سمجھا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے آنے والے تمام انبیاء لے کر آئے تھے: یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت اور اس کے حکم کے سامنے سر جھکا دینا۔

مسلمانوں کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت اور ان کا احترام ایمان کا حصہ ہے۔ ہم ان کی معجزاتی پیدائش، ان کے معجزات، ان کے پیغام اور ان کی دوبارہ آمد پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ کی آخری اور مکمل ہدایت حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے ذریعے آئی۔

آخر میں میں اپنے تمام مسیحی بھائیوں اور بہنوں کو نہایت ادب اور احترام کے ساتھ دعوت دینا چاہتا ہوں کہ وہ اسلام کے پیغام کو کھلے دل سے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر غور کریں۔ اسلام ہمیں ایک ہی خدا کی عبادت اور سچی اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی دعوت دیتا ہے۔

میں آپ سب کو بہت ادب اور اخلاص کے ساتھ دعوت دیتا ہوں کہ آپ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس حقیقی دین کو قبول کریں۔ اسلام دراصل اسی پیغام کا تسلسل ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء لے کر آئے تھے۔

اللہ ہم سب کو سچائی کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر 95

میمن برادری کی تاریخ: اسلام، ہجرت اور دعوت کی ایک خوبصورت داستان

میمَن برادری کی تاریخ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، تاہم مختلف تاریخی حوالوں اور تحقیقات کی روشنی میں اس کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق کئی صدیوں پہلے سندھ کے علاقے میں لوہانا قوم آباد تھی۔ اسی دور میں (تقریباً پندرہویں صدی میں) ایک عظیم اسلامی عالم اور بزرگ، حضرت پیر سید یوسف الدین رحمۃ اللہ علیہ، اس علاقے میں تشریف لائے۔ آپؒ نے اپنے حسنِ اخلاق، حکمت، محبت اور شفقت کے ذریعے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی۔

اللہ تعالیٰ نے آپؒ کی دعوت میں بے پناہ برکت عطا فرمائی۔ لوہانا قوم کے ایک سردار نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے خاندان اور قبیلے کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بھی اسلام کے لیے کھول دیا، اور رفتہ رفتہ پوری برادری اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد اس نو مسلم برادری کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آس پاس کی بعض ہندو برادریوں نے ان کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کر دیا، لیکن انہوں نے اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیا اور اسلام کو چھوڑنے کے بجائے ہر آزمائش کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔

ابتدائی دور میں اس نئی مسلم برادری کو "مومن" کہا جاتا تھا، یعنی ایمان والے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تلفظ میں تبدیلی آئی اور یہی نام "میمَن" بن گیا۔

جب حالات مزید دشوار ہوئے تو حضرت پیر سید یوسف الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مشورے پر میمَن برادری نے ہجرت کی۔ بعد میں یہ مختلف علاقوں میں آباد ہو گئی۔

جو لوگ کچھ کے علاقے میں آباد ہوئے وہ کچھی میمَن کہلائے۔ جو سندھ اور ٹھٹھہ میں آباد ہوئے وہ سندھی میمَن کہلائے، جبکہ جو خاندان کاٹھیاواڑ میں جا بسے وہ کاٹھیاواڑی میمَن کے نام سے مشہور ہوئے۔ اسی طرح دیگر خاندان بھی مختلف علاقوں میں آباد ہوتے گئے۔

یہ صرف ایک برادری کی تاریخ نہیں بلکہ اسلام کی دعوت کی برکتوں کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔

ایک مخلص داعیِ الی اللہ کی کوشش سے ایک شخص اسلام قبول کرتا ہے، پھر اس کا خاندان اسلام قبول کرتا ہے، اس کے بعد اس کا قبیلہ، اور بالآخر ایک پوری برادری اسلام کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

حضرت پیر سید یوسف الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے لیے اس سے بڑھ کر صدقۂ جاریہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آج لاکھوں میمَن اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں۔ اسی برادری سے بے شمار علماء، حفاظِ قرآن، مفتیانِ کرام، مشائخِ عظام اور دینِ اسلام کے خادم پیدا ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے میمَن برادری کو تجارت اور کاروبار میں بھی نمایاں کامیابیاں عطا فرمائیں۔ اس برادری نے اپنی دولت کو مساجد، مدارس، رفاہی اداروں اور دینِ اسلام کی خدمت کے لیے فراخ دلی سے خرچ کیا ہے۔

آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں آباد میمَن برادری اپنی دیانت داری، سخاوت، خدمتِ خلق، فلاحی کاموں اور دینِ اسلام سے وابستگی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔

اس تاریخ میں ہمارے لیے ایک عظیم سبق موجود ہے کہ اسلام کی دعوت دینا صدقۂ جاریہ کی سب سے بڑی صورتوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

ایک مخلص دعوت شاید صرف ایک شخص کی زندگی بدل دے، لیکن پھر اس شخص کی اولاد، آنے والی نسلوں اور ان کے نیک اعمال کا اجر بھی اس شخص کے نامۂ اعمال میں شامل ہوتا رہتا ہے جس نے اسے اسلام کی طرف رہنمائی دی تھی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کے پھیلانے، اسلام کی خدمت کرنے اور انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

تحریر 96

کربلا کا پیغام — حق پر ثابت قدمی

واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی داستان نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ پیغام اور ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر شخص کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر کربلا کو صرف دوسروں پر منطبق کرتے ہیں، دوسروں کو یزید اور شمر قرار دیتے ہیں، مگر کبھی اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتے کہ کہیں ہم خود بھی کسی باطل قوت کو خوش کرنے کے لیے حق کا سودا تو نہیں کر رہے؟

شمر اور ابنِ زیاد نے یزید کی خوشنودی، اس کے اقتدار اور اپنے دنیاوی مفادات کی خاطر تاریخ کا ایک ایسا جرم کیا جسے قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی ایسا نہیں ہو رہا؟ کیا ہم اپنے عہدوں، نوکریوں، کاروباروں، شہرت، تعلقات یا دنیاوی فوائد کے لیے حق کو قربان نہیں کر دیتے؟ کیا ہم کبھی لوگوں کی تعریف، مالکان کی خوشنودی یا کسی بااثر شخصیت کی رضا حاصل کرنے کے لیے سچ کو چھپا نہیں لیتے؟

کربلا ہمیں دوسروں پر فتوے لگانے سے پہلے اپنا احتساب کرنا سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ باطل ہمیشہ تلوار لے کر سامنے نہیں آتا، بعض اوقات وہ مفاد، لالچ، خوف، عہدے اور دنیاوی فائدے کی صورت میں بھی آتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے یا مخلوق کی خوشنودی کو۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان کی پہلی وفاداری اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اپنے کاروبار میں، اپنی ملازمت میں، اپنے فیصلوں میں، اپنے تعلقات میں اور اپنی پوری زندگی میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کی رضا کس میں ہے۔ اگر کوئی حکم شریعت کے خلاف ہو، اگر کوئی مطالبہ حق کے خلاف ہو، تو اسے ماننا ضروری نہیں، چاہے وہ کسی طاقتور شخص کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔

کربلا کا پیغام یہ نہیں کہ صرف یزید کو برا کہا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حسینؓ کی طرح حق پر ثابت قدم رہا جائے۔ حق پر ڈٹے رہنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب باطل طاقتور ہو اور حق والے تعداد میں کم ہوں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کامیابی ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، خواہ وقتی طور پر باطل کتنا ہی غالب کیوں نہ نظر آئے۔

آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے: کیا ہم اللہ کی رضا کے لیے زندہ ہیں یا لوگوں کی رضا کے لیے؟ کیا ہم حق کا ساتھ دیتے ہیں یا اپنے مفادات کا؟ کیا ہم حسینؓ کے راستے پر ہیں یا کہیں انجانے میں کسی یزید کی خوشنودی کے لیے حق کو نظر انداز کر رہے ہیں؟

کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق پر ڈٹ جاؤ، چاہے قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو فرما دیتا ہے۔

تحریر 97

قرآن کا ترجمہ و تفسیر ہر گھر میں — ایک ضروری اپیل

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنے بچوں کو کالج، یونیورسٹی اور اعلیٰ دنیاوی تعلیم دلوائیں گے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل اعلیٰ تعلیم قرآن کی تعلیم ہے، مگر افسوس کہ اسی طرف ہماری توجہ سب سے کم ہے۔

یہ بھی حقیقتاً بہت شرمندگی کی بات ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں MBBS، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ شعبوں کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، سالوں تک ان کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کے اصول سیکھتے ہیں، ان کی تحقیق پڑھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہی کتابوں سے ہمیں کامیاب زندگی کے اصول ملیں گے۔ حالانکہ یہ سب مخلوق کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں۔

لیکن دوسری طرف ہمارے خالق نے جو کتابِ ہدایت، دستورِ زندگی اور کامیابی کا اصل قانون قرآنِ مجید کی صورت میں عطا کیا، ہم نہ اسے وقت دیتے ہیں نہ اس کو سمجھ کر پڑھتے ہیں، بلکہ صرف عربی تلاوت تک محدود رہ جاتے ہیں جس زبان کو آج ہم سمجھ نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمارے گھروں میں موجود تو ہے مگر ہمارے کردار و فیصلوں میں نمایاں نہیں ہے۔

قرآن کا ہم پر حق ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک بار اسے ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ سمجھ کر پڑھا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا فضل ہے کہ آج علماء کرام نے قرآنِ کریم کو آسان، سادہ اور عام فہم اردو میں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔ پرانی تفاسیر یقیناً علمی خزانہ ہیں مگر ان کی زبان عام افراد کے لیے کچھ مشکل محسوس ہوتی ہے۔ آج کے دور میں ایسے تراجم اور تفاسیر موجود ہیں جو ہر شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔

اسی سلسلے میں مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی تفسیر "آسان ترجمہ قرآن" انتہائی مفید، جامع، آسان فہم اور تحقیقی بنیادوں پر مرتب کردہ تفسیر ہے۔ میں نے خود اس کا مطالعہ کیا ہے اور الحمدللہ بے حد فائدہ اٹھایا۔

میری دل کی گہرائیوں سے گزارش ہے کہ اس تفسیر کو اپنے گھر میں ضرور رکھیں اور فرصت کے ساتھ اس کا مطالعہ ضرور کریں۔

تحریر 98

موت سے پہلے موت کی تیاری کرلو

ہر گزرتا لمحہ ہمیں زندگی سے دور اور موت کے قریب لے جا رہا ہے۔

اس لیے موت آنے سے پہلے موت کی تیاری کرلیں۔

موت کی تیاری دنیا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزارنا ہے۔ نماز، توبہ، نیک اعمال اور حقوق العباد کی فکر کریں۔

وقت گزر رہا ہے، عمر کم ہو رہی ہے، اور آخرت قریب آ رہی ہے۔

تحریر 99

موت کا سفر

زندگی ہر پل موت کا سفر ہے۔ ہر آن، ہر گھڑی ہم اس دنیا سے دور اور موت کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ ہمارے جسموں کو دوسروں کے حوالے کر دیا جائے گا، ہمیں کفن پہنایا جائے گا، ہمارے جنازے اٹھیں گے اور آخرکار ہمیں قبر کے سپرد کر دیا جائے گا۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:

عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے، اور نادان وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لگا دے اور پھر اللہ سے امیدیں رکھے۔
(سنن ترمذی: 2459، سنن ابن ماجہ: 4260)

مگر آج ہماری بھاگ دوڑ، ہماری ساری مصروفیت صرف دنیا کے پیچھے ہے۔ ہم مال کمانے، دولت جمع کرنے اور دنیا بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کاروبار، فیکٹریاں، جائیدادیں اور دنیا کا پورا نظام ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، مگر اچانک موت کی ایک آہٹ آتی ہے اور یہ سارا نظام، یہ مال و دولت، یہ شان و شوکت سب دھرم بھرم ہو کر رہ جاتی ہے۔

اصل دانائی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہی اپنی موت کی تیاری کریں۔ موت کی تیاری یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو گناہوں سے محفوظ رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق گزاریں۔ یہ جھوٹ، یہ دھوکہ دہی، یہ حرام خوری اور ناانصافی کے ذریعے اگرچہ مال تو بن جاتا ہے، مگر ایسا مال نہ دل کو سکون دیتا ہے اور نہ ہی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔ یاد رکھیں، آنکھیں بند ہونے کے بعد ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر جواب دینا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہماری زندگی میں نمازوں کی پابندی ہو، فرائض کی ادائیگی ہو اور گناہوں سے بچنے کی سچی کوشش ہو۔ جب زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے طریقے کے مطابق گزرتی ہے تو یہ دنیا بھی خوبصورت بن جاتی ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے۔

جتنے بھی انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے، سب نے انسان کو موت کو یاد دلایا اور موت کی تیاری کا پیغام دیا۔ سب نے یہی سکھایا کہ ہمیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے۔

حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اب اس امت کے ذمے ہے کہ وہ پوری دنیا میں دین کی سربلندی کا کام کرے۔ ہماری زندگی کا مقصد صرف مال کمانا اور دنیا بنانا نہ ہو، بلکہ دین کی سربلندی کی محنت ہو—وہ محنت جو ہمیں دنیا میں بھی سرخرو کرے اور آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ بنے۔

کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو قبر میں بھی کام آئے گا،

اور یہی وہ کامیابی ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔

Read Anmol Tehreerain | Mohsin Moten