تحریر 1
اللہ سے دوستی کرو، پھر دنیا کے سہاروں کی ضرورت نہیں رہے گی
اللہ سے دوستی کرو — اس تحریر کو آخر تک ضرور پڑھیں، یہ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے
ہم دنیا میں تعلقات بناتے ہیں۔
کسی بڑے آدمی سے تعلق ہو جائے تو خوش ہوتے ہیں، کسی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر یا بادشاہ سے شناسائی ہو جائے تو اسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں:
میرا فلاں بڑے آدمی سے تعلق ہے، میرا فلاں بااثر شخص سے رابطہ ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ جس کا تعلق طاقتور لوگوں سے ہوگا، اس کے مسائل آسانی سے حل ہوں گے۔
مگر کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر بادشاہوں کے بادشاہ سے تعلق بن جائے تو؟
اگر اُس ذات سے دوستی ہو جائے جو پوری کائنات کی مالک ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں بادشاہتیں بھی ہیں، خزانے بھی، عزت بھی، ذلت بھی، زندگی بھی اور موت بھی۔
بس اللہ سے دوستی کر لو۔
جب بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے لیے مشکل راستوں میں بھی آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ اور جب بندہ اللہ سے اپنا تعلق توڑ لیتا ہے تو کبھی کبھی تمام ظاہری اسباب موجود ہونے کے باوجود وہ مشکلات، بے چینی اور پریشانی میں گھرا رہتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مال آئے گا، بڑی گاڑی ہوگی، خوبصورت گھر ہوگا، کاروبار بڑھے گا، عہدہ ملے گا، شہرت آئے گی تو دل کو سکون مل جائے گا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکون چیزوں میں نہیں، اللہ کے تعلق میں ہے۔
دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال بھی ہے، دولت بھی ہے، عہدے بھی ہیں، اختیار بھی ہے، محلات بھی ہیں، بادشاہت بھی ہے، مگر دل بے چین ہے۔
اور کتنے اللہ والے ایسے گزرے ہیں جن کے پاس دنیا کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں تھا، مگر ان کے دل اللہ کی محبت سے آباد تھے۔
ذرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیے۔
وہ وقت آیا جب انہیں آگ میں پھینکا گیا۔ ظاہری اعتبار سے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے؟ آگ کے شعلے، انگارے اور موت سامنے کھڑی ہے۔
لیکن جب تعلق اللہ سے ہو تو آگ بھی اللہ کے حکم کی پابند ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ﴾
ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔
(سورۃ الانبیاء: 69)
جس اللہ سے تعلق ہو، وہ آگ کے اندر بھی سکون عطا فرما سکتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھیے۔
کبھی بھائیوں کی طرف سے ظلم، کبھی کنویں کی تنہائی، کبھی غلام بنا کر فروخت کیے جانے کا مرحلہ، کبھی جیل کی قید۔
مگر اللہ سے تعلق قائم رہا تو یہی یوسف علیہ السلام آخرکار عزت، اقتدار اور کامیابی کے مقام تک پہنچے۔
اور دوسری طرف فرعون کو دیکھیے۔
مال بھی تھا، طاقت بھی تھی، اقتدار بھی تھا، بادشاہت بھی تھی، لشکر بھی تھے۔ مگر اللہ سے تعلق نہیں تھا بلکہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جس بادشاہت پر اسے ناز تھا، وہ اسے نہ بچا سکی۔
دنیا کی تاریخ میں آج بھی فرعون کا نام آتا ہے تو عزت سے نہیں بلکہ عبرت، تکبر اور رسوائی کی علامت کے طور پر آتا ہے۔
اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھیے۔
دنیا کی نظر میں وہ ایک غلام تھے۔ نہ مال، نہ محل، نہ بادشاہت، نہ دنیوی اختیار۔
لیکن اللہ سے تعلق جڑ گیا، رسول اللہ ﷺ کی غلامی نصیب ہوئی، ایمان پر ثابت قدم رہے۔
وہی بلالؓ جنہیں دنیا کا کوئی بڑا عہدہ حاصل نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی عزت عطا فرمائی کہ قیامت تک ان کا نام عزت سے لیا جائے گا۔
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا کہ آپ کے جوتوں کی آہٹ جنت میں آپ کے آگے آگے سنائی دیتی ہے۔
بلالؓ کے پاس دنیوی اعتبار سے کچھ نہ تھا، مگر اللہ تھا۔
اور آج دنیا میں ہزاروں، لاکھوں مسلمان محبت سے اپنے بچوں کا نام بلال رکھتے ہیں۔
لیکن کیا کوئی مسلمان اپنے بیٹے کا نام فرعون رکھنا پسند کرے گا؟
فرق کیا تھا؟
بلالؓ کے پاس دنیا نہیں تھی، مگر اللہ تھا۔
فرعون کے پاس دنیا تھی، مگر اللہ نہیں تھا۔
یہی اصل فرق ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مال برا نہیں، چیزیں بری نہیں، عہدہ برا نہیں، کاروبار برا نہیں، بادشاہت بری نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ہمارے دل میں کہاں کھڑے ہیں؟
اگر مال ہاتھ میں ہے اور اللہ دل میں ہے تو مال نعمت ہے۔
لیکن اگر مال دل میں آ گیا اور اللہ دل سے نکل گیا تو وہی مال انسان کے لیے آزمائش بن جاتا ہے۔
ہم لوگوں سے تعلق بنانے میں بہت محنت کرتے ہیں۔
کسی ایم این اے سے تعلق ہو تو فخر کرتے ہیں۔
کسی ایم پی اے سے تعلق ہو تو بتاتے ہیں۔
کسی وزیر سے رابطہ ہو تو اسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔
کسی بادشاہ سے شناسائی ہو تو خوش ہوتے ہیں۔
مگر ذرا سوچیے...
اگر ہمارا تعلق اُس ذات سے بن جائے جو بادشاہوں کا بھی بادشاہ ہے تو؟
دنیا کا بادشاہ آج تخت پر ہوتا ہے، کل تخت سے اتر جاتا ہے۔
آج لوگ سلام کرتے ہیں، کل لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
آج عزت ہوتی ہے، کل رسوائی ہو سکتی ہے۔
مگر اللہ کی بادشاہت ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
وہ الملک ہے۔
وہی عزت دینے والا ہے، وہی ذلت سے بچانے والا ہے۔
وہی مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔
وہی دلوں کو سکون دینے والا ہے۔
اسی لیے قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
(سورۃ الرعد: 28)
تو پھر کیوں نہ ہم اپنی سب سے بڑی دوستی اللہ سے کر لیں؟
اللہ سے دوستی کرو۔
اپنی نمازوں کے ذریعے۔
اپنے ذکر کے ذریعے۔
قرآن کے ذریعے۔
توبہ کے ذریعے۔
رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر چلنے کے ذریعے۔
اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے۔
اور اپنے دل کو اللہ کی محبت سے آباد کرکے۔
پھر دیکھو...
راستے وہی ہوں گے، مگر چلنے والا بدل جائے گا۔
آزمائشیں وہی ہوں گی، مگر دل کا حوصلہ بدل جائے گا۔
مصیبتیں آئیں گی، مگر یقین ہوگا کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔
دنیا کے سہارے چھوٹ سکتے ہیں، مگر اللہ کا سہارا کبھی نہیں چھوٹتا۔
دنیا کے دروازے بند ہو سکتے ہیں، مگر اللہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
دنیا کے بادشاہ بدل سکتے ہیں، مگر اللہ کی بادشاہت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
اس لیے دنیا کے بڑے لوگوں سے تعلق بنانے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرو۔
کیونکہ جس کا تعلق اللہ سے بن جائے، اسے دنیا کے سہاروں کی محتاجی نہیں رہتی۔
مال میں کامیابی نہیں، اللہ کے تعلق میں کامیابی ہے۔
چیزوں میں سکون نہیں، اللہ کی یاد میں سکون ہے۔
عہدوں میں عزت نہیں، اللہ کی اطاعت میں عزت ہے۔
اور دنیا کی بادشاہت میں نجات نہیں، اللہ کی بندگی میں نجات ہے۔
اللہ سے دوستی کرو۔
پھر ممکن ہے کہ دنیا تمہیں کچھ نہ دے، مگر اللہ تمہیں وہ عطا فرما دے جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی:
دل کا سکون، زندگی کی برکت، آخرت کی کامیابی اور ہمیشہ کی عزت۔